Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Bagh-e-Jannat
Bagh-e-Jannat

جنت قربتِ الٰہی کا نام ہے

Urdu · 2 min

آخرت میں خدا کی جنت کو وہی شخص پائے گا جس نے دنیا میں خدا کو پا لیا ہو۔ خدا کو پانے والا وہ ہے جس نے چھپے ہونے کے باوجود اس کو یقین کی آنکھوں سے دیکھا ہے، جس نے اپنے سینے کی دھڑکنوں میں اس کو بولتے ہوئے سنا ہے، جس نے خدا کی کتاب کو اس طرح پڑھا ہے گویا وہ خود اپنے اندر رکھے ہوئے صحیفۂ فطرت کو اپنی زبان سے دہرا رہا ہے۔ خدا کو پانے والا وہ ہے جس کی مردہ روح کو خدا کے ایمان سے زندگی ملی ہو، خدا کی یاد جس کے دل کے زنگ کو دور کرنے والی بن جائے، خدا جس کے لیے ایک نور بن گیا ہو جس کی روشنی میں وہ چلتا ہو، جس کا یہ حال ہو کہ خدا کا ذکر سن کر اس کا دل دہل اٹھے، وہ اپنے آنسوؤں سے خدا کا استقبال کرتا ہو، اس کی پوری شخصیت خدا کے آگے ہمہ تن سجدے میں گر پڑی ہو۔

جو شخص خدا سے قریب ہے، وہی جنت سے بھی قریب ہے۔ خدا کی قربت کا آغاز اسی موجودہ دنیا سے شروع ہو جاتا ہے اور اس کی تکمیل آخرت میں ہوتی ہے۔ جب آدمی قربتِ خداوندی کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ایک ان دیکھی حقیقت کو کامل یقین کے ساتھ دیکھ رہا ہے، ایک بعید ترین چیز سے انتہائی طور پر قریب ہے، کسی مخاطب کی موجودگی کے بغیر کامیاب ترین گفتگو میں مصروف ہے، ایک سب سے زیادہ پرہیبت وجود کے لیے اپنے اندر سب سے زیادہ محبت کے جذبات پا رہا ہے، ایک چیز جس کو بظاہر کسی بھی واسطے کے ذریعے پایا نہیں جا سکتا، کسی واسطے کے بغیر وہ عین اس کے نزدیک پہنچ گیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.