خدا کا بندہ وہ ہے جس نے خدا کو اُن عظمتوں کے ساتھ پایا ہو جس کے اثرات اُس حیجان خیز کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں جس کو خدا کی یاد کہا گیا ہے۔ جو خدا کو اس طرح دیکھ لے کہ اُس کی ہیبت سے اُس کا دل دہل اٹھے اور اُس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ خدا کو پانے والا وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرے اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرے، جس کا یہ حال ہو کہ صرف ایک خدا اُس کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔ ایسا آدمی قرآن کو پڑھتا ہے تو اُس کی روح پکار اٹھتی ہے کہ خدایا یہ تیرا کتنا بڑا احسان ہے کہ تو نے میری ہدایت کا ایسا انتظام کیا، ورنہ میں جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا۔
وہ رسول کی سنت کو دیکھتا ہے تو اُس کا وجود اس دریافت سے سرشار ہو جاتا ہے کہ یہ خدا کا کیسا غیر معمولی انتظام ہے کہ اُس نے پیغمبر کی زندگی میں ہدایت کا بے داغ نمونہ قائم کیا، اور پھر تاریخ میں اُس کو روشنی کے ابدی مینار کی صورت میں محفوظ کر دیا۔ جب وہ سجدہ کرتے ہوئے اپنا سر زمین پر رکھتا ہے تو اُس کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اُس کے رب نے اُس کو اپنی رحمت کے آغوش میں لے لیا ہے۔ جب وہ کوئی غذا اپنی حلق کے نیچے اتارتا ہے تو اُس کی پوری ہستی میں اس احسان مندی کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ کیسا عجیب ہے وہ خدا جس نے میرے جسم کی پرورش کے لیے ایسی مکمل غذا کا اہتمام کیا۔ جب وہ پانی پیتا ہے تو اُس کی آنکھوں سے ایک اور جھرنا بہہ پڑتا ہے، اور وہ بے اختیار ہو کر کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا اگر تو مجھے سیراب نہ کرے تو میں سیراب ہونے والا نہیں، اگر تو مجھے پانی نہ دے تو کہیں سے مجھ کو پانی ملنے والا نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.