قرآن 7ویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا، اس وقت کشتیِ نوح کا ماضی بھی لامعلوم تھا اور اس کا مستقبل بھی لامعلوم۔ نزولِ قرآن کی 1000 سال سے بھی زیادہ مدت گزرنے کے بعد کشتیِ نوح کے ماضی کے بارے میں قرآن کا بیان کامل طور پر درست ثابت ہوا۔ اسی طرح یقینی ہے کہ کشتیِ نوح کے مستقبل کے بارے میں قرآن کا بیان کامل طور پر درست ثابت ہوگا۔ ماضی کے بارے میں قرآن کے بیان کا درست ثابت ہونا اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کے بارے میں بھی اس کا بیان درست ثابت ہوگا۔
ایک پہلو سے قرآن کی اعتباریت، یعنی کریڈیبلٹی، ثابت ہونے کے بعد دوسرے پہلو سے قرآن کی اعتباریت اپنے آپ درست ثابت ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشتیِ نوح کا ظہور علامتی طور پر ایک پوری تاریخ کا ظہور ہے؛ یہ خدا کے تخلیقی منصوبے اور اس کے مطابق پیغمبرانہ مشن کی صداقت کا مستند اعلان ہے۔ کشتیِ نوح کا ظہور انسان کو یہ پیغام دیتا ہے: اے لوگو، محاسبے کا وقت بہت قریب آ چکا، خدا کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کرو، اس سے پہلے کہ تم کو خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے کھڑا کر دیا جائے۔ کشتیِ نوح کا ظہور سادہ طور پر صرف آرکیالوجی کا ایک آئٹم نہیں ہے؛ وہ خدا کے تخلیقی پلان کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔
کشتیِ نوح علامتی طور پر بتاتی ہے کہ پیدا کرنے والے نے انسان کو کس مقصد کے تحت پیدا کیا ہے، اور اس مقصد کے تحت آخر کار اس کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ ہونے والا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.