خدا کو پانے والا دنیا کی زندگی ہی میں خدا کا پڑوسی بن جاتا ہے۔ اس کی روح خدا کے نور میں نہا اٹھتی ہے۔ پھولوں کی صحبت آدمی کو لطیف کیفیات سے بھر دیتی ہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ آدمی اپنے رب کو پائے اور پھر بھی اس کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہ ہوں؟
بہت سے لوگ اپنے کو خدا سے قریب سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی حد تک خدا سے دور ہوتے ہیں۔ وہ خدا کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کا پورا وجود گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ ابھی انہوں نے خدا کو پہچانا ہی نہیں۔ وہ خدا کا نام لیتے ہیں مگر ان کے منہ میں خدائی مٹھاس کی شکر نہیں گھلتی۔ وہ خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر خدا کے چمنستان کی کوئی خوشبو ان کے مشام کو معطر نہیں کرتی۔
وہ خدا کے نام پر دھوم مچاتے ہیں مگر خدا کے نورانی سمندر میں نہانے کا کوئی نشان ان کے جسم پر ظاہر نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی جنتیں ان کے لیے مخصوص ہو چکی ہیں، مگر جنت کے باغ کا کوئی جھونکا ان کے وجود کو نہیں چھوتا۔ کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جس کی یاد دل و دماغ کی دنیا میں کوئی احتجاز پیدا نہ کرے؟ کیسی عجیب ہوگی وہ جنت جس میں داخلے کا ٹکٹ آدمی اپنی جیبوں میں لیے پھرتا ہو، مگر جنت کا باسی ہونے کی کوئی جھلک اس کے رفتار و گفتار سے نمایاں نہ ہو؟
کیسے عجیب ہوں گے وہ آخرت والے جن کے لیے آخرت کی ابدی وراثت لکھی جا چکی ہو، مگر ان کی ساری دلچسپیاں بدستور اسی عارضی دنیا کی چیزوں میں اٹکی ہوئی ہوں؟ آہ وہ لوگ جو خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ ابھی تک انہوں نے خدا کو پایا ہی نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.