اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ عام حالات میں وہ خدا پرست نظر آتے ہیں، مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے ہیں۔ کبھی محبت یا نفرت کا جذبہ، کبھی عزت و وقار کا سوال ان کے اوپر اس طرح چھا جاتا ہے کہ ان کی خدا پرستی اس کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ معمول کے حالات میں دینی زندگی گزارنے والا آدمی، غیر معمولی حالات میں وہی سب کچھ کر گزرتا ہے جو غافل اور بے دین لوگ عام حالات میں کرتے ہیں۔ مگر حقیقی خدا پرست وہ ہے جو نہ صرف عام حالات میں اللہ سے ڈرے، بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی وہ اللہ سے ڈرتا ہو۔
کسی کی محبت اس کو حد سے نکلنے پر اکسائے، تو وہ حد سے نکلنے پر تیار نہ ہو۔ کسی کے خلاف نفرت اس کو بے انصافی کے راستے پر لے جانا چاہے، تو وہ اس کے لیے راضی نہ ہو۔ ذاتی عزت و وقار کا سوال اس کو حق کے اعتراف سے روکے، تو وہ اس کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سچا خدا پرست آدمی اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔
اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے لاگ انداز سے دیکھ سکے۔ وہ اپنے آپ کو اس حقیقی نظر سے دیکھے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فیصلے کے دن خدا کی ان جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جہاں نہ کوئی تکلیف ہے اور نہ کسی قسم کا اندیشہ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.