زمین پر انسان کو آزادی حاصل ہے، مگر یہ مستقل آزادی نہیں ہے۔ یہ صرف وقتی آزادی ہے، اور خاص منصوبے کے تحت دی گئی ہے۔ یہ دراصل امتحان کی آزادی ہے۔ کائنات کا مالک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو آزادی پا کر بھی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرتا۔
اس کے بعد خدا ایسے لوگوں کو اپنے انعامات سے نوازے گا، اور ان لوگوں کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گا جو آزادی پا کر بگڑ گئے۔ دنیا کا موجودہ نظام صرف اس وقت تک ہے جب تک جانچ کا یہ عمل پورا نہیں ہو جاتا۔ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد زمین کا مالک زمین کا انتظام براہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لے گا، جس طرح وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس وقت اچھے اور برے ایک دوسرے سے الگ کر دیے جائیں گے۔
اچھے لوگوں کو ابدی طور پر جنتی زندگی حاصل ہوگی، اور برے لوگ ابدی طور پر جہنمی حالات میں دھکیل دیے جائیں گے۔ موجودہ دنیا وہ مقام ہے جہاں آنے والی جنتی دنیا کے شہری چنے جا رہے ہیں۔ جو لوگ آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے آپ کو اللہ کا حکم بردار بنائیں گے، جو مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی اللہ کی مرضی کو اپنے اوپر طاری کریں گے، وہی اللہ کے نزدیک اس قابل ٹھہریں گے کہ وہ اللہ کی جنتی دنیا کے باسی بن سکیں۔ آج امتحان کے وقفے میں ہر طرح کے لوگ زمین پر بسے ہوئے ہیں، مگر امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد صرف صالح لوگ خدا کی اس ہری بھری دنیا کے وارث قرار پائیں گے، اور بقیہ لوگوں کو اس سے بے دخل کر کے دور پھینک دیا جائے گا، جہاں وہ ابدی طور پر حسرتوں اور مایوسیوں کا مزہ چکھتے رہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.