خدا کو اپنی جنتی دنیا میں بسانے کے لیے کیسے انسان مطلوب ہیں، اس کا نمونہ اس نے موجودہ کائنات میں قائم کر دیا ہے۔ جو آدمی خدا کی ابدی نعمتوں میں حصے دار بننا چاہتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ خدا کی پسند کو اپنی پسند بنائے، وہ خدا کی تابعداری میں بقیہ کائنات کا ہمسفر بن جائے۔ کائنات میں جو واقعہ لوہے کی صورت میں پایا جاتا ہے، وہ انسانی سطح پر بے لچک کردار کی صورت میں مطلوب ہے۔ جو چیز پتھریلی زمین سے پانی کی صورت میں بہہ نکلتی ہے، وہ انسان سے نرم مزاجی کی صورت میں مطلوب ہے۔
فطرت میں جو چیز اٹل قوانین کی صورت میں پائی جاتی ہے، وہ انسان سے عہد کی پابندی کی صورت میں مطلوب ہے۔ مادی دنیا میں جو چیز مہک اور لذت اور رنگ کی صورت میں پائی جاتی ہے، وہ انسان سے خوش معاملگی کی صورت میں مطلوب ہے۔ خلا میں کھربوں ستارے مسلسل حرکت کرتے ہیں، مگر ان میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہی واقعہ انسان کی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ ہر آدمی اپنے اپنے دائرے میں اس طرح سرگرم ہو کہ ایک اور دوسرے کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔
درخت کاربن لے لیتا ہے اور آکسیجن ہماری طرف لوٹاتا ہے، یہی چیز انسانی سطح پر اس اخلاقی اصول کی صورت میں مطلوب ہے کہ جو تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو۔ پہاڑ اور تمام کھڑی ہوئی چیزیں اپنا سایہ زمین پر ڈال دیتی ہیں، یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ ہر آدمی تواضع اختیار کرے۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہ کرے، کوئی دوسرے کے مقابلے میں اپنے کو بڑا نہ سمجھے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.