← Azmat-e-Qur'anAzmat-e-Qur'an
Afraad-e-kaar ki faraahami
Urdu · 14 min
افرادِ کار کی فراہمی، دعوتِ اسلامی کی ذمہ داری کو ادا کرنے اور موجودہ مواقع کو استعمال کرنے کے لیے افرادِ کار کی ضرورت ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ منتخب لوگ مخصوص تربیت کے ذریعے اس مقصد کے لیے تیار کیے جائیں۔ وہ دین میں تفقع حاصل کر کے مختلف قوموں میں جائیں اور ان کو توحید کی تعلیم دیں، اور آخرت سے آگاہ کریں۔ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَ تَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ.
سورہ نمبر 9، آیت 122۔ آج دنیا میں مسلمانوں کے بے شمار مدرسے اور تعلیم کے ادارے ہیں، مگر ساری دنیا میں کوئی ایک مدرسہ بھی خاص اس مقصد کے لیے موجود نہیں جہاں خالص دعوتی ضرورت کے تحت لوگوں کی تعلیم و تربیت کی جائے، تاکہ وہ وقت کی ضرورت کے مطابق تیار ہو کر مؤثر انداز میں لوگوں کے اوپر دعوتِ الی اللہ اور انظارِ آخرت کا کام کریں۔ آج کی ناگزیر ضرورت ہے کہ ایسی ایک تعلیم گاہ قائم کی جائے، اور اس کو معیار کے مطابق بنانے کے لیے ہر وہ قیمت ادا کی جائے جو موجودہ حالات میں ضروری ہے۔ افرادِ کار کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کو صرف باعلم نہیں، بلکہ بامقصد ہونا چاہیے۔
مقصد کے بغیر علم صرف معلومات ہے، مگر علم جب مقصد کے ساتھ ہو تو وہ معرفت بن جاتا ہے۔ اگر ایک ایسی تعلیم گاہ قائم ہو جہاں ڈگری یافتہ اساتذہ کے ذریعے لوگوں کو قدیم و جدید علوم پڑھا دیے جائیں، تو صرف اس بنا پر وہ مطلوبہ داعی نہیں بن جائیں گے۔ ضروری ہے کہ ان کے سینے میں مقصد کی آگ لگی ہوئی ہو، کیونکہ مقصد ہی لوگوں کے اندر وہ اعلیٰ فکر اور اعلیٰ کردار پیدا کرتا ہے جس کے ذریعے وہ دعوت کے میدان میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں، خواہ کوئی دنیاوی مقصد ہو یا دینی مقصد۔ دونوں ہی کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر ہر قسم کی ضروری قربانی دے سکیں۔
دی ٹائمز لندن کا ایک قدیم اخبار ہے، اس اخبار میں 1900 میں ایک اشتہار چھپا۔ اس اشتہار کے ساتھ نہ عورتوں کی تصویریں تھیں نہ کسی قسم کے بناوٹی تماشے۔ اس میں ایک چھوٹے سے چوکھٹے میں حسبِ ذیل الفاظ درج تھے: "ایک جوکھم کے سفر کے لیے آدمی درکار ہیں"۔ معمولی رقم، سخت سردی، مکمل تاریکی کے لمبے مہینے، مسلسل خطرہ، محفوظ واپسی مجتبیٰ، کامیابی کی صورت میں عزت اور اعتراف۔
Men wanted for hazardous journey, small wages, bitter cold, long months of complete darkness, constant danger, safe written doubtful, honor and recognition in case of success. Sir Ernest Shackleton for Burlington State. یہ اشتہار قطب جنوبی کی مہم کے لیے تھا۔ اس کے جواب میں اتنی زیادہ درخواستیں آئیں کہ ذمہ داریوں کو ان میں سے انتخاب کرنا پڑا۔
یہ اشتہار قطب جنوبی کی مہم کے لیے تھا۔ اس کے جواب میں اتنی زیادہ درخواستیں آئیں کہ ذمہ داروں کو ان میں سے انتخاب کرنا پڑا۔ اسی قسم کے بلند ہمت لوگ تھے جو مغرب میں سائنسی انقلاب لائے اور اہلِ مغرب کے لیے عالمی قیادت کی راہ ہموار کی۔ مذکورہ بالامثال ایک دنیاوی مثال تھی۔
یہی معاملہ ان لوگوں کا بھی ہے جنہوں نے اسلام کی تاریخ بنائی۔ بیعتِ اقباء ثانیہ کے موقع پر انصار مدینے کے نمائندہ افراد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو اس کی نمایاں مثال پیش کرتی ہے۔ یہاں ہم سیرت ابن ہشام کا ایک حصہ نقل کرتے ہیں: قَالَ كَعْبٌ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْحَجِّ وَوَاعَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعَقَبَةِ مِنْ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيخِ. قَالَ فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ الْحَجِّ وَكَانَتِ الَّيْلَةُ الَّتِي وَاعَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهَا وَمَعَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرِ ابْنِ حَرَامٍ أَبُو جَابِرٍ.
سَيِّدٌ مِنْ سَادَتِنَا وَشَرِيفٌ مِنْ أَشْرَافِنَا. أَخَذْنَاهُ مَعَنَا وَكُنَّا نَكْتُمُ مَنْ مَعَنَا مِنْ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمْرَنَا. قَالَ فَنِمْنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَعَ قَوْمِنَا فِي رِحَالِنَا. حَتَّى إِذَا مَضَا ثُلُثُ الَّيْلِ خَرَجْنَا مِنْ رِحَالِنَا لِمِيعَادِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَتَسَلَّلُ تَسَلُّلَ الْقَطَاءِ مُسْتَخْفِينَا.
حَتَّى إِجْتَمَعْنَا فِي الشِّعْبِ عِندَ الْعَقَبَةِ وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ رَجُلًا وَمَعَنَا اِمْرَاتَانِ مِنْ نِسَائِنَا. سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 441۔ یعنی: کعب ابن مالک انصاری کہتے ہیں کہ ہم مدینے سے حج کے لیے روانہ ہوئے، اور پچھلے سال ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے تشریخ کے درمیانی دن کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ جب ہم حج سے فارغ ہو گئے اور وہ رات آ گئی جس میں ہمیں حسبِ وعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا تھا، ہمارے ساتھ ہمارے ایک معزز سردار ابو جابر عبداللہ ابن عمر ابن حرام تھے۔
ہم نے ان سے گفتگو کی، وہ ہمارے ساتھی بن گئے۔ چنانچہ ہم نے ان کو اپنے ساتھ لے لیا۔ اس کے علاوہ دوسرے مشرکین کو ہم اپنا منصوبہ نہیں بتاتے تھے۔ رات کے وقت ہم دوسروں کی طرح ان کے ساتھ سو گئے، یہاں تک کہ جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ کی قرارداد کے مطابق اپنے بستروں سے خاموشی کے ساتھ اٹھے اور طے شدہ مقام کی طرف اس طرح چلے جیسے چڑیا جھاڑیوں میں آہستہ آہستہ سکڑ کر چلتی ہے۔
یہاں تک کہ ہم سب، 70 مرد اور 2 عورتیں، عقبہ کی گھاٹی میں اکٹھا ہو گئے۔ اس کے بعد کیا واقعہ پیش آیا، وہ ابن ہشام نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: قَالَ اِبْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بُنُ عُمَرَ بِنِ قَتَادَةٍ أَنَّ الْقَوْمَ لَمَّا اجْتَمَعُوا لِبَيْعَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَادَةَ بِنِ نَضْلَةٍ الْأَنْصَارِيُّ: "أَخُو بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ، هَلْ تَدْرُونَ عَلَامَةُ تُبَايِعُونَ هَذَا الرَّجُلَ؟ " قَالُوا: "نَعَمْ." قَالَ: "إِنَّكُمْ تُبَايِعُونَهُ عَلَى حِزْبِ الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ مِنَ النَّاسِ، فَإِن كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّكُمْ إِذَا نُهِيكَتْ أَمْوَالُكُمْ مُصِيبَةً وَأَشْرَافُكُمْ قَتْلًا أَسْلَمْتُمُوهُ فَمِنَ الْآنَ فَهُوَ وَاللَّهِ إِنْ فَعَلْتُمْ خِزْيُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَإِن كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّكُمْ وَافُونَ لَهُ بِمَا دَعَوْتُمُوهُ إِلَيْهِ عَلَى نَهْكَةِ الْأَمْوَالِ وَقَتْلِ الْأَشْرَافِ، فَخُذُوهُ فَهُوَ وَاللَّهِ خَيْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ." قَالُوا: "فَإِنَّا نَأْخُذُهُ عَلَى مُصِيبَةِ الْأَمْوَالِ وَقَتْلِ الْأَشْرَافِ، فَمَا لَنَا بِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِن نَحْنُ وَفَّيْنَا بِذَلِكَ." قَالَ: "الْجَنَّةُ." قَالُوا: "أُبْسُطْ يَدَكَ فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعُوهُ." سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 446۔ یعنی: یثرب کے لوگ جب آپ سے بیعت کے لیے جمع ہوئے تو عباس ابن عبادہ بن نضل انصاری نے کہا: "اے گروہ خزرج!
کیا تم جانتے ہو کہ تم کس چیز پر ان کے ہاتھ بیعت کر رہے ہو؟ " انہوں نے کہا: "ہاں۔ " عباس ابن عبادہ نے کہا: "تم سرخ و سفید سے جنگ پر بیعت کر رہے ہو۔ اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ جب تمہارا مال ضائع ہو اور تمہارے اشراف قتل کیے جائیں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی قوم کے حوالے کر دو گے، تو ابھی ایسا کر لو۔
کیونکہ بعد کو تم نے ایسا کیا تو خدا کی قسم، وہ دنیا و آخرت کی رسوائی ہوگی۔ اور اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ تم نے جو کچھ وعدہ کیا ہے، اس کو تم پورا کرو گے، خواہ تمہارے مال ضائع ہوں اور تمہارے اشراف قتل کیے جائیں، تو ان کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ کیونکہ خدا کی قسم، یہ دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ " ان لوگوں نے کہا: "مال کے ضائع ہونے اور اپنے اشراف کے قتل کے اندیشے کے باوجود ہم آپ سے بیعت کر رہے ہیں۔
" اس وقت اہلِ انصار نے آپ سے سوال کیا کہ "اگر ہم آپ سے اپنے وعدے کو پورا کریں تو ہمارے لیے کیا ہے؟ " آپ نے کہا: "جنت۔ " انہوں نے کہا: "اپنا ہاتھ بڑھائیے۔ " پھر ان لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
اسی قسم کے باشعور اور باہمت اصحاب تھے جنہوں نے تاریخ میں شرک کے تسلسل کو ختم کیا اور انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ آج دوبارہ تاریخ کو وہی حرکت دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے اسلاف نے اپنے زمانے میں دیا تھا۔ انہوں نے شرک کے دور کو ختم کر کے توحید کا دور شروع کیا۔ اب ہم الحاد کے دور کو ختم کر کے دوبارہ توحید کا دور انسانی تاریخ میں لانا ہے۔
یہ ایک بہت اعلیٰ کام ہے، اور اس کے لیے اعلیٰ افراد انتہائی طور پر ضروری ہیں۔ ضرورت ہے کہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں تعلیم و تربیت کے ذریعے ایسے افراد تیار کیے جائیں۔ ڈاکٹر فلپ ہٹی کے الفاظ میں: "آج اسلام کو دوبارہ ایک ہیروز کی نرسری یعنی نرسری آف ہیروز درکار ہے۔ اس کے بغیر یہ اہم کام انجام نہیں پا سکتا۔
" مذکورہ درسگاہ گویا اسی قسم کی ایک نرسری ہوگی جہاں دعوت اسلامی کے ہیرو تیار کیے جائیں۔ کتاب: عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 198۔