خدا جب اپنے بندے کے کسی عمل کو قبول کرتا ہے تو اس وقت حیرت انگیز طور پر کچھ ملکوتی قسم کی کیفیات آدمی کے اوپر گزرتی ہیں۔ یہ اس جنت کا تعارف ہے جس کا وعدہ سچے بندوں سے کیا گیا ہے۔ یہ باغِ بہشت کی خوشبو ہے جس کو اہلِ ایمان دنیا کے اندر پاتے ہیں۔
یہ کیفیات اگرچہ تڑپ کی صورت میں ہوتی ہیں، مگر وہ تمام لذتوں سے زیادہ لذیذ ہیں۔ جب آدمی کو ایسا صدقہ کرنے کی توفیق ملتی ہے جبکہ وہ انسان کو دے کر خدا سے پا رہا ہو۔ جب اس کو ایسی تلاوت نصیب ہوتی ہے جبکہ خدا کے کلام کا تاثر اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑے۔ جب اس پر ایسے درد انگیز لمحات گزرتے ہیں جس میں وہ قربتِ خداوندی کا تجربہ کرتا ہے۔
جب وہ بے قرار دل اور کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ اپنے رب کو ایسے الفاظ میں پکارنے لگتا ہے جو خود اس کے رب کی طرف سے اس کے قلب پر اتارے گئے ہوں۔ تو یہ سب اللہ کا رزق ہوتا ہے جو اس کو روحانی ذریعوں سے پہنچتا ہے۔ وہ ان جنتی پھلوں میں سے ایک پھل کا مزہ چکھتا ہے جو خدا نے اپنے نیک بندوں کے لیے چھپا رکھے ہیں۔ آج یہ پھل ایمانی کیفیات کی صورت میں ملتے ہیں اور کل وہ جنت کے ابدی انعامات کی صورت میں اس کے حوالے کیے جائیں گے۔
دنیا میں اگر آپ خدا سے قریب نہیں ہوئے تو آخرت میں آپ کو خدا کی قربت کس طرح مل سکتی ہے؟ جس کی عبادت دنیا میں اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں بنی، اس کو آخرت کی وہ نعمتیں کس طرح ملیں گی جن کو پا کر ہمیشہ کے لیے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں؟
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.