جنت ایک مثالی دنیا ہے جو مخصوص خدائی اہتمام کے تحت بنائی جائے گی۔ موجودہ دنیا دکھ اور محنت کی دنیا ہے، اور موت کے بعد آنے والی دنیا خوشیوں اور لذتوں کی دنیا۔ موجودہ دنیا میں وہ انسان چنے جا رہے ہیں جو آنے والی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ اگلی دنیا میں عزت و مسرت کے لازوال مکانات میں بسانے کے لیے وہ لوگ مطلوب ہیں جو اخلاقِ خداوندی کو اپنا اخلاق بنائیں۔
اخلاقِ خداوندی کیا ہے، اس کے نمونے آج کی دنیا میں انسان کے چاروں طرف پھیلا دیے گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دل و دماغ میں پہاڑوں کی بلندیاں اور سمندروں کی وسعتیں لیے ہوئے ہوں، جو ہواؤں کی مانند لوگوں سے ٹکرائے بغیر ان کے بیچ سے گزر جانے والے ہوں، جو ستاروں اور سیاروں کی طرح خاموش سفر کرنا جانتے ہوں، جو سورج کی طرح اپنوں اور غیروں کے اوپر یکساں چمکنے والے ہوں، جو پھول کی طرح شہرت اور عزت سے بے نیاز ہو کر کھلنا جانتے ہوں، جو دریا کی مانند حسد اور نفرت سے خالی ہو کر زمین کے سینے پر بہہ رہے ہوں، جو درخت کی طرح ساری کائنات کو اپنے لیے ربانی غذا کا دسترخوان بنا چکے ہوں، جو زمین پر پڑے ہوئے سائے کی طرح کبر و غرور سے خالی ہو کر اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دینے والے ہوں۔ جو لوگ آج کی دنیا میں ان ربانی خصوصیات کے حامل بنے، وہی وہ لوگ ہیں جو آنے والی جنتی دنیا کے مالک ہوں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.