Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Narm guftaari

Urdu · 3 min

نرم گفتاری۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ چڑیاں خدا کی تسبیح پڑھتی ہیں، سورہ نمبر 24 آیت 41۔ دوسری طرف بتایا گیا ہے کہ گدھے کی آواز سب سے بری آواز ہوتی ہے، اس لیے جب تم بات کرو تو گدھے کی طرح مت چیخو، بلکہ آہستہ آواز سے بولو۔ سورہ نمبر 31 آیت 19۔

اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو وہ آواز پسند ہے جس میں چڑیوں کے چہچہے کی سی مٹھاس ہو۔ خدا کو وہ آواز پسند نہیں جس میں آدمی گدھے کی طرح زور زور سے بولنے لگے، اور سننے والے کے لیے سمع خراشی کا باعث ہو۔ انسان کے جسم میں زبان انتہائی قیمتی عضو ہے، اسی زبان کے ذریعے آدمی اپنے خیال کو دوسرے کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔ اسی کے ذریعے دو آدمی باہم تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔

تاہم زبان کو استعمال کرنے کی دو مختلف صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اللہ، ایک یہ کہ آدمی محبت اور خیرخواہی کے جذبے سے بولے۔ وہ جب بولے تو اس لیے بولے کہ وہ دوسروں تک وہ بات پہنچا دینا چاہتا ہے جو اس کے نزدیک بہترین بات ہے۔ اس کی زبان ہمیشہ بھلائی کی زبان ہو۔ اسی کے ساتھ اس کا اندازِ کلام سنجیدہ اور معقول ہو۔

وہ جو بات کہے، شرافت اور متانت کے ساتھ کہے۔ اس کے برعکس، زبان کے استعمال کی دوسری صورت وہ ہے جس کی ایک مثال گدھے کی صورت میں پائی جاتی ہے، یعنی منہ سے ایسی آواز نکالنا جو سننے والوں کو گراں گزرے۔ قرآن کے مطابق آدمی کے اوپر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کو بے معنی شور و غل سے بچائے۔ وہ طنز اور بدگوئی سے پوری طرح بچے۔

وہ اپنی زبان کو ایسے انداز سے استعمال نہ کرے جو سننے والوں کو ناگوار ہو۔ انسان کے بول کو چڑیوں کے چہچہے کی مانند ہونا چاہیے، نہ کہ گدھے کی چیخ کی مانند۔ کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 165۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.