Maulana Wahiduddin Khan
19 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Fikri inquilaab

Urdu · 19 min

فکری انقلاب: المعہد العلمي للفكر الإسلامي کا بین الاقوامی سیمینار، کوالالمپور، جولائی 1984، مسلم نوجوانوں میں ایک نئے فکری دور کی علامت ہے۔ معہد کے فکر کا خلاصہ اس کے تعارفی پمفلٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ موجودہ زمانے میں امت مسلمہ کی ناکامی کا سبب خود اس کے اندر ہے، نہ کہ اس کے باہر۔ وہ سبب ہے: ضروری بنیاد تیار کیے بغیر عملی اقدامات کرنا۔ معہد کے نزدیک پہلی ضروری چیز وہ ہے جس کو اسلامیت المعرفہ، یعنی Islamization of knowledge، کے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔

کہا گیا ہے کہ امت کے موجودہ بحران کو حل کرنے کے سلسلے میں پہلا قدم یہ ہے کہ علم کو اسلامی بنایا جائے۔ The first step toward a genuine solution of present crisis of the Ummah is the Islamization of knowledge. تقریباً 12 سال پہلے میں نے ایک مقالہ لکھا تھا۔ یہ مقالہ عربی زبان میں اگست 1973 میں شائع ہوا۔

اس کا عنوان "لابد من الثورة الفكرية قبل الثورة التشريعية" تھا۔ اس مقالے میں تفصیل سے یہ دکھایا گیا تھا کہ سیاسی یا قانونی انقلاب سے پہلے فکری انقلاب ضروری ہے۔ امت کے عملی مسائل صرف اس وقت حل ہوں گے جبکہ ہم فکری انقلاب کے ذریعے اس کے موافق فضا بنا چکے ہوں۔ یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن کی رو سے ہمارا اہم ترین اجتماعی فریضہ قرار پاتی ہے۔

قرآن میں وہ مقام قرآن میں دو مقام پر، یعنی البقرہ 193، الانفال 39، یہ حکم دیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله سورہ نمبر 2 آیت 193۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن عمر کی تشریح سے معلوم ہوتا ہے، اس آیت میں فتنے سے مراد شرک جارح ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت اسلام تھوڑا تھا۔

چنانچہ جب کوئی شخص دین توحید کو اختیار کرتا تو اہل شرک اسے ستاتے۔ کسی کو وہ قتل کر دیتے، کسی کو زنجیروں میں باندھتے، اور کسی کو عذاب دیتے۔ یہاں تک کہ اسلام کی کثرت ہو گئی۔ اور یہ صورتحال باقی نہ رہی کہ عقیدہ توحید کی بنا پر کسی کو ستایا جائے۔

صحیح البخاری، حدیث نمبر 4650۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں فتنے سے وہی چیز مراد ہے جس کو ایذا رسانی، یعنی persecution، کہا جاتا ہے۔ یعنی مختلف عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔ قدیم زمانے میں شرک کو غلبہ حاصل تھا۔

چنانچہ اہل شرک ہزاروں سال تک یہ کرتے رہے کہ وہ توحید کا عقیدہ رکھنے والوں کو ستاتے۔ وما نقموا منهم إلا أن يؤمنوا بالله العزيز الحميد سورہ نمبر 85، آیت 8۔ اور ان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر، جو زبردست ہے، تعریف والا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کا مشن، جس کو آپ نے اپنی زندگی میں مکمل فرمایا، وہ یہ تھا کہ آپ مذہبی جبر کے ماحول کو ختم کر دیں۔

وہ شرک کے عمومی غلبے کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیں۔ تاکہ خدا کے بندوں کے لیے توحید کا عقیدہ اختیار کرنے میں جو چیز رکاوٹ بن رہی ہے، وہ رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا: وأنا أحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر صحیح البخاری، حدیث نمبر 4880۔ میں احمد، میں مٹانے والا ہوں۔

میرے ذریعے سے اللہ کفر کو مٹائے گا۔ موجودہ زمانے میں شرک کی جارحانہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ مگر غور کیجئے تو اصل صورتحال دوبارہ ایک نئی شکل میں لوٹ آئی ہے۔ آج دوبارہ انسان کے لیے دین توحید اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔

مگر آج دین سے روکنے والا عنصر اپنا کام فکری طاقت کے زور پر کر رہا ہے، نہ کہ شمشیری طاقت کے زور پر۔ آج کا فتنہ جدید ملحدانہ افکار کا فتنہ ہے۔ جو کام قدیم زمانے میں شرک کرتا تھا، وہ آج ملحدانہ افکار انجام دے رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں ایسے افکار غالب آ گئے ہیں جو خدا کے وجود کو مجتبیٰ قرار دیتے ہیں۔

جو وحی و الہام کو فرضی بتاتے ہیں۔ جو آخرت کو بے بنیاد ثابت کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ افکار دین توحید کو اختیار کرنے میں مانع بنے ہوئے ہیں۔ آج کا فتنہ یہ ہے کہ خود سوچنے کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دیا گیا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کا انسان یا تو منکر بن گیا ہے یا وہ کم از کم متشقق، یعنی agnostic ہے۔ یہ ایک قسم کا فکری حملہ، یعنی intellectual invasion ہے۔ ہم کو اس حملے کا مقابلہ کرنا ہے۔ اب ہمیں دوبارہ وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة سورہ نمبر 8 آیت 39 پر عمل کرنا ہے۔

یعنی ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ مگر یہ عمل شمشیر کے ذریعے نہیں ہوگا، بلکہ افکار کی طاقت کے ذریعے ہوگا۔ ملحدانہ افکار کا جواب ہمیں توحیدی افکار سے دینا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اعلیٰ علمی استدلال سے جدید ملحدانہ افکار کو بے بنیاد ثابت کر دیا جائے۔

ہماری یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ نظریات اپنا غلبہ کھو نہ دیں۔ اور توحید کا فکر وقت کا غالب فکر نہ بن جائے۔ غلبہ اور مغلوبیت کا یہ واقعہ اولاً فکری میدان میں ہوگا۔ یہ اسی قسم کا ایک واقعہ ہوگا جیسا کہ ہم موجودہ زمانے میں مغربی افکار کی مثال میں دیکھ رہے ہیں۔

موجودہ زمانے میں سائنسی علوم نے روایتی علوم پر غلبہ پایا ہے۔ شہنشاہی نظریے کے اوپر جمہوری نظریہ فائق ثابت ہوا ہے۔ تخلیقی طرز فکر پر ارتقائی طرز فکر کو بالاتری حاصل ہے۔ اجتماعی معیشت کے نظریے کے مقابلے میں انفرادی معیشت کا نظریہ دفاعی پوزیشن میں چلا گیا ہے۔

یہ سب کے سب فکری غلبے کے واقعات ہیں۔ اسی نوعیت کا غلبہ ملحدانہ فکر پر موحدانہ فکر کے لیے مطلوب ہے۔ یہی غلبہ ملت کی اگلی تمام کامیابیوں کی تمہید ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔

وہ یہ کہ موجودہ زمانے میں ملحدانہ افکار کا غلبہ ان کی کسی جوہری اہمیت کی وجہ سے نہیں ہوا ہے۔ یہ تمام تر صرف مغالطے کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو نئے سائنسی حقائق دریافت ہوئے، وہ حقیقتاً قدرت خداوندی کے بھیدوں کا اظہار تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ دین توحید کے حق میں فطرت کے دلائل تھے۔

مگر مسلمان مختلف اسباب سے جدید سائنسی علوم میں پیچھے ہو گئے۔ وہ اس قابل نہ ہو سکے کہ ان علوم کو صحیح رخ دے سکیں۔ اور ان کو دین کی تائید میں استعمال کریں۔ ملحد علماء نے اس خلا سے فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے جدید معلومات کو غلط تعبیر کے ذریعے اپنے حق میں استعمال کیا۔ جن واقعات سے دین توحید کا اثبات نکل رہا تھا، ان کو دین الحاد کی دلیل بنا دیا۔ اس کی ایک واضح مثال ارتقاء کا نظریہ ہے۔ جس نے موجودہ زمانے میں ملحدانہ فکر پیدا کرنے میں سب سے زیادہ اہم رول ادا کیا ہے۔

زمینی طبقات کے مطالعے کے دوران انسان کے علم میں یہ بات آئی کہ قدیم زمانے کے حیوانات کے ڈھانچے مخصوص کیمیائی عمل کے نتیجے میں پتھر کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ زمین کی کھدائی سے اس قسم کے بہت سے متحجر نمونے، یعنی fossils، جمع کیے گئے۔ ان پر ریڈیو ایکٹیویٹیٹنگ کا طریقہ استعمال کیا گیا تو تقریباً صحت کے ساتھ ان کی تاریخیں معلوم ہو گئیں۔ یہ تحقیقات سو سال سے بھی زیادہ لمبے عرصے تک جاری ہیں۔

یہاں تک کہ انسان اس پوزیشن میں ہو گیا کہ مختلف انواع حیات کے درمیان تاریخ کے اعتبار سے ترتیب قائم کر سکے۔ اس تاریخی ترتیب سے معلوم ہوا کہ وہ تمام مختلف انواع حیات جو آج زمین پر بظاہر بیک وقت نظر آ رہی ہیں، وہ سب زمین پر بیک وقت موجود نہیں ہو گئیں۔ بلکہ زمین پر ان کے ظہور میں ایک تاریخی ترتیب ہے۔ وہ یہ کہ سادہ انواع حیات سب سے پہلے ظہور میں آئیں۔

اس کے بعد بتدریج زیادہ پیچیدہ انواع حیات ظہور میں آتی رہیں۔ یہاں تک کہ بالآخر انسان ظاہر ہو گیا۔ اس طرح واحد الخلية جاندار، یعنی single cellular animal، زمین پر وجود میں آیا۔ اور انسان اس حیاتیاتی ترتیب کے سب سے آخر میں ظاہر ہوا۔

نظریہ ارتقاء کی عمارت جن مشاہدات پر قائم کی گئی ہے، ان سب سے اہم مشاہدہ یہی ہے۔ نظریہ ارتقاء کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ زندگی کی مختلف قسمیں ارتقائی عمل کے ذریعے ظہور میں آئیں۔ یعنی زندگی کا ہر اگلا فارم اپنے پچھلے فارم سے نکلتا رہا۔ یہ ترقی ہر اگلی نسل میں جمع ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس کے آخری مجموعے نے وہ اعلیٰ صورت اختیار کر لی جس کو انسان کہا جاتا ہے۔

مگر یہ سراسر غلط تعبیر کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی حقیقی استدلال کا نتیجہ۔ خالص علمی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جو بات مشاہدے میں آئی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ زمین پر انواع حیات کی موجودگی میں ایک زمانی ترتیب پائی جاتی ہے، نہ کہ انواع حیات ایک دوسرے کے بطن سے بطریق تناسل پیدا ہوتی چلی گئی ہیں۔ اصل مشاہدہ صرف تخلیق کی زمانی ترتیب کو بتا رہا تھا، مگر غلط تعبیر کے ذریعے اس کو زندگی کے ارتقائی ظہور کے ہم معنی بنا دیا گیا۔ ارتقاء کے مشاہدات خالق یعنی creator کی تردید نہیں کرتے۔

جیسا کہ خود چارلس ڈارون نے اپنی کتاب "اصل الانواع" میں تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اگر یہ مشاہدات درست ہوں تو وہ خالق کے تخلیقی عمل کی ترتیب کو بتاتے ہیں۔ یہ مختصر جائزہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کے احیاء کی راہ کا پہلا بنیادی کام اسلام کا فکری غلبہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ فکری غلبہ بظاہر دشوار ہونے کے باوجود انتہائی آسان ہے۔

اسلام کی پچھلی تاریخ میں اس سے ملتی جلتی مثالیں اس کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔ رسول کے زمانے میں عرب کے لوگ اسلام کے نہایت سخت دشمن کے روپ میں ظاہر ہوئے۔ مگر صرف ربع صدی کی دعوتی جدوجہد نے بتایا کہ اس طاقتور دشمن کے اندر طاقتور مددگار کی شخصیت چھپی ہوئی تھی۔ اس طرح ساتویں صدی ہجری میں تاتاری قبائل اسلام کے خلاف ناقابل تسخیر قوت بن کر ابھرے۔

مگر ایک صدی سے بھی کم عرصے میں معلوم ہوا کہ یہ طاقتور تلوار صرف اس لیے ظاہر ہوئی تھی کہ بالآخر وہ اسلام کے طاقتور خادم اور محافظ بن جائے۔ یہی موجودہ زمانے کے اسلام دشمن علوم کا معاملہ ہے۔ ان علوم نے بظاہر آج اسلام کو مغلوب کر رکھا ہے۔ لیکن اگر ہم اپنی کوششوں کو صحیح رخ سے جاری کر سکیں تو نصف صدی بھی نہیں گزرے گی کہ یہ سارا علم اسلام قبول کر لے گا۔

وہ اسلام کے علم کلام کی صورت اختیار کر لے گا۔ اور پھر دنیا دیکھے گی کہ جدید علمی قوت صرف اس لیے ظاہر ہوئی تھی کہ وہ خدا کے دین کی طاقت تو مددگار بن جائے۔ وہ اسلام کے علم کلام کی صورت اختیار کر لے گا۔ اور پھر دنیا دیکھے گی کہ جدید علمی قوت صرف اس لیے ظاہر ہوئی تھی کہ وہ خدا کے دین کی طاقتور مددگار بن جائے۔

اسلام کے حق میں اس نتیجے کو حاصل کرنے کی صرف ایک ہی ضروری شرط ہے۔ وہ یہ کہ ہم دوسرے میدانوں میں اپنی جو قوت ضائع کر رہے ہیں، اس کو سمیٹ کر اسی ایک میدان فکری انقلاب لانے کے میدان میں لگا دیں۔ جس دن یہ واقعہ ہوگا، اسی دن اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ صحیح آغاز ہی دراصل صحیح اختتام کا دوسرا نام ہے۔

یہ مقالہ یعنی انگریزی زبان میں کوالالمپور کے انٹرنیشنل سیمینار جولائی 1984 عیسوی میں پیش کیا گیا۔ کتاب "عظمت قرآن" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 172۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.