جنتی وہ ہے جس پر جنت سے پہلے جنت کا تجربہ گزر جائے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے دنیا میں ان کیفیات کو پا لیا ہو جو آخرت میں اس کو جنت کا مستحق بنانے والی ہیں۔ جس کے رونگٹے کھڑے ہو کر اس کو خدائی محاسبے کا احساس دلا چکے ہوں۔
جس کے قلب پر ٹکڑے کر دینے والی تجلیات کے نزول نے اس کو قربتِ خداوندی سے آشنا کیا ہو۔ جس نے بغض و انتقام کے جذبات کو اپنے اندر کچل کر عفوِ خداوندی کا مشاہدہ کیا ہو۔ جس نے اپنے ندامت کے آنسوؤں میں وہ منظر دیکھا ہو جبکہ ایک مہربان آقا اپنے خادم کے اعترافِ قصور پر اس سے درگزر فرماتا ہے۔ جس پر یہ لمحہ گزرا ہو کہ ایک شخص پر قابو پانے کے باوجود وہ اس کو اس لیے چھوڑ دے کہ اس کا خدا بھی اس دن اسے چھوڑ دے جبکہ وہ بالکل عاجز ہو کر اس کے سامنے کھڑا ہوا ہوگا۔
جو اختیار کے باوجود اپنی زبان کو صرف خدا کی خاطر روک لے۔ جو حق کے آگے اس طرح گر پڑے جیسے لوگ آخرت میں خدا کو دیکھ کر ڈہ پڑیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن جنت کا ایک پھول ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں آنے والی دنیا کا ایک ابتدائی شگوفہ ہے۔
مومن پر وہ سارے تجربات اسی دنیا میں گزر جاتے ہیں جو دوسروں پر موت کے بعد گزرنے والے ہیں۔ آدمی کی زندگی میں مختلف قسم کے جو حالات پیش آتے ہیں، انہی میں ہر آدمی کی جنت اور جہنم چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ ان حالات میں کوئی شخص شیطان کا انداز اختیار کر کے جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے، اور کوئی شخص فرشتوں کا انداز اختیار کر کے جنت کا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.