درخت کو دیکھیے، اس کا تنا کس قدر سخت اور طاقتور ہے۔ مگر اس کی پتی، اس کا پھول، اور اس کے پھل اتنا ہی زیادہ نازک اور کمزور ہیں۔ ایک شخص جب پتیوں کے حسن، پھولوں کی رنگ کاری، اور پھلوں کی لطافت پر غور کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ درخت کے یہ نرم و نازک حصے، اس کے مضبوط حصوں سے زیادہ قدرت کی توجہ کے مستحق رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنا اور شاخیں اس لیے تھیں کہ وہ تخلیق کے اس نرم و نازک شاہکار کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنیں، جن کو پتی اور پھول اور پھل کہا جاتا ہے۔
یہ خدا کی طرف سے ایک خاموش اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان سے اس کے خالق کو کیا مطلوب ہے۔ زندگی کے درخت کو حسین پھولوں کے انجام تک پہنچانے کے لیے آدمی کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ یہ ہے کہ آدمی طاقت سے زیادہ معنویت کا دلدادہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
انسان پتھروں کے آگے جھکتا ہے اور سچائی کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ لوگ طاقتور تنوں پر اپنے حسن سلوک کا ثبوت دے رہے ہیں، حالانکہ ان کا خدا ان سے پھولوں اور پتیوں کی سطح پر حسن سلوک کا نذرانہ مانگ رہا ہے۔ لوگ بڑوں کا استقبال کر کے اپنی شرافت اور انسانیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، حالانکہ خدا جہاں ان کی شرافت اور انسانیت کو دیکھنے کا منتظر ہے، وہ اس کے وہ بندے ہیں جن کو چھوٹا سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ لوگ شہرت کے مواقع پر پیسہ دے کر فیاضی کا ٹائٹل لے رہے ہیں، حالانکہ خدا کے یہاں فیاضی کا ٹائٹل اس کو ملتا ہے جو ایسے مواقع پر پیسہ دے جہاں جیب خالی کر کے بھی شہرت اور عزت حاصل نہیں ہوتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.