خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی خود پسندی کو خدا پسندی میں گم کر دے، جو اپنی بات کے مقابلے میں حق کی بات کو اختیار کر لے، جو دنیا کی عزت کے مقابلے میں آخرت کی عزت کو اہمیت دینے لگے۔ لوگوں کی طرف سے خواہ کتنی ہی تلخیاں پیش آئیں، مگر وہ اپنی طرف سے جوابی کارروائی نہ کرے، اسی کا نام صبر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بے حد مشکل راستہ ہے، مگر اس میں بھی شک نہیں کہ یہی وہ راستہ ہے جو کسی کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ جنت صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، اور صبر کرنے والا وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے آپ کو ہر محرومی پر راضی کر لے۔
امتحان کی اس دنیا میں تلخیوں اور ناخوشگواریوں کے بغیر چارہ نہیں۔ جو شخص جنت کا مسافر بننا چاہے، اس کو جان لینا چاہیے کہ وہ ایک ایسے راستے پر چلنے کا ارادہ کر رہا ہے جس میں لوگوں کی طرف سے کڑوی باتیں پیش آئیں گی، جس میں لمبے انتظار کی مشقت برداشت کرنی ہوگی، جس میں مخالفین کی طرف سے طرح طرح کی دل آزاریاں ہوں گی۔ ان مواقع پر حق کا مسافر اگر صبر کو کھو دے، اگر وہ بے برداشت ہو جائے، تو وہ درمیان ہی میں اپنے راستے کو کھوٹا کر لے گا۔ وہ جنت کی منزل تک نہ پہنچ سکے گا۔
جنت کا سفر تمام کا تمام صبر کا سفر ہے۔ جنت میں وہی شخص پہنچے گا جو صبر کی تلخیوں کو سہنے کے لیے تیار ہو، جو جذبات کی پامالی پر بھی بے ہمت ہونا نہ جانے، جو نفس کی ہر چوٹ کو اپنے سینے کی ویرانیوں میں چھپا لے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.