Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Daure Dawat
Daure Dawat

ملت مسلمہ کی غفلت

Urdu · 6 min

سائنس، یعنی فزیکل سائنس، اپنی حقیقت کے اعتبار سے گویا اسلام کا علمِ کلام تھا۔ یہ اسلامی علمِ کلام کو قیاسی فلسفے کے بجائے برہانیات پر قائم کرنا تھا، یعنی دلائلِ عقلیہ کی بنیاد پر، مگر عملاً یہ ہوا کہ سائنس کو سیکولر گروہ نے ہائی جیک کر لیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلمان اپنی منفی سوچ کی بنا پر سائنس کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔

وہ انتہائی بے بنیاد طور پر مغرب کی ہر چیز کے خلاف ہو گئے، یہاں تک کہ سائنس کے بھی۔ اگر مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ بروقت اپنا رول ادا کرتا تو سائنس ربانی حقیقتوں کی دریافت کا علم بن جاتا، مگر مسلمانوں کی کوتاہی کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔ اس معاملے میں ایک واقعہ یہاں بطور مثال نقل کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عنایت اللہ مشرقی، یہ واقعہ عنایت اللہ خاں مشرقی، 1888-1963 میں بیان کیا ہے۔

عنایت اللہ خان مشرقی اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ گئے تھے، وہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ جس زمانے میں وہ وہاں تھے، اس وقت سر جیمز جینز کیمبرج یونیورسٹی میں اپلائیڈ ریاضیات، یعنی اپلائیڈ میتھمیٹکس کے پروفیسر تھے۔ عنایت اللہ خاں مشرقی نے سر جیمز جینز کے ساتھ اپنے طالب علمی کے زمانے کے ایک واقعے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: "1909 عیسوی کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا، اور ظہر کی بارش ہو رہی تھی۔ میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہرِ فلکیات سر جیمز جینز پر نظر پڑی، جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے۔

میں نے قریب ہو کر سلام کیا، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوبارہ سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: 'تم کیا چاہتے ہو؟ ' میں نے کہا: 'دو باتیں۔ اول یہ کہ ظہر سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے۔

' سر جیمز اپنی بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتا کھول لیا۔ دوم یہ کہ آپ جیسا شہرِ آفاق آدمی گرجا گھر میں عبادت کے لیے جا رہا ہے۔ یہ کیا؟ " میرے اس سوال پر پروفیسر جیمز لمحہ بھر کے لیے رک گئے اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: "آج شام کو چائے میرے ساتھ پیو۔

" چنانچہ میں شام کو ان کے رہائش گاہ پر پہنچا۔ چنانچہ میں شام کو ان کے رہائش گاہ پہنچا۔ ٹھیک 4 بجے لیڈی جیمز باہر آ کر کہنے لگیں: "سر جیمز، تمہارے منتظر ہیں۔ " اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔

پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے: "تمہارا سوال کیا تھا؟ " اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اجرامِ آسمانی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں، نیز باہمی کشش اور طوفانِ نور پر وہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس داستانِ کبریا و جبروت پر دہلنے لگا۔ اور ان کی اپنی کیفیت یہ تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے، آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دو گنا کیفیتیں عیاں تھیں۔

اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے: "عنایت اللہ خاں، جب میں خدا کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی کا ہر ذرہ میرا ہمنوا بن جاتا ہے۔ مجھے بے حد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے۔ مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے۔

کہو عنایت اللہ خاں، تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں گرجے کیوں جاتا ہوں؟ " علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا۔ میں نے کہا: "جناب والا، میں آپ کی روح افروز تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یاد آ گئی، اگر اجازت ہو تو پیش کروں۔

" فرمایا: "ضرور۔ " چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی: "وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِضٌّ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَ اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ۔ " سورہ نمبر 35، آیت 27 تا 28۔ یعنی پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں، اور گہرے سیاہ بھی۔

اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپائیوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے: "کیا کہا؟ اللہ سے صرف اہلِ علم ڈرتے ہیں؟

" حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ و مشاہدے کے بعد معلوم ہوئی۔ محمد کو کس نے بتائی؟ کیا قرآن میں واقعی یہ آیت موجود ہے؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے۔

محمد ان پڑھ تھا، اسے یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہیں ہو سکتی۔ اسے یقیناً اللہ نے بتائی تھی۔ بہت خوب، بہت عجیب۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.