میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں: ایک وہ جو گندے جذبات میں جیتے ہیں، دوسرے وہ جو ستھرے جذبات پر پرورش پاتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو نفرت اور عداوت میں جی رہا ہے، جو ذاتی نمائش اور شخصی مصلحت کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے۔ جس کی روح کو اس سے غذا ملتی ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہ کرے؛ جس کے قلب و دماغ کو انانیت، خود پرستی، اظہار برتری سے خوراک ملتی ہے۔ وہ کسی کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتا ہے، کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس پر وار کرتا ہے، اور پھر کامیابی کے قہقہے لگاتا ہے۔
ایسے لوگ جہنمی غذاؤں پر جی رہے ہیں، اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ صرف جہنم کی آگ ہوگا۔ دوسرا انسان وہ ہے جو ستھرے قلب کے ساتھ جی رہا ہے؛ اس کی روح دوسروں کی کامیابی سے خوش ہوتی ہے۔ وہ دوسروں پر قابو یافتہ ہو کر بھی اس کو چھوڑ دینے میں راحت محسوس کرتا ہے۔ اس کا دل دوسروں کے لیے محبت اور خیرخواہی کے جذبات سے بھرا ہوتا ہے۔
اس کی ہستی کو عجز اور تواضع میں لذت ملتی ہے۔ وہ خدا اور آخرت کی فضاؤں میں سانس لیتا ہے۔ اختلاف کے وقت اپنے کو جھکا لینے میں اس کو سکون ملتا ہے۔ جب کوئی اس کی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے تو اپنی غلطی کو مان لینے میں اس کا دل ٹھنڈک پاتا ہے۔
کسی کا حق اس کے ذمے ہو تو جب تک وہ اس کا حق ادا نہ کر لے، اس کو راتوں کو نیند نہیں آتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنتی غذاؤں پر جی رہے ہیں؛ آخرت میں وہ جنت کے سدا بہار باغوں میں بسائے جائیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.