Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Tasleem-o-ea'teraaf

Urdu · 3 min

تسلیم و اعتراف: "قرآن کی ایک آیت اس طرح ہے: 'پھر تمہارے دل سخت ہو گئے' تو وہ پتھر کی مانند سخت ہیں، یا اس سے بھی زیادہ سخت؟ اور بعض پتھر ایسے ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور بعض پتھر ایسے ہیں کہ وہ پھٹ جاتے ہیں، پھر ان میں سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض پتھر وہ ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ " سورہ نمبر 2، آیت 74۔

یہ آیت تمثیلی زبان، یعنی symbolic language میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کے بعض اوصاف تمثیل کے روپ میں انسان کے لیے اخلاق کا سبق ہیں: پہاڑوں میں پتھروں کے درمیان سے چشمے پھوٹتے ہیں، اور ان سے دریا بہہ نکلتے ہیں۔ یہ اس انسانی اخلاق کی تمثیل ہے کہ انسان کو سخت دل نہیں ہونا چاہیے؛ اس کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ جب کوئی سچائی اس کے سامنے آئے تو اس کو قبول کرنے کے لیے اس کا سینہ کھل جائے۔ کوئی انسانیت کا موقع آئے تو اس کا سینہ اس کو محسوس کر کے تڑپ اٹھے۔

جس طرح پہاڑ میں پتھروں کے درمیان پانی کا چشمہ ابل پڑتا ہے، اسی طرح انسان کے دل سے حق کے اعتراف کا چشمہ ابل پڑنا چاہیے۔ اسی طرح پتھروں کا پہاڑ سے گرنا، یعنی لینڈ سلائیڈ، اس بات کی تمثیل ہے کہ انسان کے سامنے جب خدا کا حکم آئے تو اس کے سامنے اس کو سرِ تسلیم خم، یعنی surrender کر دینا چاہیے۔ اس کو سرکشی کے بجائے اعتراف کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔ جس طرح پتھر فطرت کے قانون کے آگے گر پڑتے ہیں، اسی طرح انسان کو خدا کے قانون کے آگے ہمہ تن جھک جانا چاہیے۔

کتاب عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.