خدا کا مطالبہ یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اثاثے کو خدا کے حوالے کر دے۔ اس کے معاوضے میں خدا نے آخرت میں اپنی جنت کا وعدہ کیا ہے۔ آدمی اکثر اپنے آپ کو بچا کر رکھتا ہے اور اس کے جواب میں دشواریوں کی ایک فہرست پیش کر دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی دشواریاں وہ قیمتی مواقع ہیں جن کو عذر نہ بنا کر وہ اپنے رب کو خوش کر سکتا ہے۔ آدمی جن مسائل کی بنا پر اسلام کی طرف بڑھنے سے رکتا ہے، وہی دراصل اس کے لیے ترقی کے زینے ہوتے ہیں۔
وہ اس لیے نہیں ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر رک جائے؛ وہ اس لیے ہیں تاکہ آدمی انہیں پھان کر آگے بڑھ جائے، وہ ان کو خدا تک پہنچنے کا زینہ بنا لے۔ خدا کے نزدیک اس کا سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی تمناؤں کو اس کے لیے دفن کر دے، جو اپنے آرام کو اس کی خاطر چھوڑ دے، جو اپنی مشکلات کو نظرانداز کر کے اس کی طرف بڑھ جائے۔ دنیا میں کسی کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ وہ یہاں کچھ حاصل کر لے؛ کامیاب دراصل وہ ہے جو خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دے۔ سب سے زیادہ صحت مند وہ ہے جس کی صحت خدا کی راہ میں برباد ہو گئی ہو۔
سب سے زیادہ صاحبِ مال وہ ہے جو خدا کی خاطر بے مال ہو جائے۔ سب سے زیادہ بلند مرتبہ وہ ہے جو خدا کے لیے بے مرتبہ ہو گیا ہو۔ سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہے جو بالکل لٹا ہوا اپنے رب کے پاس پہنچے، کیونکہ اس کا رب اپنی رحمتوں کو اس کے اوپر انڈیل دے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.