اسلامی زندگی کا وجود میں آنا ایسا ہی ہے جیسے کسی درخت کا وجود میں آنا۔ ایک ہرا بھرا درخت زمین پر اس وقت کھڑا ہوتا ہے جبکہ اس نے اپنے آپ کو زمین و آسمان کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا ہو۔ اسی طرح اسلامی انسان اس وقت بنتا ہے جبکہ وہ خدا کی پوری کائنات کو اپنی غذا بنا چکا ہو۔ اسلامی زندگی نہ عملیاتی ورزشوں سے وجود میں آتی ہے اور نہ انقلابی نعروں سے۔
ایک بندہ اس وقت مومن و مسلم بنتا ہے جبکہ وہ تجلیات الہی کا مہبد بن جائے۔ خدا نے جس طرح مادی سطح پر درختوں کے لیے ایک عالمی دسترخوان پھیلا رکھا ہے، اسی طرح روحانی سطح پر انسان کے لیے ہر وقت اس کے فیضان کی بارش ہو رہی ہے۔ مادی کائنات سے اپنے آپ کو جوڑنے کے نتیجے میں درخت وجود میں آتا ہے۔ اسی طرح الہی تجلیات کے سمندر میں نہانے سے وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہتے ہیں۔
درخت ہو یا انسان، دونوں ہی ایک وسیع تر نظامِ غذا سے اپنے کو ہم آہنگ کر کے اپنی ہستی کو کمال کے مقام پر پہنچاتے ہیں۔ اسلامی انسان بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جیسا ایک درخت۔ فرق یہ ہے کہ درخت فطری جبر کے تحت وجود میں آتا ہے اور انسان خود اپنے آزادانہ عمل سے۔ جو شخص آج اللہ کے رزق پر جی رہا ہے، وہ آخرت میں نہایت شاداب اور تندرست حالت میں اٹھے گا۔
اور جو لوگ اللہ کے رزق سے محروم ہیں، ان کا حال وہی ہوگا جو آج خراب غذاؤں پر پلنے والے غریبوں کا نظر آتا ہے۔ وہ وہاں بدحال صورتوں کے ساتھ اٹھیں گے، خواہ آج وہ کتنے ہی پررونق نظر آتے ہوں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.