ہر آدمی ایک انڈسٹری ہے۔ ایک شخص وہ ہے جس کی انڈسٹری سے صرف زہر اور انگارے برآمد ہوئے۔ اس کو جب موقع ملا تو اس نے اپنی بڑائی کا جھنڈا بلند کیا۔
اس کے پاس دولت آئی تو اس نے اس کو نمائشی کاموں میں خرچ کیا۔ اس نے کسی کے اوپر غلبہ پایا تو اس کی بربادی کے منصوبے بنائے۔ اس کو کسی سے اختلاف ہوا تو اس نے اسے کڑوی بات اور شیطانی عمل کا مزہ چکھایا۔ اس سے جب کسی کا معاملہ پڑا تو اس کو اس سے خودغرضی، بے انصافی اور دھاندلی کا تجربہ ہوا۔
ایسا آدمی اپنے اندر جہنم کی انڈسٹری قائم کیے ہوئے ہے۔ جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوتی ہے، وہ زہر اور آگ اور بدبو بن کر باہر آتی ہے۔ موت کے بعد اس کی یہ پیداوار اسے گھیر لے گی۔ وہ اپنے آپ کو خود اپنے بنائے ہوئے جہنم میں پھنسا ہوا پائے گا۔
دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا نے بڑائی دی تو اس نے تواضع کی صورت میں اس کا ردعمل پیش کیا۔ اس کا احتساب کیا گیا تو اس نے عجز کی نفسیات کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس نے خدا کے راستے میں اس کا استعمال ڈھونڈ نکالا۔ اس کو اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے مواقع ملے، مگر وہ اپنے آپ کو خدا کی خاطر دفن کرنے پر راضی ہو گیا۔
اس نے لوگوں کے اوپر قابو پایا تو وہ ان کے لیے انصاف اور خیرخواہی کا پیکر بن گیا۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے اندر خدا کی انڈسٹری قائم کی۔ جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوئی، وہ ربانی پیکر میں ڈھل کر باہر نکلی۔ اس نے موجودہ دنیا میں پھول اور خوشبو کی فصل اگائی تھی، آخرت میں وہ ہمیشہ کے لیے پھول اور خوشبو والے باغوں میں رہے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.