آخرت میں جنت کی لذتیں اس شخص کو ملیں گی جس کے لیے جنت والے اعمال اسی دنیا میں لذیذ بن گئے ہوں۔ جب آدمی کا حال یہ ہو جائے کہ وہ دنیا کے دکھائی دینے والے سہاروں سے زیادہ خدا کے نہ دکھائی دینے والے سہارے پر بھروسہ کرنے لگے، دنیاوی چیزوں کی محبت سے زیادہ خدا کی محبت اس کو عزیز ہو، اور دنیاوی چیزوں کے خوف سے زیادہ خدا کا خوف اس کے لیے اہمیت رکھتا ہو۔ رسول کے بتائے ہوئے طریقے کو قبول کرنا اس کو ہر حال میں پسند ہو، خواہ وہ اس کے ذوق کے خلاف کیوں نہ ہو۔
وہ دنیا کی مصلحتوں کے بجائے آخرت کی مصلحتوں کو اہمیت دے۔ حق کو نظرانداز کرنے کے مقابلے میں حق کو مان لینا اس کی نظر میں زیادہ محبوب بن جائے۔ بے فکری کے ساتھ قہقہہ لگانے سے بڑھ کر تسکین اس کے دل کو اس وقت ملتی ہو جب کہ وہ اللہ کے لیے آنسو بہا رہا ہو۔ وقار کا سوال اگر سچی بات کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنے تو وہ اپنے وقار کو مجروح کر کے سچائی کا طریقہ اختیار کرنے پر تیار ہو جائے۔
جب اس کو کسی سے شکایت ہو جائے تو اس سے انتقام لینے کے بجائے اس کو معاف کر دینے میں اس کا دل ٹھنڈک پاتا ہو۔ حقوق کو غصب کرنے سے زیادہ اس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ دوسروں کے حقوق ادا کرے۔ جب اس کے سینے میں حسد اور بغض کے جذبات بھڑک اٹھیں تو ان کو ظاہر کرنے کے بجائے ان کو کچل ڈالنا اس کو زیادہ محبوب ہو۔ کسی کے خلاف بری رائے قائم کرنے سے زیادہ اس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اس کے بارے میں اچھی رائے قائم کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.