لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ جنت کا نام لیتے ہیں مگر جہنمی اعمال میں مشغول ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خدا سے اس کی جنت مانگی ہی نہیں۔ اگر وہ خدا سے جنت مانگتے تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ لوگوں کو ایسے راستوں میں چلنے دے جو انہیں جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں۔
یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے جنت مانگیں اور وہ آپ کو جہنم دے دے۔ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے۔ آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو غفلت میں مبتلا کر دے۔ آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور وہ آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے۔
آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور وہ آپ کو بے روح دینداری میں پڑا رہنے دے۔ آپ حق پرستی مانگیں اور وہ آپ کو شخصیت پرستی کی کوٹھری میں بند کر دے۔ اگر آپ کی زندگی میں مطلوب چیز نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے نہ مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا۔ جو مانگے وہ کبھی محروم نہیں رہ سکتا۔
یہ مالکِ کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا میں نے تجھ سے جنت مانگی تھی اور تو نے جہنم میرے حوالے کر دی۔ بخدا یہ ناممکن ہے۔ یہ ناممکن ہے۔
یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے سارے خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آ کر آواز دیتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں۔ مگر جن کو لینا ہے وہ خود منہ پھیرے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور؟
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.