Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Daure Dawat
Daure Dawat

ایک واقعہ

Urdu · 5 min

اصل یہ ہے کہ سائنسی علوم کو "ایگزیکٹ سائنسز" کہا جاتا ہے، اس لیے کہ سائنسی علوم تمام تر ریاضیات، یعنی میتھیمیٹکس، پر مبنی ہوتے ہیں۔ یورپ میں جب سائنسی علوم پھیلے تو اس کے نتیجے میں اہلِ یورپ کے درمیان مبنی بر واقعیت سوچ، یعنی ایگزیکٹ تھنکنگ، پیدا ہوئی۔ یہ طرزِ فکر اسلام اور قرآن کے عین موافق تھا۔ اس طرزِ فکر کی بنا پر اہلِ یورپ اسلام اور قرآن کی دعوت کے لیے بہترین مدعو بن گئے۔

اس وقت اگر اہلِ یورپ کو اسلام اور قرآن کی دعوت پہنچائی جاتی تو یقینی طور پر وہ اسلام اور قرآن کے لیے نہایت مثبت جواب، یعنی پازیٹو رسپانس، دیتے۔ مثالیں بتاتی ہیں کہ یورپ کے بہت سے افراد نے اس قسم کا رسپانس دیا، مگر عین اسی زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان نفرتِ مغرب کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں وہ اس دعوتی امکان کو اویل کرنے کے لیے ناکام ثابت ہو گئے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو مغربی سائنس بلاشبہ اسلام کے لیے ایک تائیدی سائنس، یعنی سپورٹنگ سائنس، بن جاتا۔

اسی قسم کا ایک اور واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے بیان کیا ہے۔ انہوں نے یہ واقعہ مضامینِ رشید میں نقل کیا ہے۔ 18 عیسوی یا 19 عیسوی کا واقعہ ہے۔

یونین میں امُ الالسنا عربی پر خواجہ کمال الدین 1870 تا 1932 کی اردو میں تقریر تھی۔ انہوں نے بڑی قابلیت اور اعتماد کے ساتھ تقریر شروع کی۔ مولانا سہیل کی آنکھوں میں تکلیف تھی، سردیوں کا زمانہ تھا، مولانا کو احباب اسپتال لائے تھے۔ یونین میں مجمع دیکھا تو کہا: "مولانا تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریر سنتے چلیں۔

" مولانا نے کہا: "اچھی بات ہے، لیکن آنکھوں میں تکلیف زیادہ ہے، جلد اٹھائیں گے۔ " سب لوگ یونین میں آئے۔ مولانا سر سے پاؤں تک بڑے وزنی لبادے میں ملفوف تھے۔ سر پر اونی کنٹوپ تھا، آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، اور اس پر ہرے رنگ کا چھجہ، یعنی شیڈ، لگا ہوا تھا۔

خواجہ صاحب نے کم و بیش 2 گھنٹے تک تقریر کی۔ حاضرین محوِ حیرت تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو وائس پریسیڈنٹ نے اعلان کیا کہ مولانا سہیل فاضل مقرر کا طلبائے کالج کی طرف سے شکریہ ادا کریں گے۔ مولانا کے خلاف سازش کامیاب ہوئی۔

دوستوں اور ساتھیوں نے مولانا کو ہاتھوں ہاتھ ڈائس پر پہنچا دیا۔ مولانا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میز کے پاس کھڑے کیے گئے۔ تھوڑی سی نازک، اس سے ذرا بڑی، اور ہاتھ کی صرف انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔

مولانا نے بے تکلف تقریر شروع کر دی۔ اس اعتماد سے گویا تمام عمر اسی مبحث پر تیاری کی تھی۔ جو لوگ یونین کے مجمعے سے واقف ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ اچھے مقرر کے بعد کسی اور کی تقریر سننے کے لیے کوئی نہیں ٹھہرتا۔ اور صدر کا شکریہ بھی اسی بد نظمی کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔

مولانا نے بھی امُ الالسنا عربی پر تقریر شروع کی۔ پون گھنٹے تک تقریر کی۔ نئے نئے پہلوؤں سے موضوع پر روشنی ڈالی۔ نئی نئی مثالیں پیش کیں۔

تقریر اس درجہ دل نشین اور کہیں کہیں اتنا شگفتہ بنا دیا کہ خواجہ صاحب نے بے اختیار ہو کر مولانا کو گلے لگا لیا اور فرمایا: "تمہارے ایسا جامع کمالات ساتھ کام کرنے والا مل جائے تو اسلام کا جھنڈا یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر نصب کر دوں۔ " مضامینِ رشید، علی گڑھ، 1964، صفحہ 42 تا 43۔ مولانا اقبال احمد سہیل 1884 تا 1955 اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے، ایم ایل بی تک تعلیم حاصل کی۔

وہ نہایت ذہین آدمی تھے، لیکن اس زمانے کے دوسرے مسلمانوں کی طرح وہ بھی انگریز سے اور یورپ سے نفرت کرتے تھے۔ ان کو اسلام دشمن سمجھتے تھے۔ اس بنا پر وہ خواجہ کمال الدین کی پیشکش کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ تعلیم کے بعد وہ علی گڑھ سے اعظم گڑھ چلے گئے اور وہاں ضلعے کی عدالت میں پریکٹس کرنے لگے۔

اسی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.