Maulana Wahiduddin Khan
43 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Hifazat-equr'an

Urdu · 43 min

حفاظتِ قرآن: قرآن 23 سال کے عرصے میں اترا، سب سے پہلی آیت جو اتری وہ آیتِ علم تھی۔ اقرأ باسم ربك الذي خلق سورہ نمبر 96، آیت 1۔ یعنی: "پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا"۔ اور آخری آیتِ آخرت: وَاتَّقُوا يَوْمَ تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ سورہ نمبر 2، آیت 281۔

یعنی: "اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے"۔ ابتدائی 23 سال تک خود رسول اللہ کی ذات خران کے اخذ کا ذریعہ تھی، اپنے بعد آپ نے کچھ لوگوں کو نامزد کر دیا کہ ان سے تم قرآن سیکھنا۔ یہ لوگ وہ تھے جنہوں نے نہایت صحت کے ساتھ پورے قرآن کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیا تھا، اور عربی زبان سے گہری واقفیت، اور جنابِ رسول کی مسلسل صحبت کی وجہ سے اس قابل ہو گئے تھے کہ مستند طور پر خران کی تعلیم دے سکیں۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانے میں ایک شخص کوفہ سے مدینہ آیا، گفتگو کے دوران اس نے آپ سے کہا کہ کوفہ میں ایک شخص یاد سے خران پڑھاتا ہے۔

یہ سن کر حضرت عمر غضب ناک ہو گئے، مگر جب معلوم ہوا کہ وہ بزرگ حضرت عبداللہ ابن مسعود ہیں تو آپ خاموش ہو گئے۔ الاستیاب، جلد 1، صفحہ 377۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ عبداللہ ابن مسعود آنحضرت کے اجازت یافتہ تھے، آپ کے مجاز خواریوں میں سے چند نمایاں افراد تھے: عثمان، علی، ابی ابن کعب، زید ابن ثابت، ابن مسعود، ابو الدرداء، ابو موسیٰ اشعری، سالم، مولا ابی حذیفہ۔ مگر یہ اجازت یافتہ افراد ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے؛ یہ اندیشہ بہرحال تھا کہ کسی وقت ایسے تمام لوگ ختم ہو جائیں، اور خران دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں جا کر اختلاف کا شکار ہو جائے۔

جنگ یمامہ 12 ہجری کے بارے میں خبر آئی کہ کثرت سے مسلمان قتل ہو گئے ہیں۔ حضرت عمر خلیفہ اول ابوبکر صدیق کے پاس آئے اور کہا کہ اب خران کی حفاظت کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ اس کو تحریری طور پر باضابطہ مدون کر دیا جائے۔ اس موقع پر روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں: فلما قتل سالم مولا أبي حذيفة خشي عمر أن يذهب القرآن فجاء إلى أبي بكر المشيخة البغدادي الأموی صفحہ 23۔ جب سالم مولا ابو حذیفہ قتل ہوئے تو عمر کو خطرہ پیدا ہوا کہ قرآن ضائع نہ ہو جائے۔

وہ ابوبکر کے پاس آئے۔ یمامہ کی جنگ میں تقریباً 700 صحابہ قتل ہوئے تھے، مگر حضرت عمر کو ذہابِ قرآن یعنی قرآن کے ضائع ہونے کا خطرہ حضرت سالم کی موت کی وجہ سے ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان چند مخصوص صحابہ میں سے تھے جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمِ قرآن کی اجازت دی تھی۔ جیسا کہ ثابت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے اترتے ہی اس کو فوراً لکھوا دیا کرتے تھے۔

کتابت کا اہتمام اتنا زیادہ تھا کہ سورہ النساء آیت 95 اتر چکی تھی۔ بات کو غیر الضرر یعنی جن کو کوئی عذر نہیں، اس میں بطور اضافہ اترا۔ امام مالک کے الفاظ میں یہ حرفِ واحد تاریخِ دمشق ابن عساکر جلد 36 صفحہ 312 بھی آپ نے اسی وقت کاتب کو بلا کر لکھوایا۔ لما نزلت لا يستوي القاعدون من المؤمنين قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ادع زيدا فجاء ومعه الدوات واللوح والكتف فقال اكتب لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير الضرر والمجاهدون فی سبیل اللہ صحیح البخاری حدیث نمبر 4990۔

جب آیت لا یستوی القاعدون الی آخرہ اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید کو بلاؤ اور وہ تختی اور قلم اور کتف اور دوات لے کر آئیں۔ جب وہ آ گئے تو کہا کہ لکھو لا یستوی یعنی برابر نہیں ہو سکتے بیٹھے رہنے والے اہل ایمان جن کو کوئی عذر نہیں، اور وہ اہل ایمان جو اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہیں۔ آپ کا معمول تھا کہ نازل شدہ آیات کو لکھانے کے بعد اس کو پڑھوا کر سنتے تھے۔ زید ابن ثابت کا بیان ہے: فإن كان فيه سخط أقامه ثم أخرج به إلى الناس المعجم الأوسط للطبراني حدیث نمبر 1913۔

اگر کوئی جز لکھنے سے چھوٹ جاتا تو اس کو درست کراتے۔ جب یہ سارا کام پورا ہو جاتا تب اشاعت عام کا حکم دیا جاتا۔ کاتبانِ وحی یعنی وہ صحابہ جن سے آپ خران کو لکھواتے تھے، ان کی تعداد 42 تک شمار کی گئی ہے۔ یعنی ان 42 کاتبوں کے نام کے لیے ملاحظہ ہو: القطانی کی کتاب التراتيب الاداریہ جلد 1 صفحہ 16 مطبوعہ مراکش۔

ابن عبدالبر نے عقد الفرید جلد 4 صفحہ 114 میں لکھا ہے کہ حنزلہ ابن ربیع تمام کاتبوں کے خلیفہ تھے، یعنی ان کو حکم تھا کہ وہ ہر وقت آپ کی صحبت میں موجود رہیں۔ آپ کے اس اہتمام کا نتیجہ یہ تھا کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو کثرت سے لوگوں کے پاس خران کے اجزاء لکھے ہوئے موجود تھے۔ ایک تعداد ان لوگوں کی تھی جن کے پاس مکمل خران اپنی اصل ترتیب کے ساتھ جمع شدہ موجود تھا۔ ان میں سے چار خاص طور پر قابل ذکر ہیں: مات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولم یجمع القران غیر اربعۃ ابو الدرداء و معاذ ابن جبل و زید ابن ثابت و ابو زید صحیح البخاری حدیث نمبر 4718۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو چار آدمیوں کے پاس مکمل قرآن تحریری طور پر موجود تھا: ابو الدرداء، معاذ ابن جبل، زید ابن ثابت، اور ابو زید۔ خران مکمل طور پر لکھا ہوا عہدِ رسالت میں موجود تھا، البتہ کتاویش البتہ کتابی شکل میں ایک جگہ مجلد نہیں ہوا تھا۔ قسطلانی شارح قسطلانی شارح بخاری کے حوالے سے القطانی نے نقل کیا ہے: وقد كان القرآن كله مكتوبا فی عہدہ صلی اللہ علیہ وسلم لكنه غير مجموع فی موضع واحد التراتيب الاداریہ للکتانی جلد 2 صفحہ 384۔ خران کل کا کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی لکھا جا چکا تھا، البتہ ایک جگہ تمام سورتوں کو جمع نہیں کیا گیا تھا۔

حارث محاسبی نے، جو امام حنبل کے معاصر ہیں، اپنی کتاب فہم السنن میں لکھا ہے: وكان القران منتشرا فجمعها جامع وربطها بخيط الاطخان فی علوم القران جلد 1 صفحہ 207۔ خران کی سورتیں اس میں الگ الگ لکھی ہوئی تھیں۔ ابوبکر کے حکم سے جامع یعنی زید ابن ثابت نے ایک جگہ سب سورتوں سب سورتوں کو جمع کیا اور ایک دھاگے سے سب کی شیرازہ بندی کی۔ خران کی کتابت تین مراحل سے گزری ہے: کتابت، تالیف، جمع۔

پہلے مرحلے میں کوئی آیت یا سورہ اترتے ہی اس کو کسی ٹکڑے پر لکھ لیا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں حسب ذیل چیزوں کے نام آئے ہیں: رقاع، چمڑا، لخاف، پتھر کی سفید پتلی تختیاں یعنی سلیٹ، کتف، اونٹ کے مونڈھے کی گول ہڈی، عصیب، کھجور کی شاخ کی جڑ کا کشادہ حصہ۔ دوسرے مرحلے کے عمل کو حدیث میں تالیف سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت زید ابن ثابت کہتے ہیں: كنا عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نؤلف القران من الرقاع مسند احمد حدیث نمبر 21607۔

ہم لوگ رقاع پر قرآن تالیف کرتے تھے، گویا اولا ہر آیت نازل ہوتے ہی لکھ لی جاتی تھی۔ پھر جب سورہ مکمل ہو جاتی تو پوری سورہ کو مرتب شکل میں رقاع یعنی چمڑے پر لکھتے تھے۔ اس قسم کے مؤلفہ قرآن یعنی مکمل یا غیر مکمل، دور نبوت ہی میں کثرت سے لوگوں کے پاس ہو چکے تھے۔ حضرت عمر اسلام لانے کے مشہور واقعے میں ہے کہ بہن کو زدوکوب کرنے کے بعد آپ نے کہا: "وہ کتاب مجھے دکھاؤ جو ابھی تم پڑھ رہے تھے" اعطني هذه الصحيفة التي سمعتكم تقرؤون آنفا بہن نے جواب دیا: "ناپاکی کے ساتھ تم اس کو چھو نہیں سکتے" پھر آپ نے غسل کیا اور ان کی بہن نے کتاب انہیں دی۔

فاغتسل فأعطته الصحيفة سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 296۔ تیسرے مرحلے کے کام کو جمع سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی پورے قرآن کو ایک جلد میں یکجائی طور پر لکھنا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مختلف رسالوں اور کتابوں کی شکل میں ہوتا تھا۔ یہ تمام سورتوں کو ایک ہی تختی اور سائز کے اوراق پر لکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کرنے کا طریقہ آپ کے عہد میں رائج نہ تھا۔

بخاری کی ایک روایت کے مطابق صرف چار صحابہ ابی ابن کعب، معاذ ابن جبل، ابو زید، زید ابن ثابت تھے جنہوں نے پورے قرآن کو آپ کے عہد میں مجموعی شکل میں تیار کر لیا تھا۔ صحیح البخاری حدیث نمبر 3810۔ تاہم ان کی حیثیت نجی مجموعوں کی تھی۔ محمد ابن کعب القرزی کے حوالے سے ابن سعد نے جو روایت نقل کی ہے، اس کے مطابق ایسے جامعین قرآن کی تعداد پانچ تھی: جمع القرآن فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم خمسة من الأنصار طبقات ابن سعد جلد 2 صفحہ 307۔

حضرت ابوبکر صدیق نے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ انہوں نے ریاستی انتظام کے تحت تمام سورتوں کو ایک ہی تختی اور سائز پر لکھوا کر مجلد کرا دیا۔ امام شافعی امام مالک شہاب زہری سے اور شہاب زہری عبداللہ ابن عمر کے صاحبزادے سالم کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ زید ابن ثابت نے القراطیس پر ابوبکر کے حکم سے قرآن کی کل سورتوں کو لکھا تھا: المصاحف لابن ابی داؤد صفحہ 57۔ بعض محققین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ایک ہی تختی کے اوراق جب بنائے جاتے تھے تو ان کو قراطیس کہتے تھے۔ ایک سائز کے اوراق پر لکھے ہونے کی وجہ سے ابوبکر صدیق کی حکومت کے مرتب مرتب کردہ اس نسخے کو رباع کہتے تھے۔

الاطخان جلد 1 صفحہ 84 تا 85۔ رباع کا ترجمہ چوکھن چوکھنٹا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اوراق کا طول و عرض غالبا متساوی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق کے زمانے میں مصر، عراق، شام اور یمن وغیرہ میں قرآن کے ایک لاکھ سے زیادہ نسخے موجود تھے۔

بعد کے زمانے میں لکھا ہوا قرآن ہی لوگوں کے لیے قرآن کو سیکھنے کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ تاہم ایک خطرہ اب بھی تھا: مقدس کتاب میں انتہائی معمولی فرق بھی زبردست اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے یہ اندیشہ تھا کہ مختلف لوگ اگر اپنے اپنے طور پر قرآن لکھیں تو کتابت اور قرات کا فرق مسلمانوں کے اندر زبردست اختلاف کھڑا کر دے گا، اور اس کو ختم کرنے کی کوئی سبیل باقی نہ رہے گی۔ مثلاً سورہ فاتحہ میں ایک ہی لفظ کو محض ادائیگی کے فرق سے کوئی مالکی یوم الدین لکھتا، کوئی ملکی یوم الدین اور کوئی ملی کی یوم الدین۔

پھر جیسے جیسے زمانہ گزرتا، طرز تحریر اور رسم الخط کا فرق نئے نئے اختلاف پیدا کرتا چلا جاتا۔ اس لیے حضرت عمر کے مشورے سے خلیفہ اول حضرت ابوبکر نے طے کیا کہ سرکاری اہتمام میں قرآن کا ایک مستند نسخہ لکھوا دیا جائے اور اختلاف قرات کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اس کے لیے زید ابن ثابت سب سے زیادہ موضوع شخص تھے، کیونکہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب یعنی سیکرٹری تھے۔ زید اور ابی ابن کعب دونوں عرضہ اخیرہ میں شامل تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست پورے قرآن کو نبوی ترتیب کے ساتھ سنا تھا۔

ان کو پورا قرآن مکمل طور پر یاد تھا اور اس کے ساتھ پورا قرآن مرتب طور پر لکھا ہوا بھی ان کے پاس موجود تھا۔ خلیفہ اول نے ان کو حکم دیا کہ تم قرآن کا تتبع کرو اور اس کو جمع کرو۔ خلیفہ اول نے ان کو حکم دیا کہ تم قرآن کا تتبع کرو اور اس کو جمع کر دو۔ فتتبع القران فاجمعه صحیح البخاری حدیث نمبر 4679۔

اس بات کے طے ہونے کے بعد حضرت عمر نے مسجد میں اعلان کر دیا کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی ٹکڑا موجود ہو، وہ لے آئے اور زید کے سامنے پیش کرے۔ خلیفہ اول کے زمانے میں قرآن کاغذ یعنی چمڑے، پتھر اور کھجور کی چھال وغیرہ پر لکھا ہوا تو موجود تھا، اور بہت سے لوگوں کے سینوں میں رسول اللہ سے سن کر مرتب طور پر بھی محفوظ تھا۔ مگر وہ ایک کتاب کی طرح بین الدفتین اب تک جمع نہیں ہوا تھا۔ خلیفہ اول نے حکم دیا کہ اس کو بین الدفتین جمع کر دو اور اس کو ایک مجلد کتاب کی صورت میں یکجا کر دو۔

وقال الحارث المحاسبی فی کتاب فہم السنن: کتابۃ القران لیست بمحدث، کتابۃ القران لیست بمحدثۃ، فانہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یعمر بکتابتہ ولكنه کان مفرقا فی الرقاع والاکتاف والعصوب، فانما امر الصدیق بنسخہا من مکان الی مکان مجتمعا، وكان ذلك بمنزلت اوراق وجدت فی بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیہا القران منتشر، فجمعہ جامع وربطہ بخیط حتی لا یضیع منها شئی" الاطخان فی علوم القران جلد 1 صفحہ 40۔ حارث محاسبی فہم السنن میں لکھتے ہیں کہ قرآن کی کتابت کوئی نئی بات نہ تھی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لکھوایا کرتے تھے، مگر وہ رقاع اور اکتاف اور عصیب میں متفرق طور پر لکھا ہوا تھا۔ ابوبکر صدیق نے اس کو مرتب طور پر یکجا لکھنے کا حکم دیا، اور یہ بمنزلہ ان اوراق کے تھا جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پائے گئے تھے۔ ان میں قرآن منتشر طور پر لکھا ہوا تھا، اسی کو جمع کرنے والے نے جمع کر دیا اور ایک دھاگے میں اس طرح پرو دیا کہ اس کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو۔

عہد صدیقی میں جمع قرآن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے پہلے قرآن جمع نہ تھا، اور آپ کے زمانہ خلافت میں اس کو جمع کیا گیا۔ قرآن اس سے پہلے بھی مکمل طور پر جمع تھا، عرضہ اخیرہ میں متعدد صحابہ کو شامل کر کے آپ نے اس کی تصدیق و توثیق بھی فرما دی تھی۔ جمع قرآن کا یہ اہتمام صرف اس لیے ہوا کہ معمولی امکانی فروغ کو بھی باقی نہ رہنے دیا جائے جو حافظہ یا کتابت میں فرق کی وجہ سے ہو سکتے تھے۔ مثال کے طور پر حضرت عمر نے زید ابن ثابت کو یہ آیت سنائی: من المہاجرین والانصار الذین اتبعوهم باحسان سورہ نمبر نو آیت 100۔

زید نے کہا: "مجھے تو یہ آیت جس طرح یاد ہے، اس میں الانصار اور الذین کے درمیان ایک واؤ بھی ہے۔ " چنانچہ تحقیق شروع ہوئی، بالاخر مختلف لوگوں کی گواہیوں سے ثابت ہوا کہ زید کی رائے صحیح تھی۔ چنانچہ مصحف میں آیت کو واؤ کے ساتھ لکھا گیا: فضائل القرآن للقاسم ابن السلام صفحہ 310۔ وسابقون الأولون من المهاجرين والانصار والذين اتبعوهم باحسان سورہ نمبر نو آیت 100۔

اور مہاجرین اور انصار میں جو لوگ سابق اور مقدم ہیں، اور جنہوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ مولانا بحرالعلوم شرح سلم میں لکھتے ہیں: "قرآن کی یہ ترتیب جس پر وہ آج ہے، انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیے کہ ان دس قاریوں نے جن کی قرات اسلامی دنیا میں بالاتفاق مقبول ہے، صحیح سندوں سے، جس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے، قرآن کو اسی ترتیب سے نقل کیا۔ " زید ابن ثابت نے جب پورا قرآن مرتب کر لیا تو ان کے مصحف کے علاوہ جتنے مختلف اجزاء اکٹھا ہوئے تھے، ان سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ یہ مجلد مصحف خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کے پاس رکھ دیا گیا۔

آپ کی وفات کے بعد وہ خلیفہ ثانی حضرت عمر کے پاس رہا۔ پھر آپ کی وفات کے بعد وہ حفصہ بنت عمر کے پاس محفوظ رہا۔ حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ آیا تو اسلام بہت پھیل چکا تھا، اور مسلمانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ اس وقت مختلف علاقوں کے مسلمانوں کے لیے قرآن سیکھنے کا ذریعہ وہ صحابہ تھے جو مدینے سے نکل کر ممالک اسلامیہ میں ہر طرف پھیل گئے تھے۔

مثلاً اہل شام ابی ابن کعب سے قرآن سیکھتے تھے، اہل کوفہ عبداللہ ابن مسعود سے، اہل عراق ابو موسیٰ اشعری سے۔ تاہم اختلاف لہجہ اور اختلاف کتابت کی وجہ سے دوبارہ لوگوں میں قرآن کے بارے میں اختلافات ہونے لگے، حتیٰ کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے۔ حتى كفّر بعضهم بعضا فتح الباری لی ابن حجر الاسقلانی جلد 9 صفحہ 18۔ ابن ابی داؤد نے کتاب المصاحف میں یزید ابن معاویہ نخئی سے نقل کیا ہے کہ ولید ابن عقبہ کے زمانے میں ایک بار وہ کوفہ کی مسجد میں تھے۔

حذیفہ ابن الیمان بھی اس وقت مسجد میں موجود تھے۔ مسجد میں ایک حلقہ قرآن کے ذکر میں مشغول تھا۔ ایک شخص نے کوئی آیت پڑھی اور کہا: قراءة أبي موسى الأشعري حضرت حذیفہ یہ سن کر غضب ناک ہو گئے۔ انہوں نے کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر کی اور فرمایا: هكذا كان من قبلكم اختلفوا، والله لأركبن إلى أمير المؤمنين تحفۃ الاحمدی بشرح جامع ترمذی جلد 8 صفحہ 410۔

تم سے پہلے جو لوگ تھے، انہوں نے اسی طرح اختلاف کیا۔ خدا کی قسم، میں سوار ہو کر امیرالمؤمنین یعنی عثمان کے پاس جاؤں گا۔ عمارہ ابن رضیہ کی روایت کے مطابق حذیفۃ ابن الیمان واپس آئے، وہ ایک فوجی افسر تھے اور اس وقت ارمینیا میں اہل شام سے اور اذربائجان میں اہل عراق سے جنگ کر کے لوٹے تھے۔ وہ مدینہ پہنچے تو اپنے مکان جانے کے بجائے سیدھے خلیفہ ثالث کے پاس آئے اور کہا: یا امیر المؤمنین، ادرک هذه الامة قبل أن يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصارى صحیح البخاری حدیث نمبر 4702۔

اے امیرالمؤمنین، لوگوں کو سنبھالیے قبل اس کے کہ لوگ کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف میں پڑ جائیں، جس طرح یہود و نصاری اختلاف میں پڑ گئے۔ حضرت عثمان کے زمانے میں ایسی آبادیاں اسلام میں داخل ہو گئیں جن کی مادری زبان عربی نہ تھی۔ عربی الفاظ و حروف کے صحیح تلفظ کی قدرت ظاہر ہے ان میں نہیں ہو سکتی تھی۔ خود عرب کے مختلف قبائل کے لہجے الگ الگ تھے، اس سے قرات قرآن میں اختلاف پیدا ہوا، نتیجتاً نقل و تحریر میں بھی اختلاف شروع ہو گیا۔

ابن قطیبہ نے لکھا ہے کہ قبیلے بنی حزیل حتیٰ کو عطا پڑتا تھا۔ ابن مسعود اسی قبیلے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے حتاحین کو عطا عین پڑھتے تھے۔ قبیلے بنو اسد تعلمون کی تا کو زیر کے ساتھ تلمون پڑھتا تھا۔ مدینے کے لوگ تابوت کا تلفظ تابو کرتے تھے، قبیلے قیس کاف تانیس کا تلفظ شین سے کرتے تھے، اور قرآنی آیت قد جعل ربک تحت کی سریہ کو جعل رب شی تحت شی سریہ پڑھتے۔

اسی طرح قبیلے تمیم ان کے لفظ کو عن کی شکل میں ادا کرتے تھے اور اس اللہ عن یعتی اس اللہ عن یعتیہ پڑھتے تھے۔ ایک قبیلہ اس کو تا کی شکل میں ادا کرتا تھا اور اعوذ برب الناتی ملک الناتی الہ الناتی پڑھتا تھا وغیرہ۔ ان حالات میں حذیفہ ابن یمان صحابی کے مشورے سے حضرت عثمان نے صدیقی نسخے کی نخلیں تیار کرائیں اور تمام شہروں میں اس کا ایک ایک نسخہ بھیج دیا۔ یہ کام دوبارہ حضرت زید ابن ثابت انصاری کی سرکردگی میں کرایا گیا اور ان کی مدد کے لیے 11 افراد مقرر کیے گئے۔

خلیفہ سو کے حکم کے مطابق اس کمیٹی نے قرآن کو قریش کے لہجے پر تحریر کیا، جو کہ پیغمبر اسلام کا لہجہ تھا۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ دوسرے نسخے جو لوگوں نے بطور خود لکھے، وہ ان کو حکومت کے حوالے کر دیں۔ چنانچہ ان کو جمع کر کے نظر آتش کر دیا گیا۔ اس طرح قرآن کو لکھاوٹ یعنی نوشت و کتابت کی حد تک ایک بنا دیا گیا۔

تاہم فطری اختلاف کی وجہ سے سارے لوگ ایک طرح قرآن کو پڑھنے پر قادر نہ ہو سکتے تھے، اس لیے لوگوں کو آزادی دے دی گئی کہ سات طریقوں یعنی متعدد لب و لہجے میں پڑھ سکتے ہیں۔ صدیق اکبر کا جمع قرآن انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ایک سال بعد انجام پایا تھا۔ عثمانی مصحف کی ترتیب آپ کی وفات کے 15 سال بعد ہوئی۔ تیسری صدی کے مشہور صوفی اور عالم حارث محاسبی کا قول اتخان میں سیوطی نے نقل کیا ہے: وقال الحارث المحاسبی المشہور عند الناس ان جامع القرآن عثمان ولیس کذلک انما حمل عثمان الناس علی القراءت بوجہ واحد الاتقان فی علوم القران جلد ایک صفحہ 211۔

لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت عثمان جامع قرآن ہیں، حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ انہوں نے صرف یہ کیا کہ لوگوں کو قرآن کی ایک قرات پر جمع کر دیا۔ بعض لوگوں نے تفنن تبع یا عناد کے طور پر اس قسم کی باتیں مشہور کیں کہ حضرت عثمان نے قرآن میں تحریفات کر ڈالی، مثلاً قرآنی آیت وقفہم انہم مسعولون سورہ نمبر 37 آیت 24 کے آخر میں عن ولایت عن ولایت علی کے الفاظ تھے، جنہیں عہد عثمانی میں بالقصد قرآن سے خارج کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے مضحکہ خیز بات مشہور کی کہ ولایت کے نام سے ایک مستقل سورہ قرآن میں تھی، جس میں اہل بیت کے اسماء اور ان کے حقوق وغیرہ کا تفصیلی ذکر تھا۔

اس کو قرآن سے نکال دیا گیا۔ اس قسم کی باتیں قطعا بے بنیاد ہیں۔ انا علینا جمعہ سورہ نمبر 75 آیت 17 شیعہ و سنی دونوں کے نزدیک بالاتفاق قرآن کی آیت ہے۔ پھر قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہوئے کیسے کوئی شخص اس قسم کی بے بنیاد باتوں کو مان سکتا ہے؟

مشہور شیعی عالم علامہ طبرسی نے لکھا ہے: فاما زیادۃ فیہ فمجمع علی بطلانہ واما النحسان منہ فقد روا جماعت من اصحابنا وقوم من الحشوی من حشویۃ العامت ان فی القر ان فی القران تغییرا ونحسانا والصحیح من مذہب اصحابنا خلافہ تفسیر الطبرسی جلد ایک صفحہ 42 تا 43 قرآن میں اضافہ یعنی شیعہ و سنی دونوں کے اجماع سے غلط ہے، باقی کمی تو بعض شیعوں سے اور عامہ کے حشویہ یعنی اہل سنت کے محدثین سے اس کا دعویٰ منقول ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ یہ بھی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی بھی محققین نے اس قسم کے دعوے نہیں کیے، یہ موقع پرستوں کے شوشے تھے جو انہوں نے سیاسی مقصد کے لیے وضع کیے۔ اہل بیت کی فضیلت کی ساری موضوعات اس لیے گھڑی گئیں تاکہ ان کے لیے خلافت کا استحقاق ثابت ہو جائے۔ مثلاً ایک غیر معروف شخص محمد ابن جہم الہلالی تھے، انہوں نے امام جعفر صادق کی طرف منسوب کر کے یہ مشہور کیا کہ قرآن قرآنی آیت امت ہی اربع من امت سورہ نمبر 16 آیت 92 میں تحریف کی گئی ہے۔

اصل الفاظ تھے: ائمۃ ائمۃ ہی ازکا من ائمتکم الکافی للکلینی جلد ایک صفحہ 992 صفحہ 292 یعنی ہمارے بنی ہاشم کے ائمہ و حکمران بنی امیہ کے حکمرانوں سے بہتر ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت عثمان نے 25 ہجری میں حفصہ بنت عمر کے پاس سے مصحف صدیقی منگوایا۔ اس وقت قرآن کے کاتب اول زید ابن ثابت انصاری موجود تھے، ان کی رہنمائی میں آپ نے 12 آدمیوں کی جماعت مقرر کی۔ انہوں نے صدیقی نسخے کی بنیاد پر قرآن کی سات نخلیں تیار کیں۔

پھر یہ نسخے تمام اسلامی ملکوں میں بھیج دیے گئے۔ حضرت عثمان نے حکم دیا کہ اس اس کے سوا جتنے مصاحف لوگوں نے بطور خود لکھ لیے ہیں، وہ سب جلا دیے جائیں۔ المصاحف لابن ابی داؤد صفحہ 91 ایک نسخہ انہوں نے دارالسلطنت مدینے میں رکھا اور اس کا نام الامام رکھا اور بقیہ ہر گوشہ مملکت میں بھیج دیا۔ المصاحف لابن ابی داؤد صفحہ 90 مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ، کوفہ میں سے ہر جگہ ایک ایک نسخہ بھیجا۔

یہ مصحف بعد کی صدیوں میں انتہائی صحت کے ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ وہ دور پریس میں پہنچ گیا، جس کے بعد کسی ضیاء یا یا تغیر کا کوئی سوال نہیں۔ اس ابتدائی نسخے کے ساتھ بعد کے نسخوں کی مطابقت کا کتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے؟ اس کی دو چھوٹی سی مثال لیجئے: سورہ المومنون سورہ نمبر 23 کی آیت 108 میں قال الف کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ یہی لفظ اسی سورہ کی اگلی آیت 112 میں قال یعنی بغیر الف لکھا گیا ہے۔

گویا ابتدائی مصحف میں جو لفظ جس شکل میں لکھا ہوا تھا، ٹھیک اسی طرح اس کو لکھا جاتا رہا، خواہ ایک ہی لفظ دو جگہ دو املا کے ساتھ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح سورہ قیامہ کی آیت وقیلا من کے بعد قاری تھوڑی دیر وقفے کے لیے ٹھہرتا ہے، پھر راق پڑھتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ہلکا وقف کیا تھا۔ قرآن میں اس طرح کے دوسرے متعدد مقامات ہیں، مگر کبھی قرآن پڑھنے والوں کو یہ خیال نہیں ہوا کہ بطور خود دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح وقفہ کر وقفہ دے کر پڑھنا شروع کر دیں۔

آج جو قرآن مسلمانوں کے درمیان رائج ہے، اس کی صحت میں کسی فرقے کا کوئی اختلاف نہیں، حتیٰ کہ محقق شیعہ علماء بھی اس معاملے میں متفق ہیں۔ مشہور شیعہ عالم ابو عبداللہ الزنجانی وفات 1941 نے اپنی کتاب تاریخ القرآن میں نقل کیا ہے کہ علی ابن موسی المعروف بی ابن طاؤوس 500 99 تا 664 ہجری جو محقق شیعہ علماء میں سے ہیں، انہوں نے اپنی کتاب سعد السعود میں شہرستانی سے نقل کیا ہے، جو انہوں نے اپنی تفسیر کے مقدمے میں سوید ابن القمہ سے روایت کیا ہے۔ عن سوید ابن القمۃ قال سمعت علی ابن ابی طالب علیہ السلام یقول ایہا الناس اللہ اللہ ایاکم والغلو فی امر عثمان وقولکم حرا قل مصاحف فواللہ ما حرقہ الا عن مل من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمع وقال ما تقولون فی القراءت الناس فیہا یلق الرجل فیقول قراءت خیر من قراءتک وھذا یجر الی الکفر فقلنا قال ارید ان اجمع الناس علی مصحف واحد فانکم ان اختلفتم اليوم کان من بعدکم اشد اختلافا فقلنا نعم ما رايت تاریخ القرآن لابی عبداللہ الزنجانی مؤسسہ ہنداوی 2016 صفحہ 74 وہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی ابن ابی طالب کو یہ کہتے ہوئے سنا اے لوگو اللہ اللہ عثمان کے معاملے میں غلو سے بچو یہ نہ کہو کہ انہوں نے مصاحف کو جلایا خدا کی قسم انہوں نے نہیں جلایا مگر اس وقت کہ انہوں نے صحابہ کی جماعت کو اکٹھا کیا اور پوچھا کہ تم قرآن میں اختلاف قرات کے بارے میں کیا کہتے ہو ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا ہے اور کہتا ہے میری قرات تمہاری قرات سے بہتر ہے اس قسم کی بات کفر تک جاتی ہے صحابہ نے کہا آپ کی کیا رائے ہے انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تمام لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دوں کیونکہ تم اگر آج اختلاف میں پڑ گئے تو تمہارے بعد لوگ اور زیادہ اختلاف میں پڑیں گے تمام صحابہ نے کہا ہاں آپ کی رائے سے ہم کو اتفاق ہے قرآن کا یہ ایسا وصف ہے جس کا معاندین تک نے اعتراف کیا ہے سر ولیم میور لکھتے ہیں محمد کی وفات کے ربع صدی محمد کی وفات کے ربع صدی بعد ہی ایسے مناقشات اور فرقہ بندیاں ہو گئیں جس کے نتیجے میں عثمان قتل کر دیے گئے اور یہ اختلافات آج بھی باقی ہیں مگر ان سب فرقوں کا قرآن ایک ہی ہے ون قرآن ہیز بین کرنٹ امونس امونس امونس دیم ہر زمانے میں یکساں طور پر سب فرقوں کا ایک ہی قرآن پڑھنا اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ آج ہمارے سامنے وہی مصحف ہے جو اس بدقسمت خلیفہ یعنی عثمان کے حکم سے تیار کیا گیا تھا شاید پوری دنیا میں کوئی دوسری ایسی کتاب نہیں ہے جس کی عبارت 12 صدیوں تک اس طرح بغیر تبدیلی کے باقی ہو دیر از پراببلی ان دا ورلڈ نو ادر ورک وچ ہیز ریمینڈ 12 سینچریز ود سو پیور ٹیکسٹ دا لائف اف محمد فرام اوریجنل سورسز سر ولیم میور ایڈنگ برگ 1923 پیج 12 ٹو 23 لین پول نے اس حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے قرآن کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی اصلیت میں کوئی شبہ نہیں ہر حرف جو ہم آج پڑھتے ہیں اس پر یہ اعتماد کر سکتے ہیں کہ تقریباً 13 صدیوں سے غیر مبدل رہا ہے سلیکشن فرام دی قرآن دی باچا جرمن محقق وین ہیم غیر مسلم مستشرقین کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں ہم قرآن کو محمد کا کلام اسی طرح یقین کرتے ہیں جس طرح مسلمان اس کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں اعجاز التنزیل صفحہ 500 عہد عثمانی تک قرآن کے جتنے نسخے لکھے گئے وہ سب خط خط حیری میں تھے خط حیری میں تھے حضرت علی کے زمانے میں خط کی اصلاح ہوئی اور خط کوفی وجود میں آیا جو سابق خط کی ترقی یافتہ شکل تھا حضرت علی کے ندیم خاص ابو الاسد الدولی 69 ہجری نے پہلی بار اس خط کو بنایا اور پھر بنی امیہ کے عہد میں اس کو مزید ترقی ہوئی قرآن میں اعراب لگانے کا آغاز بھی ابو الاسد الدولی نے حضرت علی کے عہد میں کیا اخبار النحویین البصریین للسرافی صفحہ 13 اسی کی بنیاد پر حجاج بن یوسف نے بعد کو قرآن کے باقاعدہ معرب نسخے تیار کرائے آج تک قرآن ٹھیک اسی نہج پر لکھا جا رہا ہے کتاب عظمت قرآن مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 98.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.