خدا کو اپنی جنت میں بسانے کے لیے وہ حقیقت پسند انسان مطلوب ہے جو خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی دنیا میں اس طرح رہے جیسے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ خدا کی بڑائی اور اس کے کمالات اس کے ذہن پر اس طرح چھا جائیں کہ وہ اس کو ہر وقت یاد آنے لگے۔ اس کا دل ہر وقت خدا کی باتوں سے سرشار رہے، اور اس کی پوری زندگی خدا کے گرد گھومنے لگے۔
جنت کی حسین دنیا میں رہنے کا اہل صرف وہ ہے جو خدا کو اس طرح اپنا معبود بنا لے کہ وہی اس کی زندگی بن جائے۔ جو اپنے شعور کو اس حد تک ترقی دے کہ اپنے آپ کو اپنے سے الگ ہو کر دیکھنے لگے۔ جو خود مختار ہو کر بھی پابند زندگی گزارے۔ جو آزاد ہو کر بھی اپنی آزادی کو مقرر دائرے میں استعمال کرے۔
یہ بلند نظری اور حقیقت پسندی کا وہ مقام ہے جہاں آدمی نفسیاتی پردوں سے باہر آ کر سوچتا ہے۔ جہاں وہ اپنے آپ کو ذاتی نگاہ سے نہیں بلکہ حقیقتِ واقعے کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ جہاں وہ مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی ہمہ تن اپنے آپ کو اپنے آقا کے آگے جھکا دیتا ہے۔ جہاں مخالف ترغیبات کے باوجود وہ اپنے آپ کو اللہ کی حدود پر قائم رکھتا ہے۔
جہاں ڈھٹائی کے مواقع ہوتے ہوئے بھی وہ سرتاپا اپنے کو حق کے آگے ڈال دیتا ہے۔ مالکِ کائنات کے ظہور کے بعد لوگوں کا جو حال ہوگا، وہ حال اس کا اسی وقت ہو جاتا ہے جبکہ مالکِ کائنات ابھی غیب کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.