جو لوگ خدا کی کتاب کی بنیاد پر کھڑے ہوں، ان پر خدا کے خصوصی انعامات ہوتے ہیں، اور آخرت میں ان کے لیے جنت کی بشارتیں دی جاتی ہیں۔ مگر یہ انعامات کسی نسل یا قوم سے تعلق کی بنیاد پر نہیں ہوتے، بلکہ صرف کردار کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ بعد کے دور میں اس گروہ کے افراد اس فرق کو بھول جاتے ہیں۔ اب لوگ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ وہ خواہ عمل کریں یا نہ کریں، خدا کے وعدے ان کے حق میں ضرور پورے ہوں گے۔
وہ ضرور خدا کی ابدی جنتوں میں داخل ہوں گے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم میں جب دین کی اصل روح زندہ ہو، تو اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ خدا کے عادلانہ قانون میں اندھیر نہیں ہے۔ وہاں کسی کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے کیا ہے، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم۔
اس کے برعکس جب دین کی اصل روح مٹ جاتی ہے تو خوش خیالیاں جنم لیتی ہیں۔ لوگ حقیقی عمل کے بجائے فرضی امیدوں میں جینے لگتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ محض ایک خاص گروہ سے وابستہ ہونے کی بنا پر وہ جنتوں میں داخل کر دیے جائیں گے، خواہ وہ عمل کریں یا نہ کریں۔ آخرت کی سرفرازیاں ان لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا میں عدلِ خداوندی کی سطح پر زندگی گزاری ہو، جنہوں نے خدائی حقیقتوں سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا ہو، جو دوزخ کے سامنے آنے سے پہلے دوزخ سے بھاگے ہوں، اور جنت کو دیکھنے سے پہلے جنت کی طرف دوڑ پڑے ہوں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.