← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Walid Saheb, Eik Bausul Murabbi(DR Farida Khanam)
Urdu · 48 min
والد صاحب ایک بااصول مربی تھے، ڈاکٹر فریدہ خانم۔ والد صاحب اپنی نوجوانی کے زمانے میں جماعت اسلامی کے افکار سے متاثر ہوئے تھے، اور آزادی کے بعد 1947 میں جماعت اسلامی سے جڑ گئے۔ اعظم گڑھ میں جماعت اسلامی کے حلقے میں بطور ایک رکن کام کرتے رہے۔ انہوں نے جس مستعدی اور انہماک اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ جماعت کے مقامی کام کو چلایا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ضلع اعظم گڑھ کے افرادِ جماعت نے متفقہ طور پر والد صاحب کو ناظمِ ضلع منتخب کیا۔
اس وقت جماعت اسلامی کے کل ہند امیر مولانا ابواللیس ندوی اصلاحی تھے۔ ان کو جب یہ معلوم ہوا کہ والد صاحب کو ناظمِ ضلع منتخب کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کے اندر لکھنے کی اعلیٰ صلاحیت موجود ہے، اس لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ انہیں جماعت اسلامی کے مرکزی شعبۂ تصنیف و تالیف میں لے لیا جائے۔ چنانچہ ناظمِ ضلع منتخب ہونے کے فوراً بعد والد صاحب جماعت اسلامی کے مرکزی شعبۂ تصنیف و تالیف سے وابستہ ہو کر 1956 میں تصنیفی کام کرنے کے لیے رام پور چلے گئے۔ اس کے بعد ہم سب لوگ رام پور آ گئے۔
اس وقت میری عمر 5 سال تھی۔ بازار نصراللہ خان میں ہمارا کرائے کا ایک مکان تھا، یہاں ہم لوگ 6 سال تک مقیم رہے۔ اسی گھر میں 10 دسمبر 1959 کو ہمارے چھوٹے بھائی ثانیس نعیم خان کی پیدائش ہوئی۔ بچیوں کا مدرسہ رام پور میں جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام کھولا گیا تھا۔
مدرسے کا کمپاؤنڈ کافی بڑا تھا، لیکن جس وقت ہم لوگوں کو داخل کیا گیا، اس وقت وہاں صرف 2 کمروں کی تعمیر ہوئی تھی۔ طالبات بھی بہت کم تھیں۔ استانیوں کے نام یاد نہیں، البتہ ہیڈ مسٹریس کو لوگ آپا کہا کرتے تھے۔ میں اور میری بڑی بہن ام السلام ایک ہی کلاس میں پڑھتی تھیں۔
اس اسکول میں ہم لوگوں نے 5ویں کلاس تک پڑھائی کی۔ سادہ زندگی اور اونچی سوچ، سِمپل لیونگ اینڈ ہائی تھنکنگ کا اصول والد صاحب کی ذات پر مکمل طور پر اپلائی ہوتا تھا۔ کھانا انتہائی سادہ کھاتے تھے۔ سال بھر گزر جاتے تھے، مگر گوشت گھر میں نہیں آتا تھا۔
تامِ واحد کے اصول کے تحت صرف ایک سبزی پکتی تھی۔ ایک بار والد صاحب ایک مہینے کے لیے اعظم گڑھ جا رہے تھے۔ گھر میں 2 ٹن بھنی ہوئی مکئی رکھ کر چلے گئے کہ یہی مہینہ بھر استعمال کرنا۔ والد صاحب انتہائی بااصول ہونے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا اعلیٰ سلیقہ بھی رکھتے تھے۔
جماعت اسلامی کے دفتر میں سب سے پہلے داخل ہوتے اور سب سے آخر میں وہاں سے نکلتے۔ مزید یہ کہ دوپہر کو بھی انٹرول نہیں کرتے تھے، جبکہ تمام اسٹاف دوپہر کو لنچ کے لیے اور آرام کرنے کے لیے وقت نکالتے تھے۔ اسی حسنِ کارکردگی کی وجہ سے وہ جماعت اسلامی میں بہت مقبول تھے۔ ان کے مضامین لوگ بہت شوق سے پڑھتے۔
ماہ نامہ زندگی کا شمارہ جب لوگوں کو ملتا تو سب سے پہلے اس میں والد صاحب کا مضمون پڑھتے۔ اس وجہ سے ان کی سخت زندگی بھی لوگوں کو قابلِ تخلید نظر آتی۔ اس وجہ سے ان کی سخت زندگی بھی لوگوں کو قابلِ تخلید نظر آتی۔ ہماری ایک پڑوسن، راشدہ آپا، جو کہ اس وقت بچیوں کے مدرسے میں عربی کی ٹیچر تھیں، اکثر ہمارے یہاں آتیں۔
ایک بار انہوں نے کہا کہ ہم بھی تامِ واحد اپنے گھر میں چلائیں گے، یہ اسلامی طریقہ بھی ہے اور بہت آسان بھی۔ انہوں نے شاید ایک ہی ہفتہ ایسا کیا۔ ان کے بھائی، جو ان کے ساتھ رہتے تھے، وہ تامِ واحد سے پریشان ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ واحد کو نکالیے، اب صرف تام ہی تام رہے گا۔
اسی طرح والد صاحب ہم تینوں بہنوں کو ہمیشہ سادہ کپڑا پہناتے۔ ایک بار ملیشیا، یعنی خاکی رنگ کا موٹا کھدر کا ایک تھان لے آئے۔ اماں سے کہا کہ ان لوگوں کو 4-4 جوڑا اس کا بنا دو۔ اماں کبھی ابا کی بات سے انکار نہیں کرتی تھیں۔
اس لیے پسند نہ کرتے ہوئے بھی انہوں نے وہ سارے کپڑے ہم لوگوں کے لیے سی دیے۔ اب ہم لوگ روز وہی کپڑا پہنتے۔ یہاں تک کہ محلے کی لڑکیاں ہم لوگوں کو دیکھ دیکھ کر ہنسنے لگیں کہ یہ ان کا یونیفارم ہے۔ ایک بار والد صاحب اعظم گڑھ گئے ہوئے تھے تو والدہ نے بازار سے پاپلین کی چھینٹ کا ایک ایک جوڑا ہم لوگوں کے لیے خرید کر منگوایا۔
ہم لوگ اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ جیسے عید کا چاند نکل آیا ہو۔ اس کپڑے کی پرنٹ کا نقش ابھی تک دماغ میں محفوظ ہے۔ ہم لوگوں کو کبھی کہیں گھومنے کے لیے نہیں جانے دیتے تھے۔ حتیٰ کہ 6 سالہ رام پور کے قیام کے دوران ہم لوگ ایک بار بھی اپنے آبائی گھر نہیں گئے۔
شہر میں بھی کہیں گھومنے کے لیے جانے کی اجازت نہ تھی، صرف کام سے باہر نکل سکتے تھے۔ اس وقت والد صاحب کی اصولی زندگی کو ہم ظلم سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ ہم دیکھتے تھے کہ ہماری دوسری ہم عمر سہیلیاں ہر طرح کی تفریح کرتی ہیں، لیکن ہم لوگ سپیٹن زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ تفریح کا نام بھی غالباً والد صاحب کی ڈکشنری میں موجود نہ تھا۔
اب باشعور ہونے کے بعد ہماری سمجھ میں آیا۔ اب باشعور ہونے کے بعد ہماری سمجھ میں آتا ہے کہ یہ دراصل والد صاحب کے بااصول، یعنی مین آف پرنسپل ہونے کی قیمت تھی، جو ہم لوگ ادا کر رہے تھے۔ ان کے کہنے اور کرنے میں کوئی فرق نہ تھا۔ جس بات کی وہ دوسروں کو ترغیب دیتے تھے، اس پر پوری شدت سے سب سے پہلے خود عمل کرتے اور گھر میں عمل کرواتے۔
ایک بار ہماری پڑوسی راشدہ آپا کو آٹا چھاننے کے لیے چھلنی کی ضرورت ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ عبدالحی صاحب، ایڈیٹر الحسنات کے گھر سے مانگ کر لا دو۔ گھر بالکل قریب تھا، مگر مجھے شرارت سوجھی۔ عبدالحی صاحب کے گھر گئے بغیر میں نے تھوڑی دیر کے بعد راشدہ آپا سے کہہ دیا کہ عبدالحی صاحب کے گھر والوں نے چھلنی دینے سے انکار کر دیا، کہ وہ روز روز مانگتی ہیں۔
عبدالحی صاحب کا خاندان ایک شریف خاندان تھا۔ ان کے گھر والے محلے والوں کا خیال رکھتے تھے۔ اس لیے راشدہ آپا کو یقین نہ آیا کہ انہوں نے ایسا کہا ہوگا۔ وہ خود ان کے گھر گئیں تو معلوم ہوا کہ سویرے سے ان کے پاس کوئی آیا ہی نہیں۔
یہ خبر والد صاحب تک پہنچ گئی کہ میں نے اس طرح سے خلافِ واقعہ بات کہی ہے۔ والد صاحب انتہائی غضب ناک ہوئے، انہوں نے مجھے مارا۔ اس واقعے کے بعد سے میں نے جھوٹ بولنے سے توبہ کر لی۔ اب کسی ضرورت پر بھی جھوٹ بولنا انتہائی مشکل لگتا ہے۔
اگر بروقت تنبیہ نہ ہوئی ہوتی تو شاید جھوٹ بولنے کی عادت اتنی پکی ہو جاتی کہ اس کو چھوڑنا مشکل ہو جاتا۔ والد صاحب چھوٹی سی چھوٹی غلطی کی بھی گرفت کرتے تھے۔ سزائیں بھی اپنی قسم آپ ہی ہوتی تھیں۔ اکثر سزا میں 100 رکعت نماز پڑھنی ہوتی۔
بڑی بہن کو میرے پاس بٹھا دیتے کہ تم گنتی کرتے رہنا۔ وہ اس قدر فرمانبردار تھیں کہ ایک رکعت بھی چھوڑنے نہیں دیتی تھیں۔ ایک بار اسی طرح میں روتی جاتی تھی، نماز پڑھتی جاتی تھی۔ اس دوران راشدہ آپا آ گئیں۔
انہوں نے پوچھا، یہ کیا ماجرہ ہے؟ والدہ نے بتایا تو وہ بولیں، چچا میاں، یعنی وہ والد صاحب کو چچا میاں کہتی تھیں، تو زبردستی خشوع خضوع طاری کرتے ہیں۔ چچا میاں تو زبردستی خشوع خضوع طاری کرتے ہیں۔ بڑے بھائی ظفرالاسلام خان، پیدائش 1948 عیسوی، پر پڑھائی کے لیے بہت سختی ہوتی تھی۔
ان کا بچپن نانا کے پاس گزرا تھا۔ نانا صاحب نے ان کی پڑھائی کے لیے مستقل ٹیوٹر بھی رکھا تھا، مگر نانا کے لیے حد۔ مگر نانا کے بے حد لاڈ پیار کی وجہ سے ان کے بچپن کے قیمتی 10 سال کھیل کود میں گزر گئے۔ ان کے اوپر کوئی سختی نہیں تھی، اس لیے وہ پڑھنے بہت کم جاتے تھے۔
جب وہ رام پور آئے تو ان کی پڑھائی پر بہت زور دیا گیا، کیونکہ وہ عمر کے لحاظ سے بہت پیچھے ہو گئے تھے۔ اس طرح اچانک سختی سے وہ بہت گھبرائے۔ لیکن غیر معمولی ذہین ہونے کی وجہ سے انہوں نے بہت جلد اپنی کمی کی تلافی کر لی۔ ان کی یادداشت وہ تھی جس کو فوٹوگرافک میموری کہا جاتا ہے۔
ہمیشہ کلاس میں اچھے نمبروں سے پاس ہوتے۔ ان کا داخلہ رام پور میں درسگاہ جماعت اسلامی میں کیا گیا تھا۔ ایک بار بھائی صاحب نے ابا کی کوئی کتاب ابا کی اجازت کے بغیر کسی دوست کو پڑھنے کے لیے دے دی۔ جب ابا کو معلوم ہوا تو وہ اتنا ناراض ہوئے کہ یہ سزا سنا دی کہ جب تک کتاب نہ لاؤ گے، گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔
وہ فوراً اپنے دوست کے گھر کے لیے روانہ ہوئے۔ اتفاق کی بات تھی کہ دوست سفر پر چلے گئے تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کل رات کو آئیں گے۔ 24 گھنٹہ بھائی صاحب نے ایک مسجد میں گزارے۔
دوسرے دن شام کو کتاب حاصل کر کے دوبارہ گھر میں داخل ہوئے۔ اس لمبی غیر حاضری پر والد اور والدہ دونوں بہت پریشان ہوئے۔ جب بھائی صاحب گھر میں داخل ہوئے تو والد نے ان کو گلے سے لگا لیا، حالانکہ وہ کبھی بچوں سے محبت کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ ثانیس نعیم جب چھوٹے تھے تو ابا ابا کرتے۔
پڑوس میں آواز جاتی۔ راشدہ آپا کہتیں کہ صرف ابا ابا کی آواز ثانیس نعیم کی زبان سے سنائی دیتی ہے، ابا کی طرف سے کبھی بیٹے کی آواز سننے میں نہیں آتی۔ والد صاحب اپنی زندگی کو اس سے کہیں زیادہ قیمتی سمجھتے تھے کہ وہ بچوں کی تفریح کے لیے ایک منٹ بھی ضائع کریں۔ قریبی لوگ اعتراض کرتے کہ آپ بچوں کا کچھ خیال نہیں کرتے۔
تو جواب دیتے کہ میری زندگی ایک حاصل شدہ زندگی ہے۔ میں اپنی زندگی کے مختصر لمحات کو اس امید میں ضائع نہیں کر سکتا کہ کل میرے بچے بڑے ہو کر دین کا کام کریں گے۔ بچوں کے سلسلے میں والد صاحب کا ایک خاص نظریہ تھا۔ وہ پدرانہ حقوق اور پدرانہ محبت میں فرق کرتے تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ بچوں کی زندگی کی تعمیر کے لیے انہیں وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو باپ ہونے کا تقاضا ہے۔ چنانچہ انہوں نے بچوں کی تعلیم اور ان کی حقیقی مادی ضرورت میں کبھی کمی نہیں کی۔ چنانچہ ہماری ایک بہن کو چھوڑ کر تمام بھائی بہنوں نے خدا کے فضل سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ البتہ پدرانہ محبت کے معاملے میں ان کا رویہ عام باپ سے مختلف تھا۔
عام باپ اپنے بیٹے کے حق میں محبت برائے محبت کے قائل ہوتے ہیں۔ مگر اس معاملے میں والد صاحب کا نظریہ محبت برائے دین تھا۔ اولاد اگر دین کے راستے چلے تو وہ تمام محبت کرنے والوں سے زیادہ محبت کرنے والے تھے۔ مگر بے دین اولاد سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
اگرچہ والد صاحب کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایسا نہیں ہوا کہ ان کی کوئی اولاد بے دین ہو جائے۔ والد صاحب نے جس طرح اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا، اس کا جزئی اندازہ ایک واقعے سے ہو سکتا ہے۔ ایک بار ہومیوپیتھک ڈاکٹر وکیل احمد صاحب، رام پور کی بیوی نے والد صاحب کو کہیں راستے میں چلتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بعد جب والدہ سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگی کہ آج ہم نے وحید بھائی کو دیکھا، بالکل جیسے مجنون۔
والد صاحب کو نہ وقت پر بال کٹوانا یاد رہتا، نہ کنگھی کرنا۔ ہر وقت سوچ میں غرق رہتے۔ کبھی وہ اپنے دماغ کو خدا کی یاد سے غافل نہیں ہونے دیتے تھے۔ جب کسی سے بات کرتے تو صرف دینی بات کرتے۔
کبھی میں نے فضول قسم کی باتیں کرتے ہوئے نہیں سنا۔ کافی وقت مطالعے میں گزارتے۔ جو بھی کوئی والد صاحب کی صحبت میں آتا، اس کو زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے۔ رام پور کے 6 سالہ قیام کے دوران ایک ملازم بھی نہیں رکھا گیا۔
ہم سب بھائی بہن اتنے بڑے نہیں تھے کہ کسی کام میں والدہ کا ہاتھ بٹا سکیں۔ والدہ سارا دن کام کرتی رہتی۔ دوپہر کو بھی آرام کرنے کا موقع نہ ملتا۔ ان کے میکے میں صرف گھر کا کام کرنے کے لیے کئی ملازمین مستقل رہتے تھے۔
اس لیے انہیں محنت کا کام کرنے کی عادت نہیں تھی۔ ایک بار والدہ کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہوں نے چاہا کہ کوئی عورت کام کرنے کے لیے رکھ لی جائے۔ مگر والد صاحب راضی نہیں ہوئے۔ کہا کہ ملازم رکھنے سے بہتر ہے کہ تم تسبیح فاطمہ پڑھ لیا کرو۔
کم از کم میرے علم میں ایسا کوئی کیس نہیں کہ جس میں تسبیح فاطمہ پر اس کے لٹرل معنی میں عمل کیا گیا ہو۔ رام پور میں والد صاحب کو جماعت اسلامی کے مکمل لٹریچر کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ وہ روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد فوراً ناشتہ کرتے۔ والدہ تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد ناشتہ تیار کر دیا کرتیں۔
ناشتہ کرنے کے بعد والد صاحب جماعت اسلامی کے دفتر چلے جاتے۔ سارا دن لکھنے پڑھنے میں گزارتے۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے بھی گھر نہیں آتے تھے۔ چونکہ والد صاحب کی صحت بہت اچھی تھی، اس لیے عام دنوں میں تو صحت پر مسلسل دماغی محنت کا اثر نہیں پڑا۔
لیکن وہ رمضان کے دنوں میں بھی ایسا ہی کرتے رہے۔ لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ ان کو رمضان میں اپنے اوقات میں تبدیلی کرنا چاہیے تھا۔ یعنی کم از کم دوپہر کو ایک یا دو گھنٹے وہ آرام کرتے۔ آرام نہ کرنے کی وجہ سے رمضان کے مہینے میں جو کمزوری آئی، اس کو جسم میک اپ نہ کر سکا۔
اس کے بعد ہر سال رمضان میں جو کمزوری آتی، وہ باقی رہتی۔ اس طرح علم کے شوق میں جسم کے حقوق نظر انداز کر دیے گئے۔ اس کا اثر بعد میں ظاہر ہوا۔ جماعت اسلامی کے لٹریچر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد والد صاحب کو یہ احساس ہوا کہ جماعت اسلامی کا مشن قرآن کی آیتوں سے ثابت نہیں ہوتا۔
یہ احساس مزید مطالعے کے ساتھ بڑھتا گیا۔ پھر والد صاحب نے 1962 عیسوی میں جماعت اسلامی سے استعفیٰ دے دیا۔ جماعت اسلامی سے تعلق ختم ہونے کے بعد رام پور سے والد صاحب ہم سب لوگوں کو لے کر واپس بڈریہ یعنی اعظم گڑھ چلے گئے۔ ہم لوگ گاؤں میں رہتے تھے۔
والد صاحب اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خان کے پاس شہر چلے جاتے۔ وہاں دن بھر دارالمصنفین کی لائبریری میں گزارتے۔ اس زمانے میں ہم لوگوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوتی تھی۔ والد صاحب ہمیشہ کوئی نہ کوئی کتاب پڑھتے رہتے تھے۔
ایک دو دن کے لیے گاؤں آتے، پھر واپس شہر چلے جاتے۔ میں تقریباً 10 تا 11 سال کی تھی۔ مجھے یاد آتا ہے کہ کبھی کبھی رات کو چھت پر لے جاتے اور ستاروں کو دکھا کر ان کے بارے میں کچھ بتاتے تھے۔ گاؤں میں آسمان ستاروں سے جگمگاتا تھا۔
ستاروں کا ایک مجموعہ ثریا جو سات ستاروں سے مل کر بنتا تھا۔ اس کو بھی دکھا کر کچھ بتاتے تھے جو کہ اب یاد نہیں۔ رات کو گاؤں میں اس وقت لائٹ نہیں تھی، اس لیے والد صاحب دن ہی کو پڑھتے لکھتے تھے۔ جلد ہی بعد مولانا سید ابو الحسن علی ندوی یعنی علی میاں نے 1963 میں والد صاحب کو ندوہ لکھنو آنے کی دعوت دی۔
مولانا سٹیٹس کوئسٹ اتنے زیادہ تھے کہ کسی نئے کام کا انیشی ایٹو آسانی سے نہیں لیتے تھے۔ دادی نے بتایا تھا کہ ایک بار جب مدرسۃ الاصلاح میں پڑھتے تھے تو ہاسٹل کا کمرہ بدلا گیا تھا۔ اس وقت 12 تا 13 سال کی عمر رہی ہوگی تو وہاں سے روتے ہوئے آئے کہ اب میں پڑھنے نہیں جاؤں گا، میرا کمرہ بدل دیا ہے۔ پھر دادی نے سمجھا بجھا کر دوبارہ واپس بھیجا۔
بہرحال اماں کے اصرار پر وہ لکھنو روانہ ہوئے اور ندوے کے ادارے مجلس تحقیقات و نشریات اسلام سے وابستہ ہوئے۔ وہاں والد صاحب کو سٹڈی کرنے کا اور وہاں کے اساتذہ سے دینی موضوعات پر ڈسکشن کرنے کا بہت زیادہ موقع ملا۔ وہاں کے کتب خانے میں بہت قیمتی کتابیں تھیں۔ وہیں پر مذہب اور جدید چیلنج کی تھیم دماغ میں آئی اور اس پر انہوں نے کام کرنا شروع کیا۔
وہاں ندوے کے طلباء بھی ملنے کے لیے آتے۔ والد صاحب ہمیشہ علمی باتوں پر ہی گفتگو کرتے تھے۔ ذہین طلباء وہاں برابر ملنے آتے تھے۔ ایک بات جو مجھے یاد ہے کہ والد صاحب وہاں لوگوں کو انگریزی زبان اور جدید علوم حاصل کرنے پر بہت زور دیتے تھے۔
والد صاحب کے لکھنو جانے سے پہلے مدرسے کے طلباء صرف روایتی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ کیونکہ مدرسے کا ماحول جدید تعلیم حاصل کرنے کو ڈسکریج کرتا تھا۔ جدید علوم حاصل کرنا ٹیبو تھا۔ مگر یہ والد صاحب کی ترغیب تھی کہ ندوے کے کئی ذہین طلباء نے وہاں کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا اور اپنی تعلیم مکمل کر کے یونیورسٹیوں میں اونچے عہدوں پر اپنی خدمات انجام دیں۔
پروفیسر حمید اللہ ندوی اس زمانے میں ندوے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کو انگریزی تعلیم کا شوق دلایا۔ پھر انہوں نے یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کی اور برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال میں ان کا عربی ڈیپارٹمنٹ میں تقرر ہوا۔ وہاں سے وہ پروفیسر ہو کر ریٹائر ہوئے۔
اسی طرح پروفیسر شفیق احمد خان بھی اسی زمانے میں ندوے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ والد صاحب سے متاثر ہو کر انہوں نے جامعہ میں داخلہ لیا اور عربی ڈیپارٹمنٹ سے پی ایچ ڈی کر کے جامعہ میں عربی کے پروفیسر اور ہیڈ ہو کر ریٹائر ہوئے۔ دھیرے دھیرے باقاعدہ لوگوں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ میں نے بھی باقاعدہ انگریزی تعلیم والد صاحب کی وجہ سے حاصل کی۔
میں نے پری یونیورسٹی کا امتحان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1970 میں پاس کیا تھا۔ فارسی میں میری ڈسٹنکشن آئی تھی۔ لہذا میں نے دہلی کالج میں فارسی اونرز میں داخلہ لے لیا۔ والد صاحب نے جب یہ خبر سنی تو مجھے فوراً دوبارہ کالج واپس یہ کہہ کر بھیجا کہ فارسی پڑھ کر کیا کرو گی؟
جا کر انگریزی میں داخلہ لو۔ گرمی کا دن تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ اسی وقت میں کالج واپس گئی اور وہاں ایک ہیڈ کلرک مبارک صاحب کی کوششوں سے مجھے انگلش اونرز میں داخلہ مل گیا۔
بعد میں میں نے ایم اے انگلش بھی دہلی یونیورسٹی سے کیا۔ آج میں سوچتی ہوں کہ اگر بروقت مجھے والد صاحب کی رہنمائی نہ ملی ہوتی تو میں مشن میں اپنا حصہ ادا نہیں کر سکتی تھی۔ والد صاحب جو مطالعہ کرتے تھے اس کو لوگوں سے شیئر کرتے، ڈسکشن کرتے۔ اگر کوئی تنقید کرتا تو بہت ہی سنجیدگی سے اس کو سنتے، برا مانے بغیر۔
پھر اس پر غور کرتے کہ فلاں شخص نے ایسا کیوں کہا۔ مثال کے طور پر کسی نے ایک بار کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی؟ یہ واقعہ اس بات کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے کہ تنقید ان کو مزید نئے اینگل سے سوچنے کا موقع فراہم کرتی تھی۔ اس طرح وہ غصہ ہوئے بغیر یہ سوچتے رہے کہ آخر اس شخص نے ایسا کیوں کہا اور ہم کس طرح تشفی بخش جواب اس کو دے سکتے ہیں۔
کئی کئی بار کسی پوائنٹ کو، کسی حدیث کو یا کسی آیت کو لے کر سالوں سوچتے رہتے تھے۔ اسی طرح مذکورہ بالا سوال پر بہت عرصے تک سوچنے کے بعد انہوں نے اسلام دور جدید کا خالق کتاب تیار کی۔ والد صاحب سے ہی میں نے یہ سمجھا کہ تنقید سے غصہ ہونے میں ہمارا اپنا نقصان ہے۔ تنقید ہمارے لیے ایک چیلنج کا کام کرتی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی بات کا کوئی اینگل ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ تنقید ہماری توجہ اس طرف مبذول کرتی ہے اور ہماری سوچ کے دائرے میں وسعت آتی ہے۔ جو لوگ تنقید کو برداشت نہیں کرتے وہ ہمیشہ ایک ہی دائرے میں گھومتے رہتے ہیں۔ ان کا انٹلیکچول ڈیولپمنٹ نہیں ہو پاتا۔
ہو پاتا ہے۔ ان کا انٹلیکچول ڈیولپمنٹ نہیں ہو پاتا ہے۔ ہم لوگ بھی 1964 میں لکھنو میں تھے۔ مئی 1964 میں جب سابق پرائم منسٹر جواہر لعل نہرو کی وفات ہوئی تو ان کی ایشز ندیوں میں بہائی گئی تھی۔
گومتی ندی جو ندوے کے کنارے بہتی تھی وہاں بھی راکھ ہیلی کاپٹر سے بہائی گئی۔ اسی کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی پنکھڑیاں بھی دریا میں ڈالی گئی تھیں۔ ابھی تک وہ منظر مجھے یاد ہے۔ یہ سارا دور والد صاحب کی تیاری کا دور تھا۔
وہاں ایک لائبریری تھی۔ اچاریہ نریندر دیو لائبریری حضرت گنج لکھنو میں واقع تھی۔ وہاں پر والد صاحب برابر سٹڈی کے لیے جاتے تھے۔ ہر سبجیکٹ پر کتابیں پڑھتے تھے۔
والد صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ میں نے پامسٹری سے لے کر اسٹرانومی پومسٹری سے لے کر اسٹرانومی تک ہر سبجیکٹ کی سٹڈی کی ہے۔ مولانا ندوے میں تین سال رہے۔ ندوہ چھوڑنے کے بعد پھر واپس اعظم گڑھ چلے گئے۔ جلد ہی جون 1967 میں مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیت علماء ہند کی دعوت پر 24 جون 1967 کو نئی دہلی آئے اور جمعیت علماء ہند کے ترجمان الجمعیہ جمعہ ایڈیشن کے ایڈیٹر کے طور پر کام شروع کیا۔
کچھ دنوں کے بعد ہم لوگ بھی دلی آ گئے اور یہاں سب بھائی بہن تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے۔ والد صاحب ڈسٹریکشن سے اتنا زیادہ دور رہتے تھے کہ وہ اپنے پاس کبھی پیسہ نہیں رکھتے تھے۔ اماں گھر کی باس تھیں۔ ہم سب لوگ مل کر گھر چلاتے تھے۔
پرفیکشنسٹ اتنے زیادہ تھے کہ وہ اپنا کام کسی سے نہیں کراتے تھے۔ پروف ریڈنگ بھی خود ہی کرتے تھے۔ جمعیت علماء کی طرف سے ان کو اسسٹنٹ دیا گیا تھا۔ مگر انہوں نے جلد ہی اسسٹنٹ کو رخصت کر دیا۔
الجمعیہ کا جو زمانہ تھا اس میں والد صاحب نے سب سے زیادہ ملی تعمیر پر زور دیا۔ مسلمانوں کے اندر اصلاح کا جذبہ ابھارنا، ان کے اندر قومی شعور پیدا کرنا، ملی زندگی کی تعمیر کے لیے کیا کرنا ہے، حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیدا کرنا، زمانے کو سمجھ کر اس کی قوتوں کو اپنی تعمیری جدوجہد کے لیے استعمال کرنا، ان سب پر زیادہ فوکس تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ جگہ جگہ فسادات ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کے جان و مال کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا تھا۔
اس لیے والد صاحب نے اپنی تحریر و تقریر اور زبانی بات چیت کے ذریعے لوگوں کو بہت زیادہ متوجہ کیا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ اعراض، حکمت اور پلاننگ کے ساتھ زندگی کے میدان میں قدم رکھا جائے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اسلامی اصولوں پر چلنے سے حل نہ ہو سکتا ہو۔ حقیقی مثالوں سے لوگوں کے سامنے ان باتوں کو پیش کیا۔ الجمعیہ اس زمانے کا سب سے زیادہ مقبول ہفت روزہ بن گیا۔
بے شمار لوگوں نے ان اصولوں کے ذریعے اپنی زندگی اور سماج کے مسائل کو حل کیا۔ لیکن الجمعیہ کی مقبولیت کچھ لوگوں کو پسند نہیں آئی اور بلا کسی سبب الجمعیہ کو اچانک بند کر دیا گیا۔ وقتی طور پر پریشانی ہوئی مگر یہ بلیسنگ ان ڈس گائس کا معاملہ ثابت ہوا۔ الجمعیہ بند ہونے کے بعد حالات اتنے خراب ہو گئے کہ والد صاحب نے پھر اعظم گڑھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔
لیکن ہمارے بڑے بھائی ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اس وقت جامعۃ الاظہر قاہرہ میں اپنی پڑھائی مکمل کر چکے تھے اور ان کو ایک جاب مل گیا تھا۔ انہوں نے خط لکھا کہ آپ لوگ بڈھریہ نہ جائیں میں اخراجات کا بندوبست کروں گا۔ انہوں نے نہ صرف گھر کے اخراجات کی ذمہ داری لی بلکہ الرسالے کا انیشل انیشیل سرمایہ بھی دیا۔ اس طرح ہم لوگوں کی پڑھائی جاری رہی۔
اس دوران والد صاحب نے الاسلام لکھی۔ الاسلام کی طباعت کا کوئی انتظام نہیں ہو سکا۔ لہذا کتاب مکمل ہونے کے بعد الماری میں رکھ دی گئی تھی۔ جب بھائی صاحب دلی آئے اور انہوں نے کتاب پڑھی تو وہ اس سے بہت متاثر ہوئے اور اس کو شائع ہونے کے لیے پریس میں دے دیا۔
اس کے انگریزی ترجمے کے لیے بھی انہوں نے انگریزی کے ایک استاد سے بات کی اور 10 ہزار روپے اس کے ترجمے کے لیے ان کو دیے۔ 50 سال پہلے 10 ہزار روپے کی بہت قیمت تھی۔ لیکن انہوں نے اچھا ترجمہ نہیں کیا۔ لہذا اس وقت وہ ترجمہ شائع نہ ہو سکا۔
کافی تاخیر سے اس کا انگریزی ترجمہ میں نے تیار کیا جو اس عنوان یعنی دا ویژن اف اسلام کے ساتھ 2014 میں گڈ ورڈ بکس نئی دہلی سے شائع ہوا۔ 1976 میں والد صاحب نے بہت زیادہ غور و فکر اور مشورے کے بعد الرسالہ نکالا۔ الرسالے کا ٹائٹل بڑے بھائی ڈاکٹر ظفر الاسلام نے منتخب کیا تھا۔ ماہنامہ رسالے کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع ہوا۔
الرسالے کے مضامین مختصر ہوتے تھے۔ عام طور پر ایک ہی صفحے پر مضمون ختم ہو جاتا تھا۔ یہ چیز لوگوں کو بہت پسند آئی۔ ایک صفحہ پڑھ کر کوئی حکمت کی بات مل جاتی تھی۔
لمبے لمبے مضامین کے بارے میں لوگوں کی سوچ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ جب فرصت ملے گی تو پڑھیں گے۔ میں 1976 میں ایم اے کا امتحان دے چکی تھی جبکہ ثانی حسنین ابھی اسکول ہی میں پڑھ رہے تھے۔ لہذا دفتر کا کام میں نے سنبھالا۔ باقی کام ثانی حسنین کرتے الرسالے کو چھپوانا، پوسٹ کرنا وغیرہ۔
ابتداء میں کم ارڈر آتے تھے۔ کبھی کوئی بڑا ارڈر آتا تو ہم بہت خوش ہوتے۔ والد صاحب مستقل طور پر لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے تھے۔ الجمعیہ کے زمانے میں والد صاحب مسلمانوں کے ملی مسائل پر کافی لکھتے تھے۔
وہ پلیٹ فارم ہی ملی مسائل کا تھا۔ لیکن الرسالے کے نکلنے کے بعد بالکل آزادانہ طریقے سے کام کرنے کا موقع ملا۔ اب دعوت الی اللہ پر زور دینا شروع کیا۔ دعوت الی اللہ کا کانسپٹ بالکل شروع ہی سے والد صاحب کے اوپر واضح تھا۔
اس کو آپ قرآن کا مطلوب انسان کتاب میں دیکھ سکتے ہیں جو کہ 1955 سے لے کر 1963 تک جماعت اسلامی ہند کے مختلف اجتماعات میں کی گئی تقریروں پر مشتمل ہے۔ لیکن الرسالے کے ذریعے پہلی بار مکمل آزادی سے پیغام دینے کا موقع ملا۔ والد صاحب نے سب سے پہلے جماعت اسلامی اس کے بعد ندوۃ العلماء اور جمعیت علماء کے پلیٹ فارم پر کام کرنے کی کوشش کی لیکن کہیں بھی آزادانہ ماحول نہ تھا۔ والد صاحب سے میں نے اس بارے میں پوچھا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے دعوتی کام کے لیے پلیٹ فارم تلاش کر رہا تھا لیکن کہیں بھی مکمل آزادی نہیں تھی۔
سب سے بڑا مسئلہ تو یہ تھا کہ جہاں کسی اکابر پر تنقید ہو جاتی تو اس حلقے کے لوگ سخت ناپسند کرتے۔ جبکہ تنقید کے بغیر بات میں کلیرٹی نہیں آتی۔ مثال کے طور پر الجمعیہ میں ایک بار ایک مضمون میں لکھ دیا کہ مولانا محمود حسن کی ریشمی رومال ریشمی رومال تحریک ایک جذباتی تحریک تھی۔ اس پر بہت سے لوگ ناراض ہو گئے۔
مولانا اسد مدنی نے ان کو ٹھنڈا کیا۔ مسلمانوں میں کام کرنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ کسی کے خلاف تنقید نہیں کی جا سکتی۔ پرانی پلاننگ پرانی پلاننگ کی غلطی واضح کیے بغیر نئی پلاننگ کیسے کی جا سکتی ہے؟
لیکن اکابر پرستی اتنی گہرائی سے پیوست ہو چکی ہے کہ لوگوں کو اپنے اکابر پر تنقید برداشت نہیں۔ اسی وجہ سے مسلم ادارے ذہین افراد کو ویلکم نہیں کرتے۔ ندوے سے علیحدگی کے بعد کچھ لوگوں نے وہاں کے اعلی منتظمین سے بات کی کہ مولانا کو دوبارہ ندوہ بلایا جائے۔ مگر وہاں کے منتظم اعلی نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ ہم شعر سے کام نہیں لے سکتے۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم اداروں میں بس بلڈنگیں ہیں۔ کوئی قابل ذکر کام کہیں نہیں ہو رہا ہے۔ عام طور پر تو گھر کے کام ہم لوگ خود ہی کرتے تھے۔ لیکن کچھ کام ایسے ہوتے کہ ہمیں والد صاحب کی مدد لینی پڑتی تو وہ فوراً تیار ہو جاتے۔
مثال کے طور پر میں پی ایچ ڈی پروفیسر مشیر الحق صاحب کے انڈر میں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس وقت ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ اور غالباً فیکلٹی کے ڈین ڈین بھی تھے۔ ان کی مشغولیات کی بنا پر مجھے لگ رہا تھا وہ منظور نہیں کریں گے۔ والد صاحب جب ندوے میں تھے تو مشیر الحق صاحب بھی وہاں ایک ادارے میں کام کرتے تھے۔
وہاں ان سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ لہذا والد صاحب مجھے لے کر ان کے پاس گئے۔ والد صاحب کے کہنے پر انہوں نے مجھے اپنے انڈر میں لینا منظور کر لیا۔ الرسالے کا کام جب کچھ بڑھا تو ہم نے کالج کی دو سٹوڈنٹس قیصر شاہجہاں کو پارٹ ٹائم کے لیے رکھا۔
پھر ہم تین لوگ الرسالے کا کام کرنے لگے۔ جب تک جمعیہ بلڈنگ میں رہے 1982 یا 1983 تک تب تک اسی طرح کام چلتا رہا۔ نظام الدین آنے کے بعد پھر ثانی حسنین نے دفتر کا نظام سنبھالا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ لائٹ چلی گئی۔
دور دور تک اندھیرا ہو گیا۔ قیصر اور شاہجہاں جو کہ دونوں بہنیں تھیں اپنے گھر اندھیرے میں نہیں جا سکتی تھیں تو والد صاحب نے لالٹین لے کر ان کو فراش خانہ پہنچایا جو کہ 15 تا 20 منٹ کا راستہ تھا۔ یہ واقعہ آج بھی مجھے یاد آتا ہے کہ کس قدر موڈیسٹی تھی ان کے اندر کہ کسی کام کو چھوٹا کام نہیں سمجھتے تھے۔ ان دونوں بہنوں کی شادی پاکستان میں حیدرآباد سندھ میں ہو گئی تھی۔
شاہجہاں کا انتقال ہو چکا ہے۔ قیصر ابھی بھی ٹچ میں ہیں۔ رات کو کبھی میری آنکھ کھلتی تو اکثر میں دیکھتی کہ والد صاحب کے کمرے میں لائٹ جل رہی ہے۔ کوئی کتاب پڑھ رہے ہیں۔
اصل میں وہ مسلسل سوچتے رہتے تھے۔ جب بھی کوئی ایسا خیال دماغ میں آیا جس کے لیے کسی ریفرنس کی ضرورت ہوتی تو اسی وقت اٹھ کر کتابوں کو دیکھتے تھے۔ کیونکہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ دماغ سے بات نکل جاتی ہے۔ والد صاحب سمپل لیونگ ہائی تھنکنگ کی مکمل مثال تھے۔
جہاں تک کھانے پینے کا تعلق ہے کبھی نہیں کہا کہ کھانا ٹھیک نہیں بنا ہے۔ جو بھی کھانا ہوتا اس کو خدا کا نام لے کر شوق سے کھاتے۔ نہ کبھی یہ کہا کہ آج فلاں چیز پکاؤ۔ کبھی روٹی وغیرہ بچ جاتی تو بہت زیادہ پریشان ہو جاتے۔
کہتے کہ یہ باسی روٹی مجھے ناشتے میں دے دو۔ تازی روٹی نہیں پکانا۔ بہت سختی سے کہتے کہ کھانے کا ایک دانہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ کھانا پانی خدا کی بڑی نعمت ہے۔
کہیں جانا ہوتا تو پیدل جاتے۔ ایک ایک گھنٹے کا سفر پیدل کرتے تھے۔ پیدل ہی چل رہے تھے جب بجلی لگنے کا واقعہ ہوا۔ پہلے سڑکوں پر کافی گڑھے ہوتے تھے۔
بارش کی وجہ سے کسی گڑھے میں پانی بھر گیا تھا۔ بادل چھائے ہوئے تھے۔ رات کا وقت تھا۔ سمجھ میں نہیں آیا۔
گڑھے میں پاؤں چلا گیا۔ وہاں پر جنکشن باکس کا کھمبا تھا۔ اندھیرے میں جب گرنے لگے تو اسی کھمبے کو ہاتھ سے پکڑ لیا۔ وہ ایک لمبی کہانی ہے۔
مجھے جو بات عجیب لگتی ہے وہ یہ کہ جب بجلی لگی ہوئی تھی اس وقت بھی پریشان نہیں تھے بلکہ یہ سوچ رہے تھے کہ ابھی تذکیر القرآن ختم نہیں ہوئی اور میرا آخری وقت آ گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے الرسالہ اکتوبر 1983 بعنوان دوبارہ زمین پر۔ میں نے والد صاحب کو کبھی پریشان نہیں دیکھا۔ لوگوں نے بہت زیادہ ستایا۔
لیکن بس وہ یہ سوچتے تھے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ ان کی سوچنے کی طاقت میں آخر وقت تک کمی نہیں آئی تھی۔ لوگوں نے ان کے خلاف مضامین لکھے، کتابیں لکھیں۔ ان باتوں سے کبھی پریشان نہیں ہوتے تھے کیونکہ ان میں بے دلیل تنقیدیں ہوتی تھیں۔
اس قسم کی کتابیں ان کی کتابوں کی الماری میں رکھی ہوئی ہوتی رکھی ہوئی ہوتی لیکن وہ اس کا جواب نہیں دیتے تھے۔ بلا دلیل تنقید کی ان کی نظر میں کوئی وقت نہیں تھی۔ اردو داں طبخہ بلا دلیل باتوں کو تنخیت سمجھتا ہے۔ یہ ہماری قوم کا بہت بڑا المیہ ہے۔
یہ بہت عجیب بات ہے کہ انگریزی الرسالے کے ریڈرز نے کبھی تنقیدی خطوط نہیں لکھے۔ جبکہ اردو ریڈرز کے ایسے خط روز ہی موصول ہوتے تھے۔ اردو طبخہ اختلاف کو برداشت نہیں کرتا۔ جبکہ انگریزی داں طبخے کا یہ مسئلہ ہی نہیں۔
انگریزی میں بادلیل تنقید کو بڑا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ رائٹرز کے اندر کرییٹیوٹی ہے۔ میں نے انگلش میں ایم اے کیا تو اس میں باقاعدہ ایک پیپر تنقید یعنی کریٹیسزم پر تھا۔ بڑے بڑے رائٹرز کی کتابوں پر جب تک کوئی بڑا تنقید نگار اپنا تبصرہ لکھ کر شائع نہیں کرتا وہ مارکیٹ میں نہیں آتی۔
نہ صرف یہ کہ وہ لوگ تنقید کے بارے میں سینسٹو نہیں ہیں بلکہ وہ تنقید کو بہت ضروری سمجھتے ہیں۔ کسی بھی قوم یا فرد کی ترقی اس کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ہم ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے۔ الرسالے کے مختلف شماروں میں والد صاحب نے بہت وضاحت کے ساتھ بتایا کہ ان کا مشن اسلام کو مسلمانوں کے لیے ری ڈسکوری بنانا ہے اور غیر مسلموں کے لیے ڈسکوری بنانا ہے۔
غیر مسلموں سے تعلقات بڑھانا اور ان کو اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے۔ الرسالہ بہت جلد مقبول ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کتابیں برابر شائع ہوتی رہیں۔ پرانی دلی میں جمعیت بلڈنگ کافی انٹیریئر میں تھی۔
وہ جگہ اسانی سے ایکسیسیبل نہیں تھی لیکن نظام الدین ویسٹ آنے کے بعد لوگوں سے ملاقات کی بہت اسانی ہو گئی۔ نظام الدین دہلی کا ایک سینٹرل لوکیشن ہے۔ یہاں آنے کے بعد کافی پروگرام میں جانے کا موقع ملا۔ ہر پروگرام کا مولانا صاحب سفرنامہ لکھتے تھے۔
جن میں سے اکثر الرسالے میں اور بعد میں کتاب شکل میں شائع ہوئے۔ بیرون ہند اسفار نے الرسالے کے عمومی اشاعت میں بہت زیادہ مدد کی۔ ان سفروں کے ذریعے بے شمار تجربات ہوئے جو کسی اور ذریعے سے نہیں ہو سکتے تھے۔ مشن کو پھیلانے میں یہ اسفار بہت معاون ثابت ہوئے۔
بعد کے دور میں والد صاحب اپنے ساتھ ہم لوگوں کو بھی لے جاتے تھے۔ رجت ملہوترہ، نغمہ صدیقی، پریا ملک، ساجد صاحب، ستوتی ملہوترہ، خرم قریشی وغیرہ۔ سفر میں کئی دن کا ساتھ ہوتا۔ اس سے ٹیم کی زبردست ٹریننگ ہوئی۔
سی پی ایس کا قیام 2001 میں عمل میں آیا۔ سی پی ایس میں کئی اعلی تعلیم یافتہ لوگ شامل ہوئے۔ مثال کے طور پر پریا ملک، رجت ملہوترہ، نغمہ صدیقی، نودیپ کپور وغیرہ۔ یہ لوگ اور ان کے ساتھی برابر سنیچر اور اتوار کی کلاس میں شامل ہوتے۔
اس میں تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوتے۔ ثانی حسنین کی صاحبزادی سعدیہ خان، صوفیہ خان اور ماریہ خان اور مسلمہ صدیقی کی صاحبزادی راضیہ صدیقی اور صاحبزادے رامش صدیقی رامش صدیقی یہ لوگ اور ان کے ساتھی اور کلاس میٹ اکثر کلاس میں آتے۔ یہ سب لوگ انگلش سکولوں کے تعلیم یافتہ تھے۔ لہذا وہ اسلام کو اپنے انٹلیکچول لیول پر سمجھنا چاہتے تھے۔
والد صاحب ان کے سوالات کا جواب دیتے۔ جو لوگ سی پی ایس کی سپرچول کلاس میں برابر شریک ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مولانا کو کتابوں سے اتنا نہیں سمجھا تھا جتنا ان سپرچول کلاس سے سمجھا۔ پہلے یہ لوگ ڈائری پر سارے پوائنٹس کو نوٹ کرتے تھے۔
اس کے بعد جب ڈاکٹر نغمہ صدیقی کلاس میں آئیں تو انہوں نے لیپ ٹاپ پر سب کچھ ریکارڈ کرنا شروع کیا۔ اس طرح ساری باتیں دوسروں کو فارورڈ کرنے میں بہت اسانی ہو گئی۔ جلد ہی بعد ثانی حسنین اور دوسرے سی پی ایس ممبرز نے مل کر باقاعدہ اسٹوڈیو بنایا اور والد صاحب کے سارے پروگراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ ہونے لگی جو کہ آج فیس بک اور یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ اس طرح آج ایک بہت مضبوط ٹیم تیار ہو چکی ہے جس میں علماء بھی ہیں اور ماڈرن اعلی تعلیم یافتہ افراد بھی۔
ان کے اندر معرفت، خدا رخی سوچ اور دعوی ورک کا بھرپور جذبہ موجود ہے۔ ہندوستان اور ہندوستان کے باہر مختلف سی پی ایس سینٹر بنے اور پوری دنیا میں دعوی ورک ہونے لگا۔ جب قرآن کا انگریزی ترجمہ اور ہندی ترجمہ شائع ہوا تو دعوی ورک کافی بڑھ گیا۔ ٹیم کے لوگ ہر پروگرام میں جاتے اور وہاں قرآن کا ڈسٹریبیوشن کرتے۔
قرآن ڈسٹریبیوشن کا ایک طریقہ اور بھی اختیار کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر دنیا کے کسی بھی کونے سے آ کر کوئی بھی شخص قرآن کے لیے ایک ریکویسٹ ڈال سکتا ہے۔ اس کو مقامی ٹیم کے ذریعے یا بذریعہ ڈاک اس کی اپنی زبان میں قرآن کا ترجمہ بھیج دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ثانی حسنین نے بہت محنت سے قرآن کا ترجمہ بہت سی زبانوں میں سبسڈائزڈ ریٹ میں دستیاب کیا۔
فی الحال 40 زبانوں میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ مزید تراجم کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ نوبل انعام یافتہ ایچ اے ایچ اے کربز نے اعلی سائنس دانوں کی زندگی کا مطالعہ کیا تو اس نے کہا سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ایک عظیم استاد یا سائنسدان اپنے شاگرد کے ذہن میں حقائق کے بارے میں معلومات سے کہیں زیادہ ایک ذہنی رویہ یعنی ایٹیٹیوڈ منتقل کرتا ہے۔
اس ذہنی رویے میں دو باتیں بالخصوص بہت اہم ہیں۔ ایک عجز یعنی ہیومیلٹی اور دوسرا شوق یعنی انتھوزیاس۔ انتھوزیا انتیوزیازم۔ والد صاحب نے اپنی تمام زندگی مذہبی اعتبار سے یہی کوشش کی۔
اس کو اس کتاب میں موجود تاثرات سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں جب میں دیکھتی ہوں تو مجھے اللہ کی خصوصی مدد کا احساس ہوتا ہے۔ اور والد صاحب کے جانے کے بعد ایک بڑی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔ والد صاحب کہتے تھے کہ میں ٹیم کے لیے بہت زیادہ دعا کرتا ہوں۔
اللہ تعالی والد صاحب کی دعاؤں کو قبول فرمائے۔ ہماری خوب خوب مدد فرمائے تاکہ ہم لوگ والد صاحب کے ایکسپیکٹیشنز پر پورے اتریں اور اللہ تعالی کے یہاں جنت کے ریوارڈ کے مستحق ٹھہریں۔ کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 13۔