بندہ جب تواضع کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ خدا کے قریب ترین ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا کے دربار میں کسی بندے کے لیے جو سب سے قریبی نشست ہے، وہ تواضع ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تواضع اگر نمائشی نہ ہو بلکہ حقیقی ہو، تو وہ آدمی کے لیے سب سے لذیذ چیز ہوتی ہے۔ کیونکہ خدا کی اس دنیا میں وہ اپنی اصل حیثیت کا اعتراف ہوتا ہے۔
وہ خدا کے سب سے قریب پہنچ جانے کے ہم معنی ہے۔ جس آدمی کو عبدیت کے مقام کی خبر نہ ہو، عبدیت اس کے لیے لذیذ چیز نہیں بن سکتی۔ جو شخص امتیاز میں جیتا ہو، وہ مساوات کی لذت کو کس طرح پائے گا؟ جو اپنی انا میں گم ہو، وہ خدا کی کبریائی کے اعتراف کا مزہ کیسے چکھے گا؟
جو دوسروں کو غلط ثابت کر کے خوش ہو رہا ہو، اس کو اپنی غلطی جاننے اور ماننے کی خوشی کیسے حاصل ہوگی؟ جو اپنے کو ایک پیمانے سے ناپے اور دوسروں کو دوسرے پیمانے سے ناپے، وہ کیوں کر جانے گا کہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک پیمانہ رکھنا اتنی بڑی دولت ہے کہ دنیا کی تمام دولتیں اس پر قربان کی جا سکتی ہیں؟ جنتی انسان وہ ہے جس کے لیے جنتی عمل دنیا میں سب سے بڑی لذت بن جائے، عبادت میں بھی اور دوسرے معاملات میں بھی۔ حسد کے جذبات کو کچلنا، انتقام کی آگ کو بجھانا، گروہی عصبیت سے اپنے کو اوپر اٹھانا، اختلاف کے باوجود انصاف کرنا، خوشامد کے بجائے حق کی بنیاد پر انسان کی قدر کرنا—یہ سب چیزیں اس کے لیے اس طرح لذیذ بن جائیں کہ ان کو چھوڑنا اس کے لیے ممکن نہ رہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.