Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Bagh-e-Jannat
Bagh-e-Jannat

شکر کا جذبہ

Urdu · 2 min

آدمی ملے ہوئے پر مطمئن نہیں ہوتا، اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ ہر شخص کو خدا نے کوئی نہ کوئی نعمت دی ہے، مگر آدمی کا حال یہ ہے کہ جو نعمت نہیں ملی اس کی طرف متوجہ رہتا ہے، اور جو نعمت ملی ہوئی ہے اس کو حقیر سمجھتا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر اپنے خدا کے لیے شکر کا جذبہ نہیں ابھرتا۔

وہ اس قیمتی کیفیت سے محروم رہ جاتا ہے جو جنت کا مستحق بننے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مکمل راحت کسی کے لیے نہیں۔ اگر سرد علاقے کے مسائل ہیں تو گرم علاقے کے بھی مسائل ہیں۔ اگر کم آمدنی والے کی زحمتیں ہیں تو زیادہ آمدنی والے کی بھی زحمتیں ہیں۔

اگر بے زور کچھ مشکلوں سے دوچار ہے تو ان کی بھی مشکلیں ہیں جن کو زور و قوت حاصل ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو مسائل سے فرصت نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ جن مسائل کے درمیان ہے ان کو گوارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔ اس کی توجہات کا مرکز خدا کی رضا ہو، نہ کہ مشکلات سے خالی زندگی حاصل کرنا۔

کیونکہ وہ تو آخرت سے پہلے ممکن نہیں۔ جو شخص آخرت کی جنت کا مالک بننا چاہتا ہو، اس کو سب سے بڑا تحفہ جو اپنے رب کی خدمت میں پیش کرنا ہے، وہ شکر ہے۔ اور شکر کا جذبہ اس کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا کہ آدمی مشکلات و مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی نظر پیدا کر لے۔ جنت کی قیمت شکر ہے، اور جنت اسی کو ملے گی جو اس کی قیمت ادا کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.