کائنات مومن کے لیے رزقِ روحانی کا دسترخوان ہے، ویسے ہی جیسے جنت اس کے لیے رزقِ مادی کا دسترخوان ہوگی۔ ہوا کے لطیف جھونکے جب اس کے جسم کو چھوتے ہیں تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لمسِ خداوندی کا کوئی حصہ اس کو مل رہا ہے۔ دریاؤں کی روانی میں اس کو رحمتِ حق کا جوش ابلتا ہوا نظر آتا ہے۔ چڑیوں کے چہچہے جب اس کے کانوں میں رسک گھولتے ہیں تو اس کے دل کے تاروں پر ربانی نغمے جاگ اٹھتے ہیں۔
جس آدمی کو ایمان کی نظر حاصل ہو جاتی ہے، اس کو دنیا کی ہر چیز میں خدا کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ درخت معمولی لکڑی کا ڈھانچا ہے، مگر اس کے اوپر بے حد حسین پھول اگتے ہیں۔ وہ بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند، اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے: اس کی شاخوں پر نہایت خوبصورت پھول کھل اٹھتے ہیں، لکڑی کی شاخیں رنگین پھولوں سے ڈھک جاتی ہیں۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ اس کو دیکھ کر کہہ اٹھے کہ خدایا، میں بھی ایک لکڑی ہوں، تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلا دے۔ میں ایک ٹھنڈ ہوں، تو چاہے تو مجھ کو سرسبز و شاداب کر دے۔ میں ایک بے معنی وجود ہوں، تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔ میں جہنم کے کنارے کھڑا ہوں، تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔
میں تجھ سے دور ہوں، تو چاہے تو لپک کر مجھ کو اپنے آغوش میں اٹھا لے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.