آخرت میں خدا کی جنت کو وہی شخص پائے گا جس نے دنیا میں خدا کو پا لیا ہو۔ خدا کو پانے والا وہ ہے جس نے چھپے ہونے کے باوجود اس کو یقین کی آنکھوں سے دیکھا ہے، جس نے اپنے سینے کی دھڑکنوں میں اس کو بولتے ہوئے سنا ہے، جس نے خدا کی کتاب کو اس طرح پڑھا ہے گویا وہ خود اپنے اندر رکھے ہوئے صحیفۂ فطرت کو اپنی زبان سے دہرا رہا ہے۔ خدا کو پانے والا وہ ہے جس کی مردہ روح کو خدا کے ایمان سے زندگی ملی ہو، خدا کی یاد جس کے دل کے زنگ کو دور کرنے والی بن جائے، خدا جس کے لیے ایک نور بن گیا ہو جس کی روشنی میں وہ چلتا ہو، جس کا یہ حال ہو کہ خدا کا ذکر سن کر اس کا دل دہل اٹھے، وہ اپنے آنسوؤں سے خدا کا استقبال کرتا ہو، اس کی پوری شخصیت خدا کے آگے ہمہ تن سجدے میں گر پڑی ہو۔
جو شخص خدا سے قریب ہے، وہی جنت سے بھی قریب ہے۔ خدا کی قربت کا آغاز اسی موجودہ دنیا سے شروع ہو جاتا ہے اور اس کی تکمیل آخرت میں ہوتی ہے۔ جب آدمی قربتِ خداوندی کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ایک ان دیکھی حقیقت کو کامل یقین کے ساتھ دیکھ رہا ہے، ایک بعید ترین چیز سے انتہائی طور پر قریب ہے، کسی مخاطب کی موجودگی کے بغیر کامیاب ترین گفتگو میں مصروف ہے، ایک سب سے زیادہ پرہیبت وجود کے لیے اپنے اندر سب سے زیادہ محبت کے جذبات پا رہا ہے، ایک چیز جس کو بظاہر کسی بھی واسطے کے ذریعے پایا نہیں جا سکتا، کسی واسطے کے بغیر وہ عین اس کے نزدیک پہنچ گیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.