دعوتی مرکز کا خیام، اوپر میں نے ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیا اسلامی نام محمد عزیز الدین کا ذکر کیا ہے؛ انہوں نے اپنے 1904 عیسوی کے لیکچر میں قدیم حیدرآباد میں کہا تھا: "I feel sure that if a comprehensive Islamic mission were started in Hyderabad, India, to preach the simple and sublime truths of Islam to the people of Europe, America, and Japan, there would be such rapid and enormous accession to its ranks as has not been witnessed again ever since the first centuries of the Hijra. Will you, therefore, organize a grand central Islamic mission here in Hyderabad and open branches in Europe, America, and in Japan? " Why have I accepted Islam, Dr. Nishikanta Chattopadhyay?
مجھ کو یقین ہے کہ اگر حیدرآباد میں ایک مکمل اسلامی مشن شروع کیا جائے، جس کا مقصد اسلام کی صاف اور سادہ سچائیوں کی تبلیغ ہو، اور اس کو یورپ، امریکہ اور جاپان کے لوگوں تک پہنچایا جائے، تو اسلام اتنی تیز اور عظیم سطح سے نفوذ کرے گا جس کی مثال پہلی صدی ہجری کے بعد دوبارہ نہیں دیکھی گئی۔ کیا آپ لوگ اسلامی مشن کا ایک عظیم مرکز حیدرآباد، ہندوستان میں بنائیں گے، جس کی شاخیں یورپ، امریکہ اور جاپان میں ہوں؟ واضح ہو کہ حیدرآباد کا لفظ یہاں محض اتفاقی ہے؛ اس سے مراد کوئی بھی مناسب شہر ہے، نہ کہ صرف حیدرآباد۔ ایک سعید مسلم روح نے 80 سال پہلے یہ بات کہی تھی، مگر بدقسمتی سے ابھی تک یہ واقعہ نہ بن سکی۔
آج سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ایک ایسا عظیم دعوتی مرکز قائم کیا جائے جو تمام جدید وسائل سے لیس ہو، جہاں ہر قسم کے ضروری دعوتی اور تربیتی شعبے قائم ہوں، اور اسی کے ساتھ وہ ہر قسم کی سیاست اور ہر قسم کے قومی جھگڑوں سے الگ ہو کر کام کرے۔ ایک اعلیٰ دعوتی مرکز کے ساتھ اگر یہ چیزیں جمع کر دی جائیں تو یقینی ہے کہ اسلام کی وہ نئی تاریخ دوبارہ بننا شروع ہو جائے گی جس کا ہم مدت سے انتظار کر رہے ہیں، مگر وہ ابھی تک ظہور میں نہ آ سکی۔ یہ مقالہ عربی زبان میں الجامعۃ الاسلامیہ، مدینہ منورہ کے القاعة الكبرى میں 2 مارچ 1984 عیسوی کو پڑھ کر سنایا گیا۔ کتاب: عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 203۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.