جنت اس کے لیے ہے جو جنت کا طالب ہو، اور جنت کا طالب وہ ہے جس کے لیے جنت کے مقابلے میں ہر دوسری چیز بے قیمت ہو جائے۔ جو شخص حقیقی معنوں میں جنت کا طالب ہو، اس کی نگاہ میں دنیا کی تمام چیزیں حقیر بن جاتی ہیں۔ اخروی چیزوں کی اہمیت کا احساس دنیاوی چیزوں کو اس کی نظر میں غیر اہم بنا دیتا ہے۔ جب آدمی کا ذہن آخرت کی باتیں سوچنے میں اتنا گم ہو کہ وہ دنیا کی باتیں بھولنے لگے، جب آخرت کا غم اس کے اوپر اس طرح چھا جائے کہ دنیا کے غم اس کو یاد نہ آئیں۔
جب آنے والے مستقل آرام و تکلیف کا مسئلہ اس کو اتنا فکرمند بنا دے کہ عارضی آرام و تکلیف کے مسئلے اس کے لیے بے حقیقت ہو جائیں۔ جب کل کی زندگی اس کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے کہ آج کی زندگی کے بارے میں وہ لوگوں کو غافل نظر آنے لگے۔ جب بلند تر حقیقتوں کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے وہ دنیا میں اس طرح رہنے لگے گویا وہ دنیا میں نہیں ہے۔ جب وہ دنیا کا کوئی آرام دیکھے تو یہ سوچ کر رو پڑے کہ معلوم نہیں آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔
اور جب کوئی تکلیف اس کو ستائے تو اس کی زبان سے نکلے کہ خدایا دنیا کی معمولی تکلیف تو برداشت نہیں ہوتی، پھر آخرت کی تکلیف کس طرح برداشت ہوگی؟ جب دنیا کی لذتیں اس کو تسکین نہ دے سکیں اور دنیا کی مصیبتیں اس کی نگاہ میں حقیر بن جائیں۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کے ماننے والے بنیں۔ انہی خوش نصیب روحوں کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.