← Daure DawatDaure Dawat
مغربی اقوام، دوست اقوام
Urdu · 6 min
نزولِ قرآن کے زمانے میں انسانی تاریخ جس مرحلے میں تھی، اس کے لحاظ سے اہلِ ایمان کو یہ فارمولا بتایا گیا کہ اگر کوئی بظاہر تم کو دشمن نظر آئے تو اس کے ساتھ تم ردِعمل کا سلوک نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ یکطرفہ طور پر حسنِ سلوک کا طریقہ اختیار کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن تمہارا دوست بن جائے گا۔ فصلت، سورہ نمبر 41، آیت 34۔
مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حسنِ سلوک کا یہ طریقہ ایک وقتی تدبیر کا طریقہ تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں ایسا عمل، یعنی پروسیس، جاری کیا جس کے نتیجے میں دنیا ایک نئے دور، یعنی ایج، میں داخل ہو گئی، جبکہ قومیں خود حالات کے تقاضے کے تحت عملاً اسلام کی معید، یعنی سپورٹر، بن گئیں۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک انوکھا انقلاب تھا۔ اس انقلاب کی پیشگی خبر پیغمبر اسلام نے اپنی امت کو دے دی تھی۔
یہ روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ اللَّهَ لَئُيدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ یہاں غالباً فاجر کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ فاجر انسان کا مطلب ہے سیکولر انسان۔
غیر مسلم اقوام کے ذریعے اسلام کی تائید کی پیشن گوئی سب سے زیادہ مغربی اقوام پر صادق آتی ہے۔ مغربی اقوام نے غیر معمولی کوشش کے ذریعے جو مادی تہذیب برپا کی، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے پوری طرح معیدِ اسلام تہذیب ہے۔ مغربی اقوام کا معیدِ اسلام ہونا عملاً ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان اس امکان کو جانے اور اس کو اویل کرے۔
اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تمثیل کے ذریعے حقیقتوں کو واضح کرتا ہے۔ البقرہ، سورہ نمبر 2، آیت 26۔ چنانچہ اس معاملے میں اللہ نے ایک تاریخی مثال کے ذریعے اہلِ ایمان کو بتایا کہ کس طرح مخالف قوم کو موافق قوم بنایا جا سکتا ہے۔ یہ مثال جاپان کی ہے، جو کہ 20ویں صدی میں پیش آئی۔
اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ جاپان کی سیکولر مثال کو اسلامائز کریں اور اس کو اپنے حالات پر منطبق کریں۔ دوسری عالمی جنگ 1939-1945 سے پہلے جاپان میں امریکوفوبیا کا غلبہ تھا۔ جاپانی قوم بطور خود امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتی تھی۔ جاپان کا امریکوفوبیا اتنا بڑھا کہ غالباً تاریخ میں پہلی بار جاپانی نوجوانوں نے امریکہ کے خلاف خودکش بمباری کا طریقہ اختیار کیا۔
انہوں نے 1941 میں امریکہ کے بحری اڈے پرل ہاربر کو خودکش بمباری کے ذریعے تباہ کر دیا۔ اس کے بعد امریکہ میں انتقامی جذبہ بھڑکا۔ انہوں نے 1945 میں جاپان کے دو شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی، پر ایٹم بم گرائے۔ یہ اتنا شدید حملہ تھا کہ اس کے بعد جاپان کے لیے لڑائی کا آپشن باقی نہ رہا۔
تاہم مختلف اسباب کے تحت جاپانی قوم نے اپنے آپ کو منفی ردِعمل، یعنی ری ایکشن، سے بچایا۔ انہوں نے غیر جانبدارانہ انداز میں سوچا، تو وہ اس دریافت تک پہنچے کہ امریکہ نہ کسی کا دشمن ہے نہ کسی کا دوست۔ امریکہ کا فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ اس کا سیلف انٹرسٹ ہے۔ چنانچہ امریکہ میں کہا جاتا ہے: "The business of America is business" چنانچہ جاپان نے یہ فیصلہ کیا کہ امریکہ کو اپنا دوست ملک بنا لیں تو امریکہ بھی ہمیں اپنا دوست ملک بنا لے گا۔
اس کے بعد جاپان نے یو ٹرن لیا۔ انہوں نے امریکہ سے نزاع کی پالیسی کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا۔ اس پالیسی نے جاپان کو یہ موقع دیا کہ وہ امریکہ کے سپورٹ سے اپنی قومی ترقی کا سفر نہایت تیزی کے ساتھ جاری کر سکے۔ یہ پالیسی کامیاب رہی، یہاں تک کہ 25 سال بعد جاپان دنیا کے نقشے پر ایک نئی طاقت بن کر ابھرا، یہاں تک کہ وہ اقتصادی سپر پاور، یعنی اکنامک سپر پاور، کے درجے تک پہنچ گیا۔
یہ تاریخی ظاہرہ، یعنی ہسٹوریکل فینامینن، اہلِ اسلام کی رہنمائی کے لیے ابھرا ہے۔ اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ویسٹوفوبیا کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ وہ دل سے مغرب، یعنی ویسٹ، کو اپنا دوست قرار دیں۔ اگر مسلمان ایسا کر سکیں تو بہت جلد دنیا یہ واقعہ دیکھے گی کہ مسلمان دیگر اقوام کی تائید سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی قوم بن کر ابھری ہے، جنگجو قوم نہیں بلکہ پرامن، یعنی پیس فل قوم کی حیثیت سے۔
پھر وہ واقعہ عالمی سطح پر پیش آئے گا جس کا انسانی تاریخ کو لمبی مدت سے انتظار ہے۔ یعنی وہ واقعہ جس کی پیشن گوئی ساتویں صدی کے ربع اول میں قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا سورہ نمبر 25، آیت 1۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہاں والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔