خدا نے جو کچھ پیدا کیا ہے، وہ اتنا حیرت ناک ہے کہ اس کو دیکھ کر آدمی خالق کی کاریگری میں کھو جائے۔ تخلیق کے کمالات میں ہر طرف خالق کا چہرہ جھلک رہا ہے، مگر ہمارے چاروں طرف جو دنیا ہے، اس کو ہم بچپن سے دیکھتے دیکھتے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہم اتنا مانوس ہو جاتے ہیں کہ اس کے انوکھے پن کا ہم کو احساس نہیں ہوتا۔ پانی، درخت، چڑیا، غرض جو کچھ بھی ہماری دنیا میں ہے، سب کا سب بے حد عجیب ہے۔
ہر چیز خالق کا آئینہ ہے، مگر عادی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے عجوبے پن کو محسوس نہیں کر پاتے۔ مگر یہی انسان کا امتحان ہے: اس کو معمولی چیزوں میں غیر معمولی جھلک دیکھنا ہے۔ اگر آدمی اس دنیا کو استعجاب کی نظر سے دیکھ سکے، تو ہر جگہ اس کو خدا کی موجودگی کا تجربہ ہوگا۔ وہ زمین پر اس طرح رہے گا جیسے کہ وہ خدا کے پڑوس میں ہو، جیسے کہ وہ خدا کی نظروں کے سامنے ہو۔
موجودہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھنے لگے، وہ اپنے پاس خدا کی موجودگی کو محسوس کر لے۔ اگر آدمی کے اندر جنتی نظر پیدا ہو جائے، تو سورج کی کرنوں میں اس کو خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا۔ ہرے بھرے درختوں کے حسین منظر میں وہ خدا کا روپ جھلکتا ہوا پائے گا۔ ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمس ربانی کا تجربہ ہوگا۔
اپنی ہتھیلی اور پیشانی کو زمین پر رکھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوگا گویا اس نے اپنا وجود اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خدا ہر جگہ موجود ہے، مگر اس کو وہی خوش قسمت آدمی دیکھتا ہے جس کے اندر خدا کو دیکھنے والی جنتی نگاہ پیدا ہو جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.