ایمان وہ ہے جو آدمی کے اندر اس طرح داخل ہو کہ وہ اس کی نفسیات کا جز بن جائے، وہ اس کے دل و دماغ پر پوری طرح چھا جائے۔ آدمی کا سوچنا اور چاہنا، اس کا یقین و اعتماد، اس کی دلچسپیاں اور وفاداریاں، اس کا خوف اور اس کی محبت، سب اس کے ایمان کے تابع ہو جائیں۔ یہ ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔
ایسے لوگ اسی دنیا میں خدا کی پناہ میں آ جاتے ہیں۔ اور جو شخص دنیا ہی میں خدا کی پناہ میں آ چکا ہو، اس کے متعلق کون شبہ کر سکتا ہے کہ وہ آخرت میں خدا کی پناہ سے محروم ہوگا؟ دوسرے اہل ایمان وہ ہیں جن سے نیکی کے ساتھ برائیاں بھی ہوئیں، مگر انہوں نے اپنی برائیوں کا اعتراف کر لیا۔ امید ہے کہ اللہ انہیں بھی معاف کر دے گا، کیونکہ وہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔
مضبوط ایمان والا وہ ہے جس کے یہاں ایمان اور عمل دونوں ایک چیز بن جائیں۔ مگر کمزور ارادے کے لوگ اپنے ایمان اور عمل کے درمیان اتنی یکسانی پیدا نہیں کر پاتے۔ تاہم وہ بھی اللہ کی رحمتوں میں حصہ دار ہوں گے، بشرطیکہ انہوں نے ڈھٹائی کے بجائے شرمندگی کا ثبوت دیا ہو۔ انہوں نے تاویلوں کا سہارا لینے کے بجائے کھلے طور پر اعتراف کر لیا ہو۔
وہ بحث کرنے کے بجائے چپ ہو گئے ہوں۔ ان کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی جائے تو وہ بپھرنے کے بجائے اپنا سر جھکا لیں۔ اگر وہ اپنے رب کے سامنے عمل کا تحفہ نہ پیش کر سکے ہوں تو انہوں نے اپنے رب کے سامنے عجز کے آنسو پیش کیے ہوں۔ جو لوگ یہ آخری چیز بھی پیش نہ کر سکیں، ان کو خدا بخشے گا تو کس بہانے بخشے گا؟
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.