Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Afv-o-darguzar

Urdu · 4 min

افوہ درگزر۔ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے حضرت یوسف کے ساتھ جو برا سلوک کیا، وہ قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے لیے نہایت تکلیف دہ تھا۔ ان کو برادرانِ یوسف سے شدید شکایت پیدا ہوئی، مگر اس شکایت کا غبار انہوں نے برادرانِ یوسف پر نہیں نکالا، بلکہ فرمایا کہ "میں اپنے رنج و غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں"۔ یوسف، سورہ نمبر 12، آیت 86۔

حضرت یعقوب کو غصہ انسان کی طرف سے پیدا ہوا تھا، مگر اس کو انہوں نے خدا کی طرف موڑ دیا۔ یہ تحویل، یعنی ڈائیورشن، عین وہی چیز ہے جو مادی دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ قائم ہے۔ بارش کے موسم میں جو پانی برستا ہے، وہ اکثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی ساری مقدار کھیتوں اور آبادیوں میں رہ جائے تو زبردست نقصان ہو۔

ایسے مواقع پر قدرت یہ کرتی ہے کہ پانی کی ضروری مقدار کو کھیتوں اور آبادیوں میں چھوڑ دیتی ہے، اور اس کے بعد پانی کی تمام فاضل مقدار کو نالوں اور ندیوں کی طرف موڑ، یعنی ڈائیورٹ کر دیتی ہے۔ قدرت کے اسی اصول کو انسان کی اجتماعی زندگی میں بھی اختیار کرنا ہے۔ وہ یہ کہ جذبات کی تمام مضر مقدار کو خدا کی طرف موڑ دیا جائے۔ مختلف انسان جب مل کر رہتے ہیں تو ان کے درمیان بار بار شکایتیں پیدا ہوتی ہیں۔

ایک کے اندر دوسرے کے خلاف تلخیاں ابھرتی ہیں۔ یہ شکایتیں اور تلخیاں جس کے خلاف پیدا ہوئی ہیں، اگر وہ اسی کے خلاف نکلنے لگیں تو سارا سماج لڑائی جھگڑے کا میدان بن جائے۔ ان حالات میں انسان کو وہی کرنا ہے جو نیچر کرتی ہے، یعنی تمام بڑھے ہوئے جذبات کو خدا کے خانے میں ڈال دینا۔ ایسے تمام معاملات کو خدا کے حوالے کر کے اپنی مثبت تعمیر میں لگ جانا۔

نیچر ایسے عمل سے یہ سبق دیتی ہے کہ ہر آدمی کے پاس ایک تحویلی حوض، یعنی ڈائیورشن پول، ہونا چاہیے جس میں وہ دوسروں کے خلاف پیدا ہونے والے منفی جذبات کو منتقل کر دیا جائے، اور اس طرح اپنے آپ کو اعتدال کی حالت میں باقی رکھے۔ کتاب عظمت قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 166۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.