Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Burai ke badl-e-burai

Urdu · 4 min

"برائی کے بدلے برائی"۔ قرآن میں خدا کے محبوب بندوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ سورہ نمبر 41، آیت 37۔ پیغمبرِ اسلام نے اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیا کہ جو تم سے برا سلوک کرے، تم اس سے اچھا سلوک کرو۔

سنن الترمذی، حدیث نمبر 2007۔ بالفاظِ دیگر: آدمی کو دوسروں سے برائی ملے، تب بھی وہ دوسروں کو بھلائی لوٹائے۔ اس کو اشتعال دلایا جائے، تب بھی وہ غیر مشتعل رہے۔ یہ اعلیٰ اخلاق عین وہی ہے جس کا تمثیلی نمونہ خدا نے درخت کی صورت میں مادی دنیا کے اندر قائم رکھا ہے۔

انسان اور درخت دونوں ایک ہی دنیا میں ایک دوسرے کے آس پاس رہتے ہیں۔ انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جب سانس لیتا ہے تو وہ فضا سے آکسیجن لے کر اپنے اندر داخل کرتا ہے، اور اپنے اندر سے کاربن نکال کر باہر کی طرف خارج کرتا ہے۔ اگر درخت بھی یہی کرے تو ہماری دنیا مضر گیس سے بھر جائے اور رہائش کے ناقابل ہو جائے۔ مگر درخت انسان کے بالکل برعکس معاملہ کرتا ہے۔

درخت باہر کی کاربن لے لیتا ہے اور اپنے اندر سے آکسیجن نکال کر فضا میں شامل کرتا ہے، جو انسان اور حیوانات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ قرآن جس اخلاق کا مطالبہ انسان سے کرتا ہے، اس کا ایک ماڈل اس نے درخت کی دنیا میں عملاً قائم کر رکھا ہے۔ یہ اخلاق جو درخت کی دنیا میں مادی سطح پر قائم ہے، اسی کو انسان اپنی زندگی میں شعوری سطح پر اختیار کرتا ہے۔ جو اخلاقی معیار خدا نے بقیہ دنیا میں براہِ راست اپنے زور پر قائم کر رکھا ہے، اسی اخلاقی معیار کو انسانی دنیا میں خود انسان کو اپنے ارادے سے قائم کرنا ہے۔

تاکہ حضرت مسیح کے الفاظ میں، "خدا کی مرضی جس طرح آسمان پر پوری ہوتی ہے، اسی طرح زمین پر بھی پوری ہو"۔ متی، باب نمبر 6، آیت نمبر 10۔ وہ اخلاق یہ ہے کہ دوسرے شخص سے اگر آپ کو نفرت ملے، تب بھی آپ اس کو محبت لوٹائیں۔ دوسرے سے آپ کو تکلیف پہنچے تو آپ اس کو اپنی طرف سے آرام پہنچانے کی کوشش کریں۔

لوگ آپ کو غصہ دلائیں تو آپ انہیں معاف کر دیں۔ لوگ منفی رویے کا مظاہرہ کریں، تب بھی آپ مثبت رویے سے ان کا جواب دیں۔ آپ کا اخلاق یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کاربن دینے والے کو کاربن دیں، بلکہ آپ کا اخلاق یہ ہونا چاہیے کہ جو شخص آپ کو کاربن دے، اس کو بھی آپ کی طرف سے آکسیجن ملے۔ کتاب "عظمتِ قرآن" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 167۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.