جنت کا ماحول وہ ماحول ہوگا جہاں ہر طرف خدا کی حمد ہو رہی ہوگی۔ خدا کی بڑائی کے سوا کسی اور کی بڑائی کا وہاں چرچا نہ ہوگا۔ اس لیے وہی لوگ جنت کی دنیا میں رہنے کے قابل ٹھہریں گے جو آج کی دنیا میں خدا کی حمد اور اس کی بڑائی سے سرشار رہے ہوں۔ اپنی یا کسی دوسرے کی بڑائی کے احساس سے جن کا سینہ خالی رہا ہو۔
جنت کی دنیا میں قول و عمل کا فرق نہ ہوگا۔ وہاں کوئی کسی کو دھوکہ نہ دے گا۔ وہاں کوئی کسی کا استحصال کرنا نہ چاہے گا۔ وہاں کوئی کسی کو آزار نہ پہنچائے گا۔
اس لیے جنت کا باشندہ وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے آج کی زندگی میں اپنے عمل سے دکھا دیا ہو کہ وہ شہریت کے ان اعلیٰ معیاروں پر پورا اترتا ہے۔ جنت مکمل طور پر مثبت سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ اس لیے وہاں کی آبادیوں میں بسنے کا اجازت نامہ صرف انہی لوگوں کو ملے گا جنہوں نے آج کی دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ خالص مثبت مزاج رکھنے والے لوگ ہیں اور منفی اور تخریبی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ جنت کی دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں آدمی دوسروں کی شرارتوں سے محفوظ ہوگا۔
اس لیے جنت کی بستیوں میں رہنے کے قابل وہی شخص ہے جس نے دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو دوسروں کو اپنے حسد اور اپنی شرارت سے محفوظ رکھنے والا ہے۔ جنت کا ماحول گندگیوں اور بےہودگیوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی کالونیوں میں بسانے کے لیے انہی لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا جو ہر قسم کی بےہودگیوں سے دور رہنے والے ثابت ہوئے ہوں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.