قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی کشتی کو آیت، یعنی سائن، کا درجہ دے دیا۔ وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آَيَةً فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورہ نمبر 54، آیت 15۔ یعنی ہم نے کشتی کو ایک نشانی کے طور پر باقی رکھا، تو کیا ہے کوئی نصیحت لینے والا؟ اس تذکیری مقصد کے اعتبار سے حضرت نوح کا انتخاب سب سے زیادہ موضوع انتخاب ہے۔
حضرت نوح قبل از تاریخ دور میں پیدا ہوئے، اس لیے ہزاروں سال تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ خالص تاریخی اعتبار سے حضرت نوح کا کوئی وجود نہیں۔ ایسی حالت میں بائبل اور قرآن میں حضرت نوح اور ان کی کشتی کا ذکر کوئی سادہ بات نہ تھی؛ اس کی حیثیت نامعلوم تاریخ کے بارے میں ایک پیشن گوئی، یعنی پریڈکشن، کی تھی۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو کشتی اور طوفان نوح کا بطور ایک تاریخی واقعہ دریافت ہونا بے حد اہم ہے۔ وہ ثابت کرتا ہے کہ انسانی زندگی کی نوعیت کے بارے میں قرآن کا بیان بالکل درست ہے۔
پیغمبروں نے جس آخرت اور اس کے محاسبے کی خبر دی تھی، وہ بالکل صحیح خبر تھی۔ دابہ کا ظہور گویا اسی حقیقت کا ایک خاموش اعلان ہے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان بیدار ہو، وہ دابہ کی خاموش آواز کو سنے، وہ قرآن کا دوبارہ مطالعہ کرے، وہ خدا کے تخلیقی نقشہ یعنی کریشن پلان آف گاڈ کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ انسانی تاریخ بظاہر اپنے خاتمے کے دور میں پہنچ چکی ہے۔
اب اپنی اصلاح کے لیے انسان کے پاس بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ لوگوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اس وقت کی تیاری کریں جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ سورہ نمبر 7، آیت 34۔ یعنی جب ان کا وقت آ جائے گا تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.