← Azmat-e-Qur'anAzmat-e-Qur'an
Khulasa
Urdu · 5 min
خلاصہ: حقیقت یہ ہے کہ عمل کا جو معیار وسیع تر کائنات میں ہے، خدا اپنے براہِ راست کنٹرول کے تحت ظہور میں لا رہا ہے، وہی معیار انسان کو اپنی ذاتی زندگی میں ذاتی کنٹرول کے تحت وجود میں لانا ہے۔ جو واقعہ خدا نے بقیہ دنیا میں مادی سطح پر قائم کر رکھا ہے، اسی واقعے کو انسانی دنیا میں انسان کی سطح پر قائم کرنا ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز لوہے کی شکل میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر پختہ کرداری کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز پتھریلی زمین سے چشمے کی صورت میں بہہ نکلتی ہے، وہ انسان سے نرم مزاجی کی صورت میں مطلوب ہے۔
کائناتی سطح پر جو چیز قابلِ پیشنگوئی کردار کی صورت میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر ایفائے عہد یعنی وعدہ پورا کرنا کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز مہک اور رنگ کی صورت میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر اچھے سلوک اور خوش معاملگی کی صورت میں مطلوب ہے۔ درخت خراب ہوا یعنی کاربن کو لے لیتا ہے، اور اس کے بدلے اچھی ہوا یعنی آکسیجن ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ یہی بات انسانی سطح پر اس اصول کی صورت میں مطلوب ہے کہ جو تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو۔
کائنات میں کوئی چیز کسی دوسرے کی کاٹ میں لگی ہوئی نہیں ہے۔ ہر ایک پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا حصہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔ یہی چیز انسانی سطح پر اس طرح مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت جدوجہد کرے۔ منفی نوعیت کی کارروائیوں سے وہ مکمل طور پر پرہیز کرے۔
کائنات میں ری سائیکل اور ڈی کمپوز کرنے کا اصول کارفرما ہے۔ فضلات دوبارہ استعمال ہونے کے لیے گیس میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ پتی درخت سے گر کر ضائع نہیں ہوتی، بلکہ کھاد بن جاتی ہے۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسان کی خرچ کی ہوئی دولت دوبارہ انسان کے لیے مفید بنے۔
ایک انسان کی چھیڑی ہوئی جدوجہد دوسرے انسانوں کو اچھے پھل کا تحفہ دے۔ کائنات میں عظیم الشان سطح پر بے شمار کام ہو رہے ہیں۔ ہر جز انتہائی صحت اور پابندی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں لگا ہوا ہے۔ مگر کسی کو یہاں کوئی ظاہری بدلہ نہیں ملتا۔
یہی چیز انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگا رہے، بغیر اس کے کہ دنیا میں اس کو اس کے عمل کا کوئی معاوضہ ملنے والا ہو۔ اونچا پہاڑ اور تمام کھڑی ہوئی چیزیں اپنا سایہ زمین پر ڈال دیتی ہیں۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ ہر آدمی تواضع کا طریقہ اختیار کرے۔ کوئی شخص کسی کے اوپر فخر نہ کرے۔
کوئی شخص دوسرے کے مقابلے میں اپنے کو بڑا نہ سمجھے۔ اسلامی اخلاق حقیقتاً کائناتی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔ کائنات کی سطح پر یہ اخلاقی معیار شعور کے بغیر قائم ہے۔ اور انسان کی سطح پر یہ اخلاقی معیار شعور کے تحت خود اپنے ارادے سے قائم ہوتا ہے۔
کتاب عظمت قرآن مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 169۔