Maulana Wahiduddin Khan
17 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Eik Aalim-e-Rabbani wo Hama jihat Shakhsiat

Urdu · 17 min

ایک عالمِ ربانی و ہمہ جہت شخصیت، پروفیسر ظہیر الدین خواجہ، رائیچور، کرناٹک۔ محترم مولانا وحید الدین خان صاحب سے میں 3 دہائی قبل، 1989 عیسوی میں، اپنے ایک رفیق کے توسط سے واقف ہوا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جبکہ ہمارے شہر میں ماہنامہ "رسالہ" پڑھا جانے لگا تھا، اور شہر رائیچور، کرناٹک میں "فکر الرسالے" سے وابستگان کا حلقہ بھی وجود میں آ چکا تھا۔ اُس وقت حلقہ الرسالہ رائیچور کے روحِ رواں شہاب الدین صاحب تھے؛ اُن سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوا کرتی تھی۔

الرسالے سے وابستہ افراد اپنے فرصت کے اوقات میں مل بیٹھتے؛ اِن ملاقاتوں میں عام طور پر ماہنامہ "الرسالے" کے مضامین پر گفتگو ہوتی، مولانا کے افکار و دیگر علمائے کرام کے علمی کام کا تقابل کیا جاتا۔ اس طرح میری مولانا کی فکر سے واقفیت اور ذہنی وابستگی بڑھتی چلی گئی۔ مولانا وحید الدین خان سے تعارف ہوئے ایک دو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ اُن سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ دسمبر 1990 عیسوی کے آخری ہفتے میں، مجھے ایک تعلیمی سفر کے سلسلے میں ایک ہفتے کے لیے نئی دہلی جانے کا موقع مل گیا۔

اس سفر کے دوران میں نے مولانا سے ملاقات کا پروگرام بنا لیا۔ غالباً جنوری 1991 کی 2 یا 3 تاریخ رہی ہوگی۔ میں مولانا سے ملنے اُن کے رہائشی علاقے نظام الدین ویسٹ گیا۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مولانا گھر ہی پر ہیں اور ملاقات کی اجازت بھی مل گئی ہے، حالانکہ میں نے ملاقات کے لیے پہلے سے اُن سے وقت نہیں لیا تھا۔

میں سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر کی منزل پر پہنچا، جہاں مولانا رہا کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوئی کہ میرے استقبال کے لیے مولانا پہلے سے دروازے پر کھڑے تھے۔ اُس وقت میری عمر 21 سال تھی۔ سلام و دعا کے بعد میں اُن کے ہمراہ فرش پر بچھی ہوئی چادر پر بیٹھ گیا۔

تقریباً 1 گھنٹہ مولانا سے گفتگو ہوتی رہی۔ اب مجھے مکمل گفتگو تو یاد نہیں، البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ مولانا نے مجھ سے تعارف کے بعد مختلف سوالات کیے تھے، مثلاً: "الرسالے" سے آپ کیسے واقف ہوئے؟ شہر رائیچور میں کتنے احباب اس فکر سے جڑے ہوئے ہیں؟ "الرسالے" کی کتنی کاپیاں آپ کے یہاں آتی ہیں؟

جہاں تک مجھے یاد ہے، مولانا نے مجھ سے پوچھا تھا: "کیا آپ جانتے ہیں 'الرسالے' کا مقصد کیا ہے؟ " میں نے فوراً جواب دیا: "آخرت اور دعوت۔ " میرے جواب سے خوش ہو کر فرمایا کہ اس کے علاوہ "الرسالے" کا ایک اور مقصد بھی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو باشعور بنانا۔ یہ تھی مولانا سے میری پہلی ملاقات کی مختصر روداد۔

یہ تو ایک رسمی ملاقات تھی، اور اس سے کسی کی شخصیت کو سمجھنا کہاں ممکن ہو سکتا ہے؟ جیسے جیسے مولانا کی کتابوں کا مطالعہ کرتا گیا، ویسے ویسے یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ اتنی گہرائی سے قدیم و جدید علوم کا مطالعہ، اور اُن کا اتنا عمیق تجزیہ پڑھ کر ایسا لگا کہ مومنانہ فراست کی اس سطح سے واقعات اور تاریخ کو دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے، جس کو حدیث میں "ربانی نور سے دیکھنا" کہا گیا ہے۔ فطرت اور حقائق کا ایسا بیان مشکل سے کہیں دیکھنے کو ملے گا۔ مولانا کو اپنے لطیف احساسات کو زبان دینے کا ملکہ حاصل تھا۔

مختصر الفاظ، رواں تحریر، فکر میں وضوح، مدلل اور عصری اسلوب نگارش—ایک بار جو مولانا کو پڑھتا، اُس کے بعد دوسرے مصنفین کو پڑھنا اُس کے لیے مشکل ہو جاتا۔ ایک عرصے تک مولانا کے افکار کی ترویج کا طریقہ "الرسالہ" اور دیگر کتب کی اشاعت ہی تک محدود رہا۔ تشنگانِ علم کو اسی پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ 2001 عیسوی میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے قیام کے بعد پہلی بار مولانا کی آڈیو اور ویڈیو انٹرنیٹ پر دستیاب ہونے لگی۔

اُن کو سننے کے بعد یہ احساس تازہ ہوا کہ تحریر کا دامن کتنا تنگ ہے۔ مولانا کی شخصیت و علم کے کئی گوشے جو تحریر میں سما نہ سکے، وہ پہلی مرتبہ اب آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ہم تک پہنچ رہے ہیں۔ ابھی اس احساس سے نکل ہی پایا تھا کہ کچھ ایسے احباب سے ملنے کا اتفاق ہوا جنہیں مولانا کی صحبت میں طویل عرصہ رہنے کا موقع ملا تھا۔ اُن کے مشاہدات سن کر ایسا لگا کہ مولانا کی شخصیت نہ تو تحریر میں سما سکی ہے اور نہ تقریر میں۔

اس پر میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ تحریریں پڑھ کر آپ مولانا کی صرف نصف شخصیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ کاش ہم لوگ مولانا کی قدر کرتے اور اپنے آپ کو اس "سائنٹیفک صوفی" کی تربیت میں دیتے، تو شاید ہمیں بہت کچھ اور بھی سیکھنے کا موقع ملتا۔ واضح ہو کہ یہ بیانِ واقعہ ہے، یہ کوئی شخصیت پرستی کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ شخصیت سازی کا مسئلہ ہے۔ اصل المیہ ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم کسی نہ کسی درجے میں بے روح اور رسمی سطح پر باقی رہا۔

مگر ہمارا نظامِ تربیت نہ صرف باقی نہ رہا، بلکہ اس کی اہمیت و افادیت بھی ذہنوں سے محو ہوتی چلی گئی۔ جس کی وجہ سے آج ہم نہ صرف اخلاقی بحران کا شکار ہیں، بلکہ زوال اور پستی کی طرف ہمارا سفر مسلسل گامزن ہے۔ اور اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، سوائے تربیت کے۔ مگر افسوس، اب تو قحط الرجال کا دور ہے۔

ایسے افراد اب بمشکل ہی ملیں گے جن کی صحبت میں رہ کر آدمی اپنی تربیت کا کوئی سامان کر سکے۔ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لیے صرف کتابیں نہیں اتاریں، بلکہ تربیت کی۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک انسان کو پیغمبر اور ہادی بنا کر اس ذمہ داری کے ساتھ بھیجا کہ وہ تعلیمِ کتاب و حکمت کے ساتھ ساتھ اہلِ ایمان کی لازماً تربیت، یعنی تزکیہ بھی کرے۔ چونکہ انسان صرف ذہن کا نام نہیں ہے، بلکہ انسان ذہن اور وجود دونوں کا مجموعہ ہے۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں ہمارے ہاں جو تعلیمی نظام بنا، اس میں تربیت کو پوری اہمیت کے ساتھ باقی رکھا گیا، بلکہ خانقاہی نظام میں صوفیا نے تو تربیت کو تعلیم پر ہمیشہ مقدم رکھا۔ سالک کی تربیت پہلے ہوتی تھی اور تعلیم بعد میں۔ اور تربیت کے لیے صحبت لازمی شرط ہے۔ تربیت سے جی چرانے کے لیے موجودہ دور میں ہم نے شخصیت پرستی جیسے خوبصورت الفاظ بھی تراش لیے ہیں۔

اور علماء سے استفادہ کرنے کو ہم نے صرف ذہنی سطح تک ہی محدود رکھ کر ایک طرح کے "انٹلیکچول انٹرٹینمنٹ" کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ کچھ ایسے ہی تربیتی پہلو جو 2013 عیسوی سے 2015 عیسوی کے درمیانی عرصے میں منعقد ہونے والے مختلف دعویٰ میٹس میں شرکت کے بعد براہِ راست میرے تجربے، مشاہدے اور علم میں آئے، انہیں میں یہاں ذکر کرنا چاہوں گا۔ نمبر 1: سی پی ایس کی ایک کانفرنس میں مولانا نے تمام شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی کے دل میں ذرہ برابر بھی دوسروں کے لیے کوئی منفی احساس، یعنی نیگیٹیوٹی، موجود ہے تو ایسا شخص ہمارے مشن کا ساتھی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ آخرت میں کسی کے خلاف میرا کوئی مقدمہ نہیں ہوگا۔

جن لوگوں نے بھی میرے خلاف لکھا، بے بنیاد الزامات لگائے، مجھے بدنام کیا، جو کچھ بھی میری مخالفت میں کیا، سب کو میں نے اسی دنیا میں معاف کر دیا۔ نمبر 2: ایک صاحب کا انتقال ہوا جو مولانا کی شدید مخالفت کیا کرتے تھے۔ اس خبر کو سن کر مولانا رونے لگے۔ ایک ساتھی نے حیرت سے کہا کہ اپنے مخالف کے انتقال کی اطلاع پر آپ کا رونا ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔

کہنے لگے: "یہ سوچ کر رو رہا ہوں کہ میرے پاس تو کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس کی وجہ سے خدا میری مغفرت کر دے۔ ہاں مگر ان لوگوں نے مجھے جتنا ستایا ہے، شاید اس پر خدا کو رحم آ جائے اور وہ فرشتوں سے کہے کہ میرے اس کمزور بندے کو دنیا میں بہت ستایا گیا، مگر اس نے جواب میں صرف صبر کیا، لہٰذا آج میں نے اس کی مغفرت کر دی۔ " نمبر 3: حیدرآباد دعویٰ میٹ کا واقعہ ہے۔ شام کی نشست کے لیے اوپر کے ہال کی طرف سیڑھیوں سے جا رہے تھے۔

میں مولانا کے پیچھے ہی چل رہا تھا۔ داہنی طرف دیوار پر گلوب کا بڑے سائز کا پوسٹر لگا ہوا تھا۔ چلتے چلتے رک گئے اور پیچھے میری طرف مڑ کر کہا: "یہ نقشہ دیکھ رہے ہو؟ " اس طرح دنیا کا نقشہ کسی صحابی کو معلوم نہ تھا۔

جتنی دنیا کو وہ جانتے تھے، وہاں تک انہوں نے خدا کے دین کو پہنچایا۔ مگر آج ہم کو پوری دنیا معلوم ہے۔ ایک ایک گاؤں اور ایک ایک شہر معلوم ہے کہ وہ اس نقشے میں کہاں ہے، اور وہاں کتنے انسان رہتے ہیں۔ یہ معلومات ہماری ذمہ داری کو یاد دلانے کے لیے ہیں۔

یعنی ہم کو گلوبل سطح پر دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے، تاکہ ہر انسان تک خدا کا پیغام پہنچ جائے۔ نمبر 4: ایک مجلس میں کہا: "نماز بااعتبار فارم 5 مرتبہ مطلوب ہے، اور بااعتبار اسپرٹ ہر وقت 24 گھنٹے مطلوب ہے۔ " جو لوگ حدیث کا انکار کرتے ہیں، وہ دراصل نماز کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ نماز کی تفصیلات قرآن میں نہیں، حدیث میں ملتی ہیں۔ نمبر 5: حیدرآباد دعویٰ میٹ سے واپسی کے بعد فیاض الدین عمری صاحب کا فون آیا کہ مولانا مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

میں حیران رہ گیا۔ اس وقت تک مولانا سے کبھی فون پر بات کرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اگلی آواز مولانا کی تھی۔ سلام دعا کے بعد پوچھا: "آپ حیدرآباد دعویٰ میٹ میں شریک تھے؟

" میں نے کہا: "جی، میں شریک تھا۔ " اور میں نے مزید بتایا کہ ہم لوگ بہت جلد شہر رائیچور میں ایک سینٹر کھولنے والے ہیں، تاکہ منظم سطح پر کام کر سکیں۔ اس پر مولانا نے کہا: "یاد رکھیے، اگر سینٹر چلانا ہے تو ہرگز کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں مانگنا۔ اور اگر کوئی خود سے بن مانگے دے دے تو انکار نہیں کرنا۔

اس اصول پر چلانا ہے تو سینٹر کھولیں، ورنہ نہیں۔ " نمبر 6: بنگلور دعویٰ میٹ کے موقع پر ایک غیر رسمی نشست میں کہا کہ اس دعوتی مشن کو ایسے لوگ درکار ہیں جو آخری حد تک بے نفس ہوں۔ مثلاً اگر کوئی ساتھی اس پروگرام میں شرکت کے لیے یہاں آئے اور کوئی بھی اس کا استقبال نہ کرے، نہ کوئی کھانے کے لیے بلائے، نہ رہنے اور سونے کا کوئی انتظام کرے، یہاں تک کہ کوئی بات بھی نہ کرے، ان سب وجوہات کے باوجود اس کے دل میں کسی بھی ساتھی کے خلاف نہ کوئی منفی سوچ آئے اور نہ کوئی شکایت پیدا ہو۔ ایسے ساتھی ہمیں چاہیے۔

اپنے آپ کو ایسا بنائیے، تب جا کر آپ اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔ نمبر 7: بنگلور میں جہاں پروگرام منعقد ہو رہا تھا، اس جگہ کا نام "وِستار" تھا۔ انہوں نے ایک بلی پال رکھی تھی جو کہ بہت زیادہ لحیم شہیم تھی، تقریباً 20 کلو کی رہی ہوگی، اور کسی کے پاس نہ آتی تھی۔ ان لوگوں نے بتایا کہ یہ کسی اجنبی کے پاس نہیں جاتی۔

دوسرے دن ایسا ہوا کہ مولانا کے کمرے میں آئی، وہاں کئی ساتھی بیٹھے مولانا سے گفتگو کر رہے تھے، مگر کسی کے پاس نہیں گئی۔ سیدھے مولانا کی گود میں جا بیٹھی اور سو گئی۔ مولانا خاموش بیٹھے رہے اور کہا کہ اب میں اس کی نیند میں خلل نہیں ڈالوں گا جب تک یہ خود سے بیدار نہیں ہو جائے گی۔ ویسے ہی بلا حرکت بیٹھے رہے۔

نمبر 8: بنگلور دعویٰ میٹ میں مولانا کا خطاب ہونے والا تھا۔ نشست کی تیاری چل رہی تھی۔ میز پر پانی رکھا ہوا تھا۔ گلاس اٹھا کر مولانا نے تھوڑا پانی پیا اور گلاس واپس میز پر رکھا۔

ہمارے ایک ساتھی محمد صلاح الدین رائیچور نے فوراً گلاس اٹھایا اور دوبارہ بھر کر رکھا۔ مولانا نے انہیں قریب بلا کر پوچھا: "گلاس میں پانی بچا ہوا تھا، اسے پھینکا تو نہیں؟ " انہوں نے کہا: "نہیں، اسی میں مزید پانی بھر کر لایا ہوں۔ " بولے: "آپ نے ٹھیک کیا۔

پانی خدا کی عظیم نعمت ہے۔ ہم ایک قطرہ پانی بنا نہیں سکتے، لہٰذا ہمیں استعمال کرنے کا حق تو ہے، پر ایک قطرہ بھی ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ " نمبر 9: کچھ مشن کے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنا واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ مولانا سے ملنے گئے، گفتگو کے درمیان کھجور پیش کیے گئے۔

ہم سب نے کھائے۔ گفتگو کے بعد کل دوبارہ ملنا طے ہوا اور ہم اپنی رہائش گاہ واپس آ گئے۔ دوسرے دن ہم مقررہ وقت پر پہنچے تو پتہ چلا مولانا ہم لوگوں سے سخت ناراض ہیں اور ملنے سے انکار کر دیا۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔

بہت معذرت کے بعد اجازت ملی تو فرمایا: "کچھ پتہ بھی ہے کہ آپ لوگوں نے کل کیا حرکت کی؟ " ہم نے کہا کہ ہمیں کچھ یاد نہیں۔ کل کھجور کھا کر آپ لوگوں نے گٹھلیاں ادھر ادھر رکھ کر چلے گئے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں، اس طرح کے لوگوں کو جنت میں بسایا جائے گا؟

بلکہ ایسے لوگ شاید جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں گے۔ جنت انتہائی درجے کی صاف ستھری اور پاک جگہ ہوگی، اور وہاں انہی لوگوں کو بسایا جائے گا جو اپنے ظاہر اور اپنے باطن دونوں اعتبار سے انتہائی نفاست پسند لوگ ہوں گے۔ یاد رہے، غیر شعوری طور پر بھی ایسا کرنا قابلِ معافی نہ ہوگا۔ ان چھوٹے چھوٹے سماجی آداب کو معمولی مت سمجھیں، بلکہ اپنے لاشعور کو اس قدر ٹرین کریں کہ غیر شعوری طور پر بھی آپ سے ایسی حرکت نہ ہونے پائے۔

نمبر 10: بنگلور میں ایک روز فجر کے بعد خطاب فرمایا اور الحمدللہ رب العالمین کی تشریح کی۔ اس سے زندگی میں پہلی بار سمجھ میں آیا کہ خدا کی حمد اور شکر میں جینا کسے کہتے ہیں۔ یہ صرف 10 نکات ہیں جو میں نے یہاں پیش کیے ہیں، اور اس احساس کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ ہم نے تو مولانا کی قدر نہ کی۔ ہو سکتا ہے بعد میں آنے والے کو اس میں کوئی کام کی بات مل جائے۔

کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 32۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.