لطیف دنیا میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ مایوس نہ ہوں، بلکہ صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ کسی سے ان کو تکلیف پہنچے تو اس کے حق میں دعائیں دیں، کسی سے معاملہ پڑے تو انصاف کے مطابق اس کے حقوق ادا کریں۔ کوئی تنقید کرے تو اس کو برا مانے بغیر ٹھنڈے دل سے سن لیں۔ کسی سے شکایت ہو تب بھی اس کے بارے میں انصاف کا رویہ نہ چھوڑیں۔
جب بھی کسی سے معاملہ پڑے تو دوسرے شخص کو ان سے بہتر سلوک کا تجربہ ہو۔ مومن وہ ہے جو دنیا کی زندگی میں خدا کا ایسا پھول بن جائے جو اپنی کثافت کو بھی مہک کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ ایسی پاک زندگی گزارنے کی توفیق ان لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کو اس طرح یاد کرنے لگیں جس طرح کوئی آدمی سانس لیتا ہے۔ وہ اللہ کو اس طرح پالیں کہ وہ ان کی روح کے اندر تیر جائے، وہ ان کے دل کی دھڑکنوں میں شامل ہو جائے، وہ اللہ کے خوف و محبت میں نہا اٹھیں۔
جہاں لوگوں میں سرکشی بھڑکتی ہے، مومن تواضع سے جھک جاتا ہے۔ جب نفرت امڈتی ہے، وہ محبت کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ جب بدخواہی کا موقع ہو تو وہ خیرخواہی کا ثبوت دیتا ہے۔ جہاں حقوق دبائے جاتے ہیں، وہ انصاف کے ساتھ حقوق لوٹاتا ہے۔
جب اعتراف کرنے میں وقار گرتا ہے تو وہ سچائی کا اعتراف کر لیتا ہے۔ جب جوابی کارروائی کا ذہن ابھرتا ہے تو اس وقت بھی وہ وہی کرتا ہے جو انصاف کے مطابق ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.