← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Wahiduddin Khan
Urdu · 12 min
مولانا وحید الدین خاں، ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، ڈین آف کیمبرج اسلامک کالج۔ ابھی خبر ملی کہ آج بروز چہارشنبہ، 9 رمضان المبارک 1442 ہجری مطابق 21 اپریل 2021، ہندوستان کے معروف اسلامی مفکر و مصنف مولانا وحید الدین خان کا 96 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ کئی دہائیوں سے برصغیر میں ان کی انفرادیت مسلم تھی؛ وہ تقلید، قدامت پسندی اور اکابر پرستی سے دور تھے، مجتہدانہ اور محققانہ شان کے حامل تھے، اور ان کو تخلیق و اجتہاد سے دلچسپی تھی۔ وہ "نہیں" کو "ہے" میں بدلنے کے قائل تھے، اور اس کے لیے ہر قسم کی جدوجہد کرتے۔
یہ انہی کا قول ہے: "جو لوگ تخلیق کی صلاحیت کھو دیں، وہ کسی اور چیز کے ذریعے یہاں اپنا مقام نہیں پا سکتے، خواہ وہ کتنا ہی شور و غل کریں، خواہ ان کے فریاد و احتجاج کے الفاظ سے تمام زمین و آسمان گونج اٹھیں۔ " وہ لاؤڈ اسپیکروں کا شور تو برپا کر سکتے ہیں، مگر وہ استحکام کا خاموش قلعہ کبھی کھڑا نہیں کر سکتے۔ کتابِ زندگی، صفحہ 11۔ مولانا کی پیدائش اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی؛ مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں تعلیم پائی، ذاتی محنت سے انگریزی میں 10 ترس حاصل کی، اور علومِ جدیدہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء میں قیام کے دوران اپنی سب سے معرکۃ الاعراب کتاب "مذہب اور جدید چیلنج" تصنیف کی، جو مجلس تحقیقات و نشریات اسلام سے 1966 عیسوی میں شائع ہوئی، اور اس کا عربی ترجمہ "الاسلام يتحدى" کے نام سے کویت سے 1970 عیسوی میں تبع ہوا۔ جماعت اسلامی سے وابستہ رہے؛ جمعیت علمائے ہند کے ہفت روزہ الجمعیہ میں کچھ سالوں کام کیا، پھر سب سے الگ ہو کر اپنی منفرد شناخت بنائی، اور مثبت تحریروں کے ذریعے فکر اسلامی کے ارتقا میں حصہ لیا۔ ندوے کی طالب علمی سے میں الرسالے کا قاری رہا ہوں، اور ہمیشہ مولانا کے مضامین بڑے شوق سے پڑھتا۔ مولانا ریڈرز ڈائجسٹ اور انگریزی اخبارات اور مجلات سے چھوٹی کہانیوں کو لے کر ان سے بہترین نتیجہ نکالتے تھے۔
مولانا سے پہلی ملاقات نظام الدین میں ان کے گھر پر 1983 عیسوی میں ہوئی؛ وہ ابھی جلد ہی وہاں منتقل ہوئے تھے۔ اس وقت وہ زیادہ تر نمازیں مرکز نظام الدین میں ادا کرتے تھے، اور تبلیغی جماعت کی افادیت کے قائل تھے۔ بعد میں تبلیغ کے متعلق ان کی رائے بدل گئی تھی۔ اس ملاقات میں ان سے ایک خاص تعلق ہو گیا تھا؛ پھر جب بھی دلی جانا ہوتا تو ان سے ملاقات کی کوشش کرتا۔
مولانا کے صاحبزادے جناب ڈاکٹر ثانی حسنین خان اور ان کی پوتیاں یہاں آکسفورڈ مجھ سے ملاقات کے لیے بھی آئے، اور ان سے ای میل کے ذریعے وقتاً فوقتاً رابطہ بھی رہا۔ ہر ملاقات میں مولانا اپنی کوئی نہ کوئی کتاب ضرور ہدیہ کرتے، اور ان کی گفتگو سے فکر و نظر کے نئے دریچے وا ہوتے۔ ایک بار ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو اپنے گھر کے سارے افراد کو بلایا، اور مجھ سے کچھ نصیحت کرنے کے لیے فرمایا۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کے سامنے کچھ کہنے کی ہمت نہیں پڑتی۔
مگر مولانا کا اصرار جاری رہا، تو مولانا ہی کی زندگی کے کچھ اسباق ان کے سامنے رکھے۔ مولانا نے ایک بار مجھ سے میری کتاب "محدثات" کے متعلق دریافت کیا، اور پوچھا کہ ان خواتین کی زندگی میں غیر مسلم عورتوں کے لیے سیکھنے کی کیا چیز ہے۔ میں نے کسی وجہ سے اس موضوع پر گفتگو کرنے سے معذرت کر لی۔ انہوں نے بڑے فعال، متحرک اور سرگرم زندگی گزاری؛ وہ ایک محنتی انسان تھے، راحت طلبی سے کوسوں دور تھے۔
ایک بار گرمیوں میں میں ان سے ملنے گیا تو اپنے بالائی کمرے میں سخت گرمی میں اپنے کام میں مشغول تھے، چھت کی تپش جسم پر محسوس ہو رہی تھی۔ ہم لوگوں کے لیے وہاں بیٹھنا مشکل تھا۔ میں نے عرض کیا کہ اس گرمی میں آپ کو کسی ٹھنڈے کمرے میں کام کرنا چاہیے۔ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی عادت ہو گئی ہے، اور کچھ پتہ نہیں چلتا۔
محنت کا یہ جذبہ ان کی حیرت انگیز کارکردگی کی روح ہے۔ ان کی یہ بات بڑی قیمتی ہے: "حقیقت یہ ہے کہ تمام علوم محنت کی درسگاہ میں پڑھائے جاتے ہیں، تمام ترقیاں محنت کی قیمت دے کر حاصل ہوتی ہیں، اور محنت وہ چیز ہے جو ہر آدمی کو حاصل رہتی ہے، حتیٰ کہ اس آدمی کو بھی جس کو بیماری نے معذور بنا دیا ہو، جو کالج اور یونیورسٹی کی ڈگری لینے میں ناکام ثابت ہوا ہو۔ محنت ایک ایسا سرمایہ ہے جو کبھی کسی کے لیے ختم نہیں ہوتا۔ " کتابِ زندگی، صفحہ 12۔
مولانا بنیادی طور پر ایک مفکر و دانشور تھے، یعنی وہ جذبات و احساسات کی گرفت سے آزاد ہو کر اصول کی بنیاد پر کوئی بات کہتے تھے یا کوئی اقدام کرتے تھے۔ برصغیر میں عام مسلمان رہنما اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں ان کا حلقہ ان سے کٹ نہ جائے، کہیں ان کی مقبولیت پر آنچ نہ آ جائے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی فکر رسوم و روایات سے آزاد نہیں ہو پاتی، اور وہ اسی دائرے میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ انہیں نہ دوسرے جہانوں کا علم ہوتا ہے اور نہ اپنے بعدِ دردی آمیز کے سوا۔
اور نہ اپنے بعدِ دردی آمیز کے سوا کسی شرابِ خالص و صافی کی جستجو ہوتی ہے۔ آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا، منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں۔ مولانا کا خیال تھا کہ ہندوستان کے علماء و مصلحین روحِ عصر سے خالی ہیں۔ انہیں یہ اندازہ نہیں کہ آزادی کے بعد ایک نئے ہندوستان نے جنم لیا ہے۔
ان کے رویّوں سے لگتا ہے کہ گویا وہ مغلیہ دور میں، یا عباسی یا خلافتِ عباسیہ میں، یا عہدِ آل عثمان میں جی رہے ہیں۔ کور پسندی، کور پسندی اور غفلت کے اس ماحول میں وہ تنہا مفکر ہیں جو روحِ عصر کی منادی کرتا ہے۔ طبقۂ علماء میں اس وقت ان کے علاوہ کوئی نہیں جو عصری اسلوب میں لکھتا ہو۔ اس میں شاید کچھ مبالغہ ہو، لیکن اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ جس استقلال کے ساتھ انہوں نے اپنے زمانے کے انسانوں کو خود ان کی زبانوں میں پیغامِ حق سنانے کی ذمہ داری نبھائی ہے، وہ ان کا عظیم کارنامہ ہے۔
ان کو سوچنے کی عادت تھی، اور اس دائرے سے باہر نکل کر سوچتے تھے جس کے اندر عام پڑھے لکھے لوگ مقید ہوتے ہیں، اور جس سے نکلنے کی نہیں سوچ سکتے، بلکہ نکلنے کو کفر و فسق سے تعبیر کرتے ہیں۔ مولانا ان بندشوں سے آزاد تھے۔ ان کی یہ بات بالکل سچ ہے: ہر زمانے میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض خیالات آدمی کے ذہن پر اتنا زیادہ چھا جاتے ہیں کہ ان سے نکل کر آزادانہ طور پر سوچنا آدمی کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ مذہبی دائرے میں بھی ہوتا ہے اور غیر مذہبی دائرے میں بھی۔
یہ بند ذہن ہر قسم کی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کتابِ زندگی، صفحہ 39۔ اس پر ان کا ایمان واجب الاذعان تھا۔ اس پر ان کا ایمان واجب الاذعان تھا کہ مسلمانوں کی ترقی کا راستہ پرامن ماحول میں کام کرنا ہے۔
ان کا یہ ارشادِ گرامی اسلامی مراجع کے وسیع و عمیق مطالعے کا ثمرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم یعنی رول کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف استثنا یعنی ایکسیپشن کی۔ اسلام کی تمام تعلیمات اور پیغمبرِ اسلام کی عملی زندگی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ امنِ عالم، صفحہ 13۔
انہوں نے لوگوں سے اختلاف کیا، اور لوگوں نے ان سے اختلاف کیا، اور اختلاف اگر مہذب اور معقول ہو تو افکار و نظریات کی تطہیر کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ان کے متعلق بدگمانیاں بہت پھیلائی گئیں، ان کے خیالات کو صحیح و معتدل معیار پر نہیں جانچا گیا۔ وہ ہندوستان کے موجودہ ماحول میں مسلمانوں کو زندہ رہنے، پرامن طریقے سے اسلام کی تعلیم اور دعوت عام کرنے، اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کا درس دیتے تھے۔ وہ ممکن کی موجودگی میں ناممکن کے پیچھے وقت ضائع کرنے کو بیوقوفی سمجھتے تھے۔
واقعہ ہے کہ متعدد حیثیتوں سے ان کا طریقہ کار قابلِ عمل ہے، اور شاید آئندہ ان کے مخالفین بھی وہی باتیں کریں گے جن پر اب تک تنقید کرتے رہے ہیں۔ کون ہے جو اس کا اعتراف نہ کرے کہ مولانا نے بے شمار انسانوں کے ذہنوں کو متاثر کیا؟ ان کی تحریروں نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کی رہنمائی میں بڑا کردار ادا کیا۔ انہوں نے مثبت اور پرامن طریقے سے ٹھوس اور پائیدار کام کرنے کا نمونہ پیش کیا، اور کتنے مایوس لوگوں کو یاس و ناامیدی سے نکالا، اور انہیں جینے کا حوصلہ دیا۔
وہ یہ کہہ سکتے ہیں: "شادم الزندگی، خیش کے کارِ کردم، رحمت اللہ رحمت واسعہ۔ " کتاب داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔