خدا ہر قسم کی خوبیوں کا خزانہ ہے۔ اس کی قدرت کہیں روشنی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے اور کہیں حرارت کی صورت میں۔ کہیں وہ مادّے کو ہریالی میں تبدیل کر رہا ہے، اور کہیں پانی کی روانی میں۔ کہیں وہ رنگ کی صورت میں اپنا جلوہ دکھا رہا ہے، اور کہیں مزہ اور خوشبو کی صورت میں۔
کہیں اس کی قدرت سے حرکت کے کرشمے ظاہر ہو رہے ہیں، اور کہیں کشش کے کرشمے۔ ایسے کمالات والے خدا کو پانا ایک خشک عقیدے کو پانا نہیں ہو سکتا۔ ایسے خدا کو پانا یہ ہے کہ آدمی کی روح ایک عطا-روشنی سے جگمگا اٹھے، وہ اس کے قلب کے لیے لطف و لذت بن جائے۔ آدمی ایک اچھا پھل کھاتا ہے تو باغ باغ ہو جاتا ہے، وہ ایک لطیف نغمہ سنتا ہے تو ہماتن وجد میں آ جاتا ہے۔
پھر خدا جو ساری خوبیوں کا سرچشمہ ہے، اس کا پانا کیا کسی کو بے قرار نہیں کرے گا؟ خدا کو پانا یہ ہے کہ وہ ایک خوشبو ہو جس سے آدمی کا شامہ معطر ہو جائے۔ وہ ایک مزہ ہو جس سے اس کا ذائقہ لطف پائے۔ وہ ایک حسن ہو جو اس کی بصارت کو ایک حیرت ناک نظارے میں محو کر دے۔
وہ ایک ترنم ہو جو اس کے سامعہ کو ایسی لذت دے جس سے وہ کبھی سیر نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جس خدا نے یہ تمام خوبیاں پیدا کی ہیں، وہ خود ان خوبیوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ کسی کو خدا کی قربت ملنا دراصل اس کا جنت میں پہنچ جانا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص رنگ اور خوشبو کے ابدی چمنستان میں جا بسے، جیسے وہ ایک پیکرِ نور کے پڑوس میں پہنچ جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.