← Azmat-e-Qur'anAzmat-e-Qur'an
Abadi sadaaqat
Urdu · 8 min
ابدی صداقت: حضرت موسیٰ پندرہویں صدی قبل مسیح میں مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کو خدا نے اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ اس وقت مصر میں ایک مشرک خاندان کی حکومت تھی، جو اپنے آپ کو "فرعینہ" کہتے تھے۔ حضرت موسیٰ کا سابقہ اس خاندان کے دو بادشاہوں سے پیش آیا: ایک وہ جس کو خدا نے بچپن میں آپ کی پرورش کا ذریعہ بنایا، دوسرا وہ جس سے آپ کا مقابلہ پیش آیا۔
حضرت موسیٰ نے جب فرعون مصر کے سامنے حق کا پیغام پیش کیا تو وہ آپ کا مخالف ہو گیا۔ حضرت موسیٰ نے عصا کے سانپ بن جانے کا معجزہ دکھایا تو اس نے کہا کہ یہ جادو ہے، اور ایسا جادو ہم بھی دکھا سکتے ہیں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اگلے قومی میلے کے موقع پر مصر کے تمام جادوگروں کو اکٹھا کیا جائے، وہ اپنے جادو کے کمالات دکھا کر موسیٰ کے معجزے کو باطل ثابت کریں۔ چنانچہ مقرر وقت پر ملک کے تمام جادوگر اکٹھا ہو گئے۔
حضرت موسیٰ جب میدان میں آئے تو اس وقت انہوں نے ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا: قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرِ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ سورہ نمبر 10، آیت 81 تا 82۔ موسیٰ نے جادوگروں سے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے، اللہ اس کو یقیناً باطل کر دے گا۔ بے شک اللہ مفسدین کے کام بننے نہیں دیتا، اور اللہ اپنے کلمات سے حق کو حق ثابت کر دیتا ہے، اگرچہ مجرم لوگوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
حضرت موسیٰ نے اس وقت جو کچھ کہا وہ دراصل پیغمبر کی زبان سے خدا کے ابدی فیصلے کا اعلان تھا۔ موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے، اس لیے یہاں ہر باطل کو ابھرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر یہ ابھار ہمیشہ وقتی اور عارضی ہوتا ہے۔ دنیا کا نظام اتنا کامل اور معیاری ہے کہ وہ زیادہ دیر تک باطل کو قبول نہیں کرتا۔
وہ ہر خلافِ حق بات کو ایک عرصے کے بعد رد کر دیتا ہے، اور بالآخر جو چیز باقی رہتی ہے وہ وہی ہوتی ہے جو حق ہے۔ خدا کے اس قانون کا ظہور پچھلے زمانے میں بھی ہوا اور موجودہ زمانے میں بھی ہو رہا ہے۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں معجزے کے ذریعے جادوگروں کے جادو کو باطل ثابت کیا گیا تھا۔ پچھلے زمانوں میں یہ واقعہ بار بار ایک یا دوسری شکل میں پیش آتا رہا ہے۔
موجودہ زمانے میں خود علم انسانی کے ذریعے خدا نے اس مقصد کو حاصل کیا ہے۔ نزولِ قرآن کے بعد کے دور میں اس سلسلے میں جو کچھ ہونے والا تھا، اس کا ذکر قرآن کی مندرجہ ذیل آیت میں ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ سورہ نمبر 41، آیت 53۔ ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن حق ہے۔ کیا تمہارے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کا شاہد ہے؟
مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: سَنُظْهِرُ لَهُمْ دَلَالَاتِنَا وَحُجَجَنَا عَلَىٰ كَوْنِ الْقُرْآنِ حَقًّا مُنَزَّلًا مِنْ عِندِ اللَّهِ عَلَىٰ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم بِدَلَائِلَ خَارِجِيَّةٍ تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 187۔ عنقریب ہم قرآن کے حق اور اللہ کی طرف سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر نازل شدہ ہونے کو خارجی دلائل اور براہین کے ذریعے ان کے لیے ظاہر کر دیں گے۔ قرآن کی مذکورہ آیت کو ابدی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ گویا ایک ایسی ہستی بول رہی ہے جس کے سامنے وقت کے انسان بھی ہیں اور مستقبل میں پیدا ہونے والے انسان بھی۔
یہ آیت وقت کے مخاطبین کے ساتھ اگلی نسلوں کو سمیٹتی ہوئی کہہ رہی ہے کہ آج جو بات علم وحی کی بنیاد پر کہی جا رہی ہے، وہ آئندہ خود علم انسانی کے زور پر صحیح ثابت ہوگی۔ جو چیز آج خبر ہے، وہ کل واقعہ بن جائے گی۔ قرآن کی یہ پیشگی خبر بعد کے دور میں نہایت کامل طور پر صحیح ثابت ہوئی ہے۔ قدیم زمانے میں جادوگروں نے حق کے مقابلے میں جادو کو کھڑا کیا تو خدا نے اس کو ڈھا دیا۔
موجودہ زمانے میں علم کے زور پر الحاد و انکار کا دعویٰ کھڑا کیا تو اس کو بھی خدا نے "ہبا منصورہ" بنا دیا۔ اسی طرح جس نے بھی کوئی چیز حق کے خلاف کھڑی کی، وہ ہمیشہ ڈھا دی گئی۔ قدیم زمانے سے لے کر حال کے دور تک کبھی اس میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ خدا کا کلام اپنی صداقت کو مسلسل بلا انقطاع باقی رکھے ہوئے ہے۔
کتاب عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 206۔