جنتی عمل وہ ہے جو آدمی کے اندر جنت کے پھول کھلا رہا ہو، جس کو کرنے کے دوران آدمی کو خود بھی کچھ ملے۔ اگر آدمی بظاہر سرگرمیاں دکھا رہا ہو اور اس کا اپنا وجود کچھ پانے سے محروم ہو، تو اس کی سرگرمیوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی عمل ہے جس کے دوران آدمی کے ذہن میں شعور کی چنگاری پڑے، اس کے دل میں سوز و تڑپ کا کوئی لاوا ابلے، اس کی روح کے اندر کوئی کیفیاتی ہلچل پیدا ہو، اس کے اندرون میں کوئی ایسا حادثہ گزرے جو برتر حقیقتوں کی کوئی کھڑکی اس کے لیے کھول دے۔ آخرت کے پیمانے میں اہمیت کی چیز یہ نہیں ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں، اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آپ کیا ہو رہے ہیں۔
اگر آپ کی مصروفیات بہت بڑھی ہوئی ہوں، اگر بتانے کے لیے آپ کے پاس بہت سے کارنامے ہوں، مگر آپ کی اندرونی ہستی خالی ہو، تو آپ کی مصروفیات محض بے فائدہ سرگرمیاں ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہوائیں ہوں مگر ان سے آکسیجن نہ ملے، پانی ہو مگر اس سے سیرابی حاصل نہ ہو، غذا ہو مگر اس سے آدمی کو قوت نہ ملے، سورج ہو مگر وہ روشنی نہ دے رہا ہو، تو ایسا ہونا ہونا نہیں ہے بلکہ نہ ہونے کی بدترین شکل ہے۔ غیر جنتی انسان وہ ہے کہ جب وہ بولے تو اس کے الفاظ اس کے دل کی دھڑکن نہ بنیں، وہ عمل کرے مگر اس کا عمل اس کے دل کو نہ چھوئے۔ اس کے برعکس جنتی انسان وہ ہے جس کا عمل اس کے لیے روحانی تجربہ بن رہا ہو، اس کی ہستی کو کیفیت کی غذائیں مل رہی ہوں، اس کی ظاہری کارروائیاں اس کے اندرونی وجود میں ہلچل پیدا کرنے کا سبب بن جائیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.