درخت کیا ہے؟ ایک بیج کی اس صلاحیت کا ظہور کہ وہ مٹی اور پانی سے اپنا رزق لے کر اپنے آپ کو تنا اور شاخ اور پتی اور پھول کے اس مجموعے کی صورت دے سکے، جس سے زیادہ خوش منظر مجموعہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ انسان کی مثال بھی کچھ اسی قسم کی ہے: وہ اس دنیا میں ایک بیج کی مانند ڈالا گیا ہے، اس کو اپنی کوششوں سے درخت بننا ہے۔ خدا کی اس دنیا میں اس کے لیے رزق کے بے پناہ ربانی مواقع رکھ دیے گئے ہیں۔
وہ اس دنیا سے اپنا رزق لے کر اپنے لیے ایک ابدی مستقبل کی تعمیر کر سکتا ہے، جو اگلی زندگی میں جنت کے ہرے بھرے باغوں کی شکل میں اس کی طرف لوٹے اور اس کے لیے لازوال خوشی کا باعث ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ ان مواقع سے اپنا ربانی حصہ پانے میں ناکام رہیں، ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جو کسی پتھر پر پڑ گیا ہو یا جس نے کسی ناموافق زمین پر جگہ پائی ہو۔ ایسا بیج کبھی لہلہاتے ہوئے درخت کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ موجودہ دنیا میں جس نے اپنی تعمیر کے امکانات سے فائدہ نہیں اٹھایا، وہ گویا ایک ایسا بیج ہے جس کی کوتاہیوں نے اس کو درخت نہیں بنایا۔
ایسا شخص اگلی طویل تر زندگی میں ابدی ناکامی سے دوچار ہوگا۔ وہ آخرت کی دنیا میں ایک ایسی زندگی کا وارث ہوگا جو ہر قسم کی شادابی سے مکمل طور پر محروم ہو۔ جنتی انسان گویا ایک بہترین درخت ہے جو دنیا میں اگتا ہے اور پھر آخرت میں لے جا کر خدا کے ہرے بھرے باغ میں لگا دیا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.