Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Bagh-e-Jannat
Bagh-e-Jannat

داعی، خدا کا نمائندہ

Urdu · 2 min

خدا کا داعی خدا کے سمندر میں نہاتا ہے، وہ خدا سے الفاظ پا کر بولتا ہے۔ اس طرح اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کے گیت گائے، وہ فطرت کے ساز پر خدا کے ابدی نغمے چھیڑے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ پھر بھی وہ اس سے کوئی اثر نہیں لیتا، پھر بھی وہ اپنے بند سینے کو نہیں کھولتا۔

خدا کی طرف سے ایک پکارنے والے کا وجود میں آنا، کسی مشین پر بجنے والے ریکارڈ کا وجود میں آنا نہیں ہے۔ یہ روحِ انسانی میں ایک ایسے انقلاب کا برپا ہونا ہے جس کی شدت جوالہ مکھی پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔ داعی کا بولنا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر لانا ہوتا ہے، اس کا لکھنا اپنے خون کو سیاہی بنانے کے بعد وجود میں آتا ہے۔ اس کے نغمے محض نغمے نہیں ہوتے، بلکہ روحِ انسانی میں ایک لطیف ترین خدائی بھونچال کی آواز ہوتے ہیں۔

مگر اس دنیا کا یہ سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے کہ ایسے ربانی کلمات بھی انسان کو نہیں پگھلاتے۔ داعی اپنے پورے وجود کے ساتھ نظیرِ عریاں بن جاتا ہے، اس کے باوجود آدمی اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ انسان کے سامنے جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں، مگر وہ وجد میں نہیں آتا۔ اس کو بھڑکتے ہوئے جہنم کا نقشہ دکھایا جاتا ہے، پھر بھی اس پر گریا طاری نہیں ہوتا۔

اس کے سامنے خدا خدا کر کھڑا ہو جاتا ہے، اس کے باوجود وہ سجدے میں نہیں گرتا۔ انسان سے زیادہ نازک مخلوق خدا نے کوئی نہیں بنائی، مگر انسان سے زیادہ بے حسی کا ثبوت بھی اس دنیا میں کوئی نہیں دیتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.