ہے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کو سجدہ کر رہی ہیں، مگر ایک انسان جب سجدہ کرتے ہوئے اپنا سر زمین پر رکھتا ہے تو یہ تمام عالمِ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسری چیزیں مجبورانہ سجدہ کر رہی ہیں، جبکہ انسان شعور اور ارادے کے تحت اپنا سر خدا کے آگے جھکا دیتا ہے۔ انسان کے ذریعے اس کائنات میں اختیاری محکومی کا واقعہ وجود میں آتا ہے، جس سے بڑا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔
یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے جو اس کائنات میں شعورِ قدرت کے مقابلے میں شعورِ عجز کی دوسری انتہا بناتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحے پر "ہے" کے مقابلے میں "نہیں" کا مضمون تحریر کرتا ہے۔ وہ خداوندی انا کے مقابلے میں اپنے بے انا ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔
وہ ہر قسم کا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے بے اختیار کر لیتا ہے۔ وہ زبان رکھتے ہوئے خدا کی خاطر اس طرح چپ ہو جاتا ہے جیسے اس کے منہ میں زبان ہی نہیں۔ ایک شخص کا موحد بننا، اس آسمان کے نیچے ظاہر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے، جس کا انعام کوئی سب سے بڑی چیز ہی ہو سکتی ہے۔ اسی سب سے بڑی چیز کا نام جنت ہے۔
جنت کسی کے عمل کی قیمت نہیں۔ جنت کسی بندے کے لیے خدا کی یہ بخشش ہے کہ اس کے بندے نے اپنے رب کو وہ چیز پیش کر دی جو کائنات میں کسی اور نے پیش نہ کی تھی۔ اس لیے خدا نے بھی اس کو وہ چیز دے دی جو اس نے کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیا تھا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.